اگر ثالثی اور سہولت کاری سے فرصت مل گئی ہو تو
18 اکتوبر 2019 2019-10-18

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے قبل امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پوری دنیا کو خوش خبری سنائی تھی کہ گلوبل ویلج کے سرپنچ نے حکم دیا ہے کہ ایران ،سعودی عرب اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے وہ ثالث کا کردار ادا کریں۔جنرل اسمبلی میں شاندار خطاب کے بعد وطن واپسی پر اسلام آباد ہوائی اڈے پر کابینہ کے ارکان نے ان کا شاندار استقبال بھی کیا۔امریکا سے واپسی کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے حکم کی تعمیل کر تے ہو ئے پہلے ایران کا دورہ کیا۔پھر سعودی عرب چلے گئے۔معلوم نہیں کہ جس نے ثالثی کرنے کی پیش کش کی تھی ان کے ساتھ دوبارہ ملاقات کب ہو گی یا ان کو ایران اور سعودی عرب کے سربراہان کے ساتھ ملاقاتوںکے احوال سے مو اصلاتی رابطوں کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔عالمی تنازعات میں ثالثی پاکستان کے لئے فخر کی بات ہے لیکن یہ بھی سوچنا چاہئے کہ عالمی سطح پر ہماری اہمیت اور حیثیت کیا ہے؟کیا یہ حقیقت نہیں کہ گز شتہ ایک برس سے اسلام آباد ،امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات میں سہولت کار کا کردار بخوبی نبھا رہا ہے؟لیکن کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان طالبان کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر دستخط کرنے اور مزید بات چیت کو معطل کیا تو کیا انھوں نے ایک لمحے کے لئے سوچا ہو گا کہ اس مذاکرات میں سہولت کاری کرنے والا پاکستان ،اس غیر متوقع فعل پر ناراض بھی ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں گز شتہ ستر دنوں سے کرفیو ہے۔لیکن کیا ان ستر دنوں میں عالم کفر اور عالم اسلام میں سے کسی ایک ملک نے انڈیا کو کوئی دھمکی دی ہے کہ اگر اتنے دنوں میں انھوں نے مقبوضہ وادی سے کر فیو ختم نہیں کیا تو ہم ان کا بائیکاٹ کر یں گے؟ ابھی تک کسی بھی ملک نے دھمکی تو کیا ہلکے پھلکے انداز میں بھی یہ ہمت نہیں کی ہے۔اس کے بر عکس عالم اسلام کے سب سے بڑے ٹھیکدار نے وہاں مزید سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔عالمی تنازعات اور طاقت ور ملکوں کے درمیان ثالث یا سہولت کار وہی بن سکتا ہے جو خود عالمی طاقت ہو ۔وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ عالمی مسائل کو حل کرنے کی بجائے ملکی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیں۔ پہلے پاکستان کو عالمی سطح پر طاقت ور ملک بنائیں پھر عالمی تنازعات اور طاقت ور ملکوں کے درمیان مسائل کو حل کرنے کے لئے سہولت کار یا ثالث کا کردار ادا کریں۔

اگر عالمی ثالثی اور سہولت کاری سے فرصت ملی ہو تو چند چھوٹے چھوٹے مسائل اس ملک کے بھی ہیں جس کے وزیر اعظم عمران خان ہیں۔کوئی بھی ملک اس وقت تک عالمی سطح پر طاقت ور نہیں ہو سکتا جب تک وہاں کی پارلیمنٹ فعال نہ ہو ۔گز شتہ ایک سال سے ملک کی پارلیمنٹ غیر فعال ہے۔ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسی حکومت آئی ہے کہ جو پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے نہیں دے رہی ہے۔اس سے قبل حزب اختلاف پارلیمنٹ میں شور شرابہ کرتی تھی ۔حزب اختلاف کی کوشش ہوتی تھی کہ پارلیمنٹ میں ہلڑ بازی ہو ۔لیکن مو جودہ دور حکومت میں حکومتی وزراء حزب اختلاف سے زیادہ شورشرابہ کرتی ہے اور پارلیمنٹ کی کارروائی کو چلنے نہیں دے رہی ہے۔پارلیمنٹ میں حزب اختلاف سے زیادہ احتجاج حکومتی ارکان کر رہے ہیں۔اس وقت ملک سیاسی انتشار کا شکار ہے۔لیکن وزیر اعظم نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر دی ہیں۔حزب اختلا ف نے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے لیکن حکومت اس کو مذاق سمجھ رہی ہے۔وفاقی وزراء ،خیبر پختون خوا اور پنجاب کے حکمرانوں نے وہی رٹ لگا رکھی ہے کہ ہم طاقت سے روک دیں گے۔لیکن وزیر اعظم عمران خان ان سے یہ پوچھ کیوں نہیں رہے کہ جب آپ کو تمام طاقت اور حربے استعمال کرتے ہو ئے نہیں روکا گیا تھا تو آپ کیسے ان کو روک دیں گے؟اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ الیکشن کمیشن تقریبا غیر فعال ہو چکا ہے۔ دو ارکان سبکدوش ہو چکے ہیں ۔ کئی مہینے گزرنے کے بعد ابھی تک دستور کے مطابق ان کا تقرر نہ ہو سکا۔چیف الیکشن کمشنر بھی اسی سال فارغ الخدمت ہو جا ئیں گے۔ اگر بر وقت ان کا تقرر نہ کیا گیا تو الیکشن کمیشن جو ایک آئینی ادارہ ہے ،ایک دستوری بحران کا شکار ہو جائے گا۔خیبر پختون خوا میں گزشتہ کئی ہفتوں سے ڈاکٹرز احتجاج پر ہے۔مریض اور ان کے رشتہ دار شدید ترین کرب سے گز ررہے ہیں۔خیبر پختون خوا میں بلدیاتی نظام ختم ہو چکا ہے۔تا حال صوبائی حکومت آئینی مدت کے دوران بلدیاتی انتخابات کرانے میں ناکام ہے۔پنجاب میں ڈینگی سینکڑوں جانوں کو نگل چکا ہے۔ ڈینگی بخار میں مبتلا مریضوں کے لئے ہسپتالوں میں جگہ نہیں۔پنجاب میں بھی خیبر پختون خوا کی طرح بلدیاتی نظام غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔وزیراعظم کو عالمی ثالثی سے فرصت نہیں جبکہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے وزرائے اعلی حزب اختلاف کو دھمکیوں اور اسلام آباد کی طرف ان کے احتجاج کو روکنے کے لئے سرجوڑ کر بیٹھے ہیں۔وفاقی وزراء نے ان تمام دعوں سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے جو وزیر اعظم عمران خان انتخابی مہم کے دوران قوم سے کر چکے ہیں۔ابھی چند روز قبل فواد چوہدری نے خوش خبری سنائی ہے کہ چار سو ادارے بند کر رہے ہیں۔نوجوان روزگار کے لئے حکومت کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔تاجر کئی مہینوں سے احتجاج پر ہیں۔انھوں نے شنوائی نہ ہونے پر آرمی چیف سے کئی ملاقاتیں کی ہیں۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے چند روز قبل ہریانہ میں انتخابی مہم کے دوران پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ جو پانی پاکستان جارہا ہے اس پر ہریانہ اور راجھستان کے لوگوں کا حق ہے۔بھارت کے وزیرداخلہ امیت شاہ نے فیصلہ کن جنگ کی نوید سنائی ہے۔کیا ایسا ملک کہ جس کی پارلیمنٹ غیر فعال ہو ۔ وزیر اعظم آئینی امور کے حل کے لئے بھی حزب اختلاف کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار نہ ہو ۔جس ملک میں حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں نے دارالحکومت کی طرف احتجاج کا اٹل فیصلہ کیا ہو ۔جس ملک کے دو صوبوں میں بلدیاتی نظام غیر فعال ہواور صوبائی حکومتیں آئینی مدت میں انتخابات کرانے میں ناکام ہو ۔جس ملک کے دو صوبوں میں ڈاکٹرز احتجاج پر ہوں۔ جہاں روزانہ دسیوں لوگ ڈینگی بخار میں مبتلا ہو رہے ہوں۔جس ملک کی معیشت کے بارے میں پیشن گوئیاں ہو رہی ہوںکہ منزل ابھی بہت دور ہے۔جہاں پولیس اصلا حات،تعلیمی اصلاحات اور صحت اصلاحات کے نام پر اختیارات کی جنگ جاری ہو ۔جس ملک کو ما حولیاتی تبدیلی جیسے حساس مسئلے کا سامنا ہو ۔ادارے آئینی بحران کا شکار ہوں۔توانائی کا بحران ہو ۔معیشت عالمی اداروں اور دوست ممالک کے تحائف کا محتاج ہو ۔ماں کے پیٹ میں مو جود نطفہ بھی لاکھوں کا قرض دار ہو ۔آپ خود اندازہ لگائیں کہ اس ملک کے وزیر اعظم کو عالمی معاملات میں ثالثی یا سہولت کاری کی ضرورت ہے یا اس کو ملکی مسائل کے حل کے لئے صوبوں ، اداروں اور پارلیمانی جماعتوں کے درمیان ثالث یا سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہئے۔


ای پیپر