لانگ مارچیوں کا مقصد…
18 اکتوبر 2019 2019-10-18

جب سے مولانا فضل ارحمان نے دھرنے کا اعلان کیا ہے تو میرے ذہن میں ایک بار پھر سے 2014ء کے دھرنے کے واقعات گردش کرنے لگے ہیں جب درجنوں خاکروب فضلاء اور کچرا اٹھا اٹھا کر تھک گئے تھے۔ ان والدین کی بے بسی جو موسمِ گرما کی چھٹیوں کے بعد بچوں کو سکول بھیجنا چاہتے تھے لیکن انقلابی کیفیت کی وجہ سے اپنی اولاد کا قیمتی وقت ضائع ہوتے ہوئے بے بسی سے دیکھتے رہے۔ تاجروں، ریڑھی والوں اور مزدوروں کی بے بسی جن کے کاروبار اور دیہاڑیاں اس دھرنے کی نظر ہوئے۔ یہی ایک بار پھر ہونے کو جا رہا ہے اب تو تشدد بھی ہو گا کیونکہ مولانا نے تو ڈنڈے بردار فورس سے گارڈ آف آنر بھی لیا۔ ایک بار پھر سے ٹی وی اینکر اپنی سحر انگیز گفتگو سے معاملات کو بڑھاوا دینے کی کوشش میں ہیں، بالخصوص رینکنگ کی دوڑ میں اپنے چینلز کو اوپر لیجانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے میں مگن ہیں۔ ٹی وی کا اور کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو یہ یقیناً ہوا ہے کہ آپ ہر چیز کو اپنی مرضی سے بیان کر سکتے ہیں۔ جمہوریت کی آبیاری کے نام پر ایک بار پھر سے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مذہب کے نام پر گالیاں نکالی جائیں گی، جان سے مارنے کی دھکیاں دی جائیں گی، املاک کا نقصان کیا جائے گا۔ اور وقت بھی ایسا کہ ہندوستان نے ہماری شہ رگ پر بزورِ طاقت قبضہ کیا ہوا ہے، ہمارا پانی روکنے کا اعلان کیا جا رہا ہے، ہم پر حملے کے لئے آئے روز دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس سے جناب مولانا کو کئی غرض نہیں ہے انہیں تو صرف عمران خان کو نیچا دکھانا ہے۔ انہیں اپنی ہار کا بدلہ غیر جمہوری طرزِ عمل سے لینا ہے۔ جن کے آباؤ اجداد اس ملک کے قیام کے مخالف تھے آج پھر وہ نجانے کس کے ایجنڈے پر ایک بار پھر سے اپنے بزرگوں کے فرمان کے نہ مانے جانے کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ دنیا وطنِ عزیز کو ثالث بنانے پر بضد اور وزیرِ اعظم اس کوشش میں پریشان کہ مسلم امہ کے دو اہم ممالک ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی کو کیسے کم کیا جائے۔ پاکستان کے عوام میں شدت سے یہ احساس پایا جاتا ہے کہ برادر اسلامی ممالک کے باہمی تنازعات کا حل مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے نکلنا چاہئے۔ جب کہ لانگ مارچیوں کا مقصد ہے کہ ملکی لٹیروں کو احتساب کے شکنجے سے بچایا جائے اور عمران خان کو کام نہ کرنے دیا جائے کہ کہیں خیبر پختونخواہ کی طرح پورے ملک میں ان کی مقبولیت نہ بڑھ جائے۔ یہ کس قسم کی سیاست ہے اور کیا نظریہ ہے کہ حکومت ضیاء الحق کی ہو یا مشرف کی، پیپلز پارٹی کی ہو یا مسلم لیگ (ن) کی مولانا کی سوچ سب سے ملتی ہے اور حکومتی عہدوں کے عوض مولانا صاحب کی تائید شامل ہو جاتی رہی۔کہتے ہیں سیاست میں سب کچھ بھول جایا کرتا ہے اسی لئے پیپلز پارٹی بھول چکی ہے کہ پاکستان قومی اتحاد کے روحِ رواں بھی اسی پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار تھے جنہوں نے ان کے بانی کو پھانسی کی بھینٹ چڑھوا کر ملک کو ایک عظیم لیڈر سے محروم کر دیا۔ظاہر ہے مفادات کے بر آنے کے دنوں میں ایسی فروعی باتوں پر توجو کیوں مبذول کرنی چاہئے۔

مولانا نے جس لانگ مارچ کے لئے 27 اکتوبر کی تاریخ کا اعلان کیا ہے اس کا مقصد صرف حکومت گرا کر عمران خان کو رخصت کرنا ہے۔ الزامات کی فہرست کے مطابق دھاندلی ہوئی ہے، حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، مہنگائی عروج پر ہے، بیروزگاری میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، غریب آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان مسائل کا حل کیا ہے اور مولانا فضل الرحمان اور ان کے اتحادیوں کے پاس غربت مٹانے کا کیا منصوبہ ہے؟ وہ عوام کو اس مشکل سے کیسے نکال پائیں گے۔ یہ بھی عین توقعات کے مطابق ہے کہ میاں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی حمایت کی ہے ۔ میاں نواز شریف کو اپنی اشرافیائی پارٹی کی کمزوریوں کا بخوبی علم ہے کہ وہ احتجاج کی سیاست کرنے کے اہل نہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے پارلیمانی ارکان سخت موقع پرست ہیں اور ان میں صلاحیت ہی نہیں کہ ایک مضبوط اور فعال حزب اختلاف بن سکیں۔ ایسی صورت میں اگر حکومت پر دباؤ ڈالنا ہو تو ان کے پاس صرف یہی آپشن رہ جاتا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کا سہارا لے لیں۔ اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ مولانا کا لانگ مارچ یا دھرنا بہت زیادہ نہیں چلے گا بلکہ جلد ہی اختتام پزیر ہو جائے گا کیونکہ وہ احتجاجی سیاست کے قائل ہی نہیں ہیں۔ امکان یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس حوالے سے میاں نواز شریف کے پابند بھی نہیں ہوں گے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) والے لانگ مارچ اور دھرنے کی شکل میں حکومت گرانا چاہتے ہیں دوسری طرف لیکن ناکامی کے مضمرات سے بھی ڈرتے ہیں۔ در پردہ ان کی خواہش ہے کہ ان کی شمولیت کے بغیر ہی مطلوبہ مقاصد پورے ہو جائیں اور حکومت کمزور ہونے پر ان کے پابندِ سلاسل لیڈروں کو کچھ ریلیف مل جائے۔ در پردہ رابطوں کے نتیجے میں اگر کچھ ریلیف مل گیا تو وہ بھی مولانا سے آنکھیں پھیر لیں گے۔ مذکورہ دونوں پارٹیاں ہوا کا رخ دیکھ رہی ہیں، کامیابی کے آثار نظر آئے تو ایک دم سے احتجاج میں شامل ہو جائیں گی دوسری صورت میں ادھر ادھر ہو جائیں گی۔ بہتر یہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور سیاست دانوں کے حضور دست بستہ عرض ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلیں اس سے عوام کے بہت سے غم تھم بھی جائیں گے۔ وہ تو پہلے ہی ایک سے بڑھ کر ایک روگ میں ہیں۔


ای پیپر