ابرار فہدکی مظلومانہ شہادت!
18 اکتوبر 2019 2019-10-18

7اکتوبر 2019ء کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں انجینئرنگ یونی ورسٹی کے سال دوم کا طالب علم ابرار فہد جس بے دردی سے شہید کیا گیا اس کی مذمت کے لیے کسی زبان میں شاید ہی الفاظ مل سکیں۔ یوں تو بنگلہ دیش میں ریاستی جبروتشدد اور حکمران پارٹی کے دہشت گرد غنڈوں کے ہاتھوں ہر روز بے گناہوں کا خون بہایا جاتا ہے اور بے شمار لوگوں کو بلاسبب گرفتار کرکے غائب کردیا جاتا ہے، مگر اس بہیمانہ واقعہ سے پوری دنیا میں ایک ہلچل مچ گئی ہے۔ ابرار فہد کا جرم کیا تھا؟ وہ ایک عام سا طالب علم تھا، جس کی عادات شریفانہ اور حب الوطنی کی عکاس تھیں۔ اس کے ساتھ وہ ملت اسلامیہ کے سلگتے مسائل پر بھی نظر رکھتا اور اپنے مافی الضمیر کے مطابق ان پر تبصرہ کرتا تھا۔ نہ کسی پر ہاتھ اٹھاتا، نہ کسی سے کوئی جھگڑا کرتا۔ اس شریف النفس نوجوان کو 21سال کی عمر میں حکمران پارٹی عوامی لیگ کے سٹوڈنٹ ونگ چھاترالیگ کے غنڈوں نے بانس کے ڈنڈوں اور کرکٹ کی وکٹوں سے مار مار کر ہلاک کردیا۔

ابرار پر الزام یہ تھا کہ اس نے اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ ڈالی تھی، جس میں بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے حالیہ دورۂ بھارت کے دوران بھارتی حکمرانوں سے کیے گئے معاہدوں پر تنقید کی گئی تھی۔ اس معاملے میں وہ اکیلا نہیں، پوری بنگلہ دیشی قوم کے اہلِ نظر تنقید کررہے ہیں۔ ان معاہدوں کے خلاف سب سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں احتجاج بھی کررہی ہیں۔ پہلا معاہدہ یہ ہے کہ دریائے فینی کا پانی انڈیا روک لے گا۔ اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کو بدترین قحط سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسرے معاہدے میں چٹاگرام اور مونگلہ کی بندرگاہیں بھارت کے استعمال میں ہوں گی۔ اسی طرح ایل پی جی انڈیا کو دینے کا جو معاہدہ حسینہ واجد نے مودی کے ساتھ کیا ہے وہ بھی بنگلہ دیشی مفادات کے خلاف ہے۔ اس پر صرف ابرار فہد ہی نے تنقید نہیںکی، بڑی اپوزیشن پارٹی بی این پی کی احتجاجی ریلی میں پارٹی لیڈر کھنڈکر مشرف حسین نے اس سے بھی سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کو مودی کے ہاتھ گروی رکھ دیا ہے۔ قوم کی غیرت وآزادی کا سودا کرکے اس نے ملک وقوم کو ذلیل کیا ہے۔

ابرار فہد نے مختلف اوقات میں کشمیر میں ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کے علاوہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی حکومت کے ظلم وتشدد پر بھی تنقید کی۔ اپنی آخری فیس بک پوسٹ کے آخر میں اس نے معروف بنگالی ہندو شاعرہ کامینی رائے (1864ء-1933ء) کے اشعار سے چار مصرعے نقل کیے۔ بنگلہ دیش انجینئرنگ یونی ورسٹی ڈھاکہ کے چھاترالیگ (عوامی لیگ کا سٹوڈنٹ ونگ) کے لیڈرز نے 7؍اکتوبر کو اسے شیربنگال ہال (ہاسٹل) میں اس کے کمرہ نمبر1011 سے شام کے وقت گھسیٹ کر باہر نکالا اور کمرہ نمبر2011 میں لے آئے۔ یہاں اسے بے دردی کے ساتھ پیٹنا شروع کیا۔ وہ منتیں کرتا رہا کہ اسے معاف کیا جائے، اس نے کوئی قابل گرفت جرم نہیں کیا، مگر غنڈوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ یونی ورسٹی اور اس کے ہاسٹلز میں چھاترا لیگ کے غنڈوں کا ایسا قبضہ ہے کہ ان کے مظالم کے خلاف کوئی پر بھی نہیں مار سکتا۔ ابرار بے چارا کسی طلبہ تنظیم سے وابستہ نہیں تھا۔ وہ نہایت سادہ، شریف النفس اور ذہین طالب علم تھا۔ نہ کسی سے جھگڑا، نہ گالی گلوچ۔ اپنی پڑھائی پر توجہ رکھتا اور قومی وملی امور پر اپنی سوچ کے مطابق اپنی رائے کا اظہار فیس بک پر کردیتا۔

عوامی لیگ کے رہنماؤں اور بعض پولیس افسران نے ابرار فہد کے اسلامی چھاتروشبر (اسلامی جمعیت طلبہ) اور اس کے خاندان کے جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے تعلقات کی جھوٹی خبریں بھی چلا دیں۔ جماعت کی قیادت نے بروقت اس کی تردید کی اور بنگلہ دیش کے بہت سے دانش وروں اور مضمون نگاروں نے بھی اس پراپیگنڈے کو یکسر بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیا۔ ان غیر جانب دار دانش وروں کی طرف سے یہ ثبوت بھی پیش کیے گئے کہ ابرارفہد کے والد برکت اللہ کشتیا میں عوامی لیگ کے لیڈر محبوب العالم حنیف کے ہمسائے اور عوامی لیگ کے ہمدرد ہیں۔ موصوف پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ اور آڈیٹر ہیں۔ ایک انٹرنیشنل تنظیم BRAC ’’بلڈنگ ریسورسز ایکراس کمیونیٹیز‘‘ میں آڈیٹر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ شہید کی والدہ رقیہ خاتون ایک معروف کنڈرگارٹن سکول میں معلمہ ہیں۔ شہید کا چھوٹا بھائی ابرار فیاض ڈھاکہ کالج میں ایف ایس سی سال دوم کا طالب علم ہے اور شیربنگال ہال کے قریب ڈھاکہ کالج کے ہاسٹل میں مقیم ہے۔ اپنے مظلوم بھائی کی شہادت پر اس نوعمر طالب کے اوسان خطا ہوگئے۔ آپ اندازہ کیجیے کہ پورے خاندان پر کیا گزری ہوگی۔ ابرار فہد کی والدہ نے اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد بتایا کہ ہر روز رات کے وقت موبائل پر اپنے بیٹے سے بات ہوجاتی تھی۔ اس رات بار بار فون کیا، مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ اگلے روز یہ اندوہناک خبر موصول ہوئی۔

سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی پارٹی بی این پی کی اعلیٰ قیادت شہید کے والدین سے تعزیت کرنے کے لیے ڈھاکہ سے کشتیا گئی، مگر حکومت نے ان کو روک دیا کہ وہ تعزیت نہیں کرسکتے۔ وجہ یہ بتائی کہ اس کے نتیجے میں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل یونی ورسٹی آف انجینئرنگ ڈھاکہ کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر سیف الاسلام شہید کے گھر گئے تو کچھ لوگوں نے مطالبہ کیا کہ مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ پولیس افسران نے بی این پی کے وفد کو روکنے کے لیے یہ عذر لنگ پیش کیا کہ حالات بگڑ سکتے ہیں۔ شہر کے باہر لولان شاہ پل کے ٹال پلازہ پر وفد کو روک کر راستہ بند کردیا گیا۔ خالدہ ضیاء کے مشیر امام اللہ امان اور سابق ممبر پارلیمنٹ سیدمہدی احمدرومی بھی اس وفد میں شامل تھے۔ بی این پی کے لیڈروں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عوامی لیگ حکومت کس طرح اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے اور ساتھ بنیادی حقوق غصب کرنے کا جرم کس ڈھٹائی کے ساتھ اس ملک میں جاری ہے۔

عوامی لیگ کی حکومت نے بنگلہ دیش میں ظلم کی ایک طویل داستان رقم کی ہے، جو ابھی ختم ہوتی نظر نہیں آرہی۔ مقتول کے والد نے مجرموں کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کرائی، جس میں 19 مجرموں کو نامزد کیا گیا۔ پوری معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ایک بڑے سرغنہ امیت سہا (Amit Saha) کا نام شامل نہ ہوسکا۔ اس کے علاوہ بھی بعض ملزمان کے نام رہ گئے۔ بہرحال امیت سہا اور تین دیگر ملزمان پولیس نے گرفتار کرلیے ہیں جن کے نام پرچے میں درج نہ ہوسکے۔ اب تک 18 ملزم گرفتار ہوچکے ہیں، جبکہ نامزد ملزمان میں سے پانچ ابھی تک مفرور ہیں۔ بنگلہ دیش میں حکومت کی سرپرستی جن کو حاصل ہو، ان کے خلاف عدالتیں کوئی فیصلہ دینے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتیں۔ اس موقع پر سیدمودودیؒ کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں جو انھوں نے اکتوبر 1963ء میں بھاٹی گیٹ میں اپنے کارکن الٰہ بخش شہید کی شہادت پر فرمائے تھے، جن کا مفہوم یہ ہے۔ ان عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں۔ ہم نے اس خون کا دعویٰ اس عدالت میں دائر کردیا ہے جہاں حق وانصاف کے فیصلے ہوں گے۔ مظلوم ابرار فہد کے قتل کا انصاف بھی اعدل العادلین کی عدالت ہی سے مل سکے گا۔

ابرار فہد ایک نہایت ذہین اور ہونہار طالب علم تھا۔ وہ ایک متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ گھرانے میں 13مئی1998ء کو پیدا ہوا۔ اس کا آبائی گاؤں کمارا کھالی ضلع کشتیا میں واقع ہے۔ اس نے کشتیا مشن پرائمری سکول اور کشتیا ڈسٹرکٹ سکول سے پرائمری اور میٹرک کیا۔ پھر اپنی ذہانت اور اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر سکالرشپ حاصل کرکے معروف تعلیمی ادارے (Notre Dame) کالج ڈھاکہ میں اسے داخلہ لیا۔ وہ ڈھاکہ تعلیمی بورڈ کے بیس ٹاپ سٹوڈنٹس میں سے تھا۔ ایف ایس سی میں بھی اس نے بہت اچھی پوزیشن حاصل کی اور اسے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انجینئرنگ اور میڈیکل میں ایڈمشن ٹیسٹ کے بعد داخلے کی پیش کش ہوگئی۔ اس نے اپنے والدین سے مشورہ کرکے بنگلہ دیش یونی ورسٹی آف انجینئرنگ آف ٹیکنالوجی میں الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانک انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لے لیا۔ اس وقت وہ بی ایس سیکنڈائیر کا سٹوڈنٹ تھا۔ اس کے چہرے پر چھوٹی چھوٹی خوب صورت داڑھی اور آنکھوں پر چشمہ اس کی خوب صورتی کو بڑھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چہرے سے شرافت ٹپکتی ہے اور اس کو جاننے والے سب اپنے مضامین میں یہی گواہی دے رہے ہیں کہ وہ انتہائی شریف النفس انسان تھا۔

معمولی درجے کے اس طالب علم کا قتل دل دہلا دینے والا ہے۔ اسی وجہ سے بنگلہ دیش کی تمام یونی ورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے طلبہ واساتذہ نے اس کی شہادت کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ ملک میں اب تک احتجاج جاری ہے کہ اظہار رائے پر انسانی جان کا قتل ظلم کی انتہا ہے۔ مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس دردناک واقعہ پر بنگلہ دیش میں یو این او کی نمایندہ Mrs Shepo نے مذمتی بیان جاری کیا۔ اسی طرح برطانیہ، فرانس اورکئی دیگر ممالک کے ہائی کمشنر اور سفیروں نے بھی اس درندگی کی مذمت کی۔ بنگلہ دیش حکومت نے ان تمام لوگوں کو بلا کر ان سے احتجاج کیا کہ انھوں نے یہ بیان کیوں جاری کیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت مظلوم کے ساتھ ہے یا ظالموں کی طرف دار ہے۔ رائے عامہ کے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد حکمران ٹولے کے علاوہ انڈیا کے خلاف بھی بنگلہ دیش میں عوامی نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔


ای پیپر