کیا ریاستی مشینری ناکام ہو گئی جو زمین نہیں چھڑا سکتی: چیف جسٹس سپریم کورٹ
18 اکتوبر 2018 (15:01) 2018-10-18

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے سندھ میں ہندو برادری کی اراضی پر قبضے کی تحقیقات کیلئے ایڈووکیٹ جنرل کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کہا کہ کیا ریاستی مشینری ناکام ہوگئی جو زمین پر قبضہ نہیں چھڑا سکتی ۔

جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں سندھ میں ہندو کمیونٹی کی اراضی پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ ہندو برادری کی اراضی پر قبضے ہوتے ہیں، سندھ حکومت تفصیل فراہم کرے، زمین پر قبضہ ہوا ہے تو ریاست کی ذمہ داری ہے واگزار کرائے، کیا ریاستی مشینری ناکام ہو گئی ہے قبضہ نہیں چھڑا سکتی ، کیا ریاستی مشینری ناکام ہوگئی جو زمین پر قبضہ نہیں چھڑا سکتی ۔عدالت نے ہندو برادری کی اراضی پر ناجائز قبضے کی تحقیقات کیلئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی سربراہی میں کمیٹی بنادی۔

سپریم کورٹ نے رمیش کمار اور محکمہ مال لاڑکانہ کے افسر کو کمیٹی میں شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں لاڑکانہ میں ہندو برادری کی اراضی پر قبضے کی رپورٹ دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہندو بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے ہم ہیں، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، قبضہ مافیا کی جانب سے ہندو اراضی پر قبضے کی شکایت ہے، سندھ حکومت نے قبضہ چھڑانے کے لیے اب تک کیا پیش رفت کی ہے؟ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ لاڑکانہ میں ہندو برداری کی 102ایکڑ اراضی ہے جس میں 48ایکڑ اراضی متنازعہ ہے، 2004میں ڈاکٹر بھگوان داس نے 48ایکڑ اراضی فروخت کردی۔


ای پیپر