دھر نے کو ہلکا نہ لیں
18 اکتوبر 2019 2019-10-18

مولانا فضل الرحمن کے اعلان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام اور دیگر سیاسی پارٹیوں کا اسلام آباد میں دھرنا سر پر آن پہنچا ہے۔ بقول موجودہ حکومت کے اس وقت جبکہ ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوطی پکڑ رہی ہیں ملک میں دھرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا واقعی اس وقت جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہورہی ہیں یا یہ راستے فاشزم کی جانب گا مزن ہیں۔ اپنے احساسات کی ترجمانی کی آزادی جمہوریت کا بنیادی اصول ہے۔ اسی اصول پہ زور دیتے ہوئے عمران خان کی سیاسی پارٹی نے 2014ء میں علامہ طاہر القادری کی سیاسی پارٹی پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ مل کر 126 دن کا طویل دھرنا اسلام آباد ہی میں دیا تھا۔ تب عمران خان نے بطور عوام کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے بجلی کے بل نذر آتش کیے تھے۔ سیدھا سا سوال ہے کہ اگر عوام کے احساسات کی ترجمانی کے نام پر عمران خان اور علامہ طاہر القادری کا چار ماہ سے طویل دھرنا جائز ہوسکتا ہے تو مولانا فضل الرحمن کا دھرنا کس اصول کی بنیاد پر ناجائز ہوسکتا ہے؟ سیدھی سیدھی عوام کی بات کریں تو موجودہ حکومت عوام کی حالت زار بہتر کردینے کے وعدے پر معرضِ وجود میں آئی تھی اور یہ حالت تین ماہ کے اندر اندر ٹھیک کردینے کی بات کی تھی۔ پھر کہا کہ ایک سال تو پورا ہونے دو عوام کے خواب حقیقت میں بدل جائیں گے۔ لیکن ہوا کیا؟ مہنگائی کچھ یوں بے لگام ہوئی کہ سبزی ترکاری کی قیمتیں جو ہمیشہ عوام کی پہنچ میں رہی تھیں، وہ پکڑائی دیتی نظر نہیں آ تیں۔ اگر اوسطاً کی بھی بات کی جائے تو کوئی سبزی 120 روپے کلو سے کم نرخ پر دستیاب نہیں۔ غضب خدا کا کہ ٹینڈے جیسی غیرمقبول سبزی 160 روپے سے کم پہ دستیاب نہیں۔ بجلی کے بل جن کی ادائیگی 2014ء سے پہلے عوام کی پہنچ سے باہر تھی اور اسی بنا پر بطور احتجاج انہوں نے وہ نذر آتش کیے تھے، آج ان کے نرخوں میں ماہانہ بنیادوں پہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ کیا اب عوام کو حق نہیں پہنچا کہ اس پہ احتجاج کریں؟ اور آج بات بات پہ قانون اور ضابطے کی گرفت کا عالم کچھ یوں ہے کہ ہیلمٹ نہ پہننے پہ 1000 روپے جرمانہ، غلط جگہ گاڑی پارک کرنے پر 1000 روپے جرمانہ، ممنوعہ جگہ سے گاڑی کے داخلے پر 1000 روپے جرمانہ، بائک پر تین افراد کو بٹھا کر چلا نے پر 2000 جرمانہ، پلاسٹک کے ہیلمٹ پہننے پر 5000 روپے جرمانہ۔ اس کے برعکس ملاحظہ ہو کہ سڑکوں اور گلیوں کی حالت اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے جارہی ہے کہ جابجا گڑھے موجود ہیں ، کوئی بھی ذمہ دار نہیں۔ ناکارہ سگنل لائٹس کوئی بھی ذمہ دار نہیں۔ سڑکوں پر سیاسی فلیکس بینرز کا کوئی بھی ذمہ دار نہیں۔ سڑکوں پر ابلتی ہوئی کچرا کنڈیوں کا کوئی بھی ذمہ دار نہیں۔ سڑکوں پر روشنی کی غیرموجودگی کا کوئی بھی ذمہ دار نہیں۔ ان حالات میں بھی اگر جمہوریت ہے تو عوام احتجاج نہ کریں تو کیا کریں؟ تاجر حضرات بڑ ے لوگ ہیں، جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے لیے حالات ابتر ہوئے جارہے ہیں تو وہ آرمی چیف سے جاکر ملاقات کرآئے۔ لیکن بے چارے، عوام غربت کی چکی میں مسلسل پسے چلے جانے کی بناء پر احتجاج ہی تو کرسکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال انتہائی منفی حالات پیدا کردینے کا باعث بن سکتا ہے۔ یاد دلادوں کہ 2014ء کے دھرنوں کو مفلوج کردینے کی غرض سے اس وقت کے وزیرداخلہ چودھری نثار نے وزیراعظم میاں نوازشریف سے طاقت کے استعمال کی اجازت چاہی تھی۔ لیکن میاں صاحب نے طاقت کے استعمال سے روک دیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اس صورت میں دھرنا دینے والی قوتیں مظلوم بن کر سامنے آسکتی ہیں اور ہماری قوم فطرتاً مظلوم کے ساتھ کھڑی ہونے والی قوم ہے۔ پھر مولانا کے دھرنے میں یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ ایک انتہائی منظم اور تجربہ کار جماعت کا دھرنا ہوگا۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ حکومت کی مسلسل غلطیوں کی بنا پر اسے عوام کی حمایت مسلسل حاصل ہوئے جارہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پھر صنعتوں پر لگے ہوئے تالوں کی بناء پر بیروزگاری میں مسلسل اضافہ اسے عوامی احتجاج کا رنگ دیتا ہوا نظر آرہا ہے۔

اور پھر اس دھرنے کو ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت نہ صرف حاصل ہے بلکہ قومی امکان موجود ہے کہ وہ اس میں شرکت بھی کریں گی۔ اور پھر ایک انوکھا نکتہ یہ کہ اسلام آباد کا موسم اس دھرنے کے لیے انتہائی سازگار ہوگا۔ نہ گرمی ہوگی، نہ سردی۔ متعد ل مو سم گھروں اور عمارتوں سے باہر زندگی کو آسان بنادے گا۔ 2014ء کے دھرنے اور اس دھرنے میں ایک بڑا فرق یہ ہوگا کہ وہ ایک ہجوم کا دھرنا تھا جبکہ یہ ایک انتہائی منظم جماعت کا دھرنا ہوگا۔ حکومت کے لیے اب بھی وقت ہے کہ اس دھرنے کو ہلکا نہ لے۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو بے شک یہ اچھی بات ہے کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ لیکن صاف نظر آرہا ہے کہ فوج اس دھرنے میں مکمل طور پر غیر جا نب رہے گی۔ فوج کے نزدیک یہ سب اتار چڑھاؤ سیاسی عمل کا حصہ ہے اور وہ سیاسی عمل کو آزاد دیکھنا چاہتی ہے۔ یہ وہ مثبت سچائی ہے جس کا ادراک حکومت اور اپوزیشن کو ہونا ضروری ہے۔ اس پہ کلام نہیں کہ پچھلی سیاسی حکومتیں درست تھیں یا نہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ انہوں نے احتجاج اور سیاسی تحریکوں کو کبھی ہلکا نہیں لیاتھا ۔ ان کی اولین کوشش ہمیشہ یہ رہی کہ ان تحریکوں کا کوئی نہ کوئی سیاسی حل تلاش کرلیا جائے۔ جبکہ موجودہ حکومت نے غلطی یہ کی کہ شروع دن سے کوئی مصالحت کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے خم ٹھونک کر میدان میں سامنے آگئی۔ گو غلطی کا احساس اب بھی مکمل طور پر نہیں ہوا، لیکن دبے دبے لفظوں میں مذاکرات کی پیشکش کردی ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ اس مقابلے میں عوام ایک اہم فریق ہیں اور اب یہ فریق اپنا وزن دھرنے کے پلڑے میں ڈالتا نظر آرہا ہے۔ چنانچہ اپنے حق میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے حکومت کو اس ملک کے عوامی مسائل پہ توجہ دینے کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ فی الحال اگر یہ دھرنا حکومت ٹال دینے میں کامیاب بھی ہوجاتی ہے تو بھی مستقبل میں اس طرح کے دھرنوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ حکومت ٹھنڈے دل سے اور خلوصِ نیت کے ساتھ عوام کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اب یہ عیاں ہوچکا ہے کہ عوام فردا کے وعدوں پہ ٹلنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ وہ اپنے مسائل کا فوری اور مستقل حل چاہتے ہیں۔ ٹھیک ہے کپتان عمران خان کی سٹریٹیجیز کرکٹ کے میدانوں میں کامیاب رہی ہوں گی۔ وہاں بائونسرز وغیرہ حکمت عملی کا حصہ ہوسکتے ہیں مگر ملکی سیاست میں حکومت میں ہوتے ہوئے دفاعی پوزیشن کی اہمیت کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ تو پھر اب حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟ وہ یہ کہ فوری طور پر اپنی بائونسر پھینکنے کی حکمت عملی کو ترک کرے اور دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کو مذاکرات کی میز پہ آ نے کی نہ صرف دعوت دے بلکہ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کا عزم کرے۔


ای پیپر