Pakistan, dossier, irrefutable evidence, Indian terrorism, Shah Mahmood Qureshi
18 نومبر 2020 (13:07) 2020-11-18

پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے ناقابلِ تردیدشواہد پر مبنی ڈوزیئر جاری کیا ہے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے مشترکہ پریس کانفرنس میں دہشت گردوں کی سرپرستی،تربیت اور مالی معاونت کے ثبوت پیش کیے جو نئی بات نہیں دراصل تقسیم کے اول روز سے ہی پاکستان کو زک پہنچانے کے لیے ہر بھارتی حکومت کوشاں رہی ہے مگر مذہبی جنونی بی جے پی نے کھلے عام دہشت گردی کی سرپرستی شروع کررکھی ہے بنگلہ دیش میں راکے ہاتھوں چینی انجینئر کی ہلاکت ،نیپال سے سرحدی تنازع،سری لنکا ،بھوٹان اور مالدیپ میں مداخلت الم نشرح حقیقت ہے پاکستان کوکمزور کرنے کے منصوبے پر وسیع پیمانے پر کام جاری ہے وزیرِ خارجہ اور فوجی ترجمان کی مشترکہ پریس کانفرنس سے حکومت نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ بھارت کے حوالے سے سب ایک پیج پر ہیں مگرملک میں جاری محاذ آرائی سے کچھ اور ہی تصویر نظرآتی ہے مت بھولا جائے کہ بھارت امن کی نہیں طاقت کی زبان سمجھتا ہے چین سے ہونے والی جھڑپیں شاہد ہیں اِس لیے ضرورت اِس امر کی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام لاکر بھارتی ریشہ دوانیوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے معذرت خواہانہ یا نیم دلانہ رویے کے بجائے جارحانہ سفارتکاری کی ضرورت ہے۔

بھارت کی طرف سے ٹی ٹی پی،بی ایل اے،بی ایل ایف،بی آر اے سمیت ایسی تنظیموں کی سرپرستی میں کوئی ابہام نہیں پاکستان میں تخریبی سرگرمیوںکے لیے بھارت نا صرف مالی اور تربیتی سرپرستی کر رہا ہے بلکہ پناہ دینے کے ساتھ ہتھیار بھی فراہم کرتاہے گزشتہ چند برس کے دوران دہشت گردوں کو بائیس ارب کی رقم دینے سے ظاہر ہے کہ بھارت ہر قیمت پر پاکستان کو توڑنا چاہتاہے مگر ہم سقوطِ ڈھاکہ جیسے مزید کسی سانحہ کے متحمل نہیں ہو سکتے الطاف حسین جیسا چہرہ پٹ چکا لیکن اللہ نذر،حربیارمری جیسے لوگ استعمال ہورہے ہیں حکومت کہتی ہے را آفیسر انوراگ سنگھ کی پی سی ہوٹل پر حملے کی منصوبہ بندی کے ناقابلِ تردید ثبوت ہیں ہونا یہ چاہیے کہ دہشت گردی کے صرف ثبوت ہی نہ پیش کیے جائیں بلکہ سخت اورکرارا جواب دیا جائے بھارت کی پراکسیز ناکام بنانارباب اختیار کی ذمہ داری ہے بلکہ اینٹ کا جواب پتھر ہونا چاہیے دو درجن سے زائد علیحدگی کی تحریکوں کی موجودگی میں روابط کون سا مشکل ہے سکھ،عیسائی ،مسلمان ،پارسی ،دلت سبھی زخمی اورخوفزدہ ہیں ہوشمندی کا تقاضا ہے زہر کی تباہ کاری سے قبل ہی تریاق کا بندوبست کیا جائے۔

سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے دہشت 

گردتنظیموں کو مشترکہ کارروائیوں پر رضا مند کرنے نیز را میں خصوصی ڈیسک بنانے سے بھارتی چالیںعیاں ہو چکیں ناراض بلوچوں کی سرپرستی اور بھارتی پاسپورٹ دینا ڈھکا چھپا امر نہیں رہا اِس لیے یکسو ہوکر بھارتی کردار بے نقاب کیا جائے تاخیر یا سُستی بڑے نقصان کا موجب بن سکتی ہے بلاتاخیر تمام عالمی فورمز کو استعمال کیا جائے حیران کن امر یہ ہے کہ بھارت جیسا عیار اور مذہبی جنونی دہشت گرد ملک ایف اے ٹی ایف میں ہمیں ہی بلیک لسٹ کرانے کے چکر میں ہے مگر شواہد کے باوجود دپاکستان دفاعی پوزیشن پر ہے سلامتی کونسل کے ممبران ممالک کے سفیروں کے علاوہ ہر ہر ملک میں موجود پاکستانی سفارتخانوں کو متحرک کیا جائے کیونکہ موثر لابنگ سے ہی بھارت کی خودساختہ امن پسندی کا لبادہ تارتار کیا جا سکتا ہے ۔

 کابل میں موجود بھارتی سفارتخانہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتاہے جس کی آڈیو لیک تصدیق ہے کرنل راجیش جیسے جانے کتنے موذی متحرک ہیں کلبھوشن جیسا حاضر سروس کمانڈر میدان میں اُتارنا پاکستان کو توڑنے کے لیے بھارتی بے چینی کا بین ثبوت ہے سی پیک سیل کی سربراہی کے ساتھ مودی ہر پاکستان مخالف کارروائی کی سرپرستی کرتا ہے لال قلعے کی تقریر میں وہ خبثِ باطن کااظہار کر چکا کہ کشمیر میں جاری تحریک کا بلوچستان میں جواب دیا جائے گا قومی سلامتی کا مشیر اجیت دوول بھی کہہ چکا کہ بھارت کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والوں سے نا صرف اپنی زمین پر لڑاجائے گا بلکہ یہ جنگ اُن ملکوں تک لے جائیں گے جہاں سے خطرات جنم لے رہے ہیں اِس تناظر میں پاکستان کو ناصرف محتاط رہنا ہوگا بلکہ بھارت کی ناپاک سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ٹھوس اور مربوط پالیسی بھی بنانا ہوگی سرجیکل سٹرائیک سے ہونے والی ہزیمت وہ بھول نہیں سکتااسی لیے دوبدو مقابلے کے بجائے چھپ کر وار کرنے میں مصروف ہے جس کا سرعت سے منہ توڑ جواب ہی مناسب ہے تساہل کا مظاہرہ نا قابل تلافی نقصان کا موجب ہو سکتا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کے دورے کے دوران کلبھوشن نیٹ ورک پر ہاتھ ڈالا گیا اور حاضر سروس بھارتی نیوی کمانڈر کی گرفتاری عمل میں آئی اِس نیٹ ورک کی کڑیاں ایران سے ملائی گئیں لیکن مہمان ایرانی صدر سے بات تک نہ کی گئی جس کی تصدیق ایران  نے بھی کی رواں ہفتے عمران خان ایک روزہ دورے پر کابل جا رہے ہیں بہتر ہے افغان حکومت کو ثبوتوں کی روشنی میں حقائق بتا کر مطالبہ کیا جائے کہ دوست ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے سے روکے اشرف غنی سے دوٹوک بات کرنے کے ساتھ اوآئی سی سے فوری رابطہ اور ممبر ممالک کی حمایت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان فرنٹ لائن اتحادی رہا جس کے خلاف دہشت گرد نیٹ ورک بنائے جائیںاور امریکہ لاعلم رہے ممکن نہیں نو منتخب صدرجو بائیڈن اقتدارسنبھالنے کی تیاریوں میںہیں لہٰذا نئی انتظامیہ سے روابط قائم کرتے ہوئے بھارتی مذموم کردارکے خلاف دستیاب شواہد پیش کرتے ہوئے تقاضا کیا جائے کہ ڈومور کے مطالبے پر پاکستان جانی و مالی قربانیوں کی داستان رقم کر چکا اب امریکہ بھارت کی سیاہ کاریوں کو لگام دینے میں مددکر ے ریپبلکن ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کے باوجود کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر خاموش رہے اب اگر ڈیموکریٹ جو بائیڈن بھی کشمیر میں جاری نسل کشی پر چپ رہتے ہیں اور بھارتی تخریب کاری کے خلاف بھی لب کشائی نہیں کرتے تو پاکستان کو 


ای پیپر