PM Imran Khan, promises, nation, Sajid Hussain Malik, PTI
18 نومبر 2020 (12:45) 2020-11-18

وزیراعظم جناب عمران خان کی گزشتہ چند سال کی تقاریر ، بیانات اور آئے روز کے ارشادات میں کیے جانے والے دعووں ، نعروں اور وعدوں کے پورا ہونے کے حوالے سے بات کرنی ہو تو بڑی آسانی سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی دعویٰ ، نعرہ یا وعدہ حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا ہے۔ اُلٹا جناب وزیر اعظم اور ان کے ساتھی اپنے بیانات اور تقاریر میں بلند کیے جانے اور بار بار دہرائے جانے والے دعووں اور نعروں کے بارے میں یو ٹرن لیتے چلے آرہے ہیں۔ جناب عمران خان کا اقتدار میں آنے سے پہلے یہ نعرہ تھا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے، کشکول توڑیں گے اور قرض نہیں لیں گے ۔ نظر بہ ظاہر اس پر کس حد تک عمل در آمد ہوا اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ جناب عمران خان کے تقریباً اڑھائی سالہ دور اقتدار میں ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ ملکی قرضے سابقہ دور حکومت کی اٹھائیس ہزار ارب روپے کی سطح سے بڑھ کر بیالیس ہزار ارب روپے کی انتہائی سطح تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ غیر ملکی قرضوںمیں اسی نسبت یا اس سے بڑھ کر اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ کی گزشتہ دنوں میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے 28ماہ کے دور حکومت میں 7.8ارب ڈالر (780کروڑ ڈالر) کے غیر ملکی قرضے لیے گئے ہیں۔ جون 2018سے جون 2020 تک لیے جانے والے یہ قرضے قیام پاکستان سے اب تک لیے جانے والے غیر ملکی قرضوں کا 44%بنتے ہیں۔ یعنی دو سال اور چند ماہ اوپر کے عرصے کے دوران لیے جانے والے قرضے 71سال میں لیے جانے والے غیر ملکی قرضوں کا 44%یا نصف سے کچھ ہی کم بنتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جناب عمران خان نے قرضوں کے لیے ہاتھ نہ پھیلانے اور کشکول توڑنے کے بہ تکرار کیے جانے والے اپنے دعووں کا کیا حشر کیاہے۔ اب تو یو ٹرن کے طور پر جناب وزیر اعظم کا تازہ ترین ارشاد یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس فوری نہ جانے کا بہت نقصان ہوا ہے ۔ اگر شروع میں ہی چلے جاتے تو بہتر ہوتا۔

وزیر اعظم جنا ب عمران خان برسر اقتدار آنے سے قبل یہ اعلان بھی بہ تکرار کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے اقتدار کے پہلے 100دنوں میں بے روزگاروں کو 10لاکھ نوکریاں ہی مہیا نہیں کریں گے بلکہ بے گھر لوگوں کو لاکھوں مکان بھی بنا کر دیں گے۔اس وعدے یا دعوے کا جو حشر اب تک ہوا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ تحریک انصاف کے پانچ سالہ اقتدار کی ٹرم کا تقریبا ً آدھا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اس ضمن میں کوئی عملی پیش رفت 

سامنے نہیں آسکی ہے۔ جناب وزیر اعظم اور ان کے ساتھی ’’صاف چلی ، شفاف چلی‘‘ کے نعرے کو بتدریج تبدیلی کا نام دے کر وطن عزیز میں ایسی مثبت تبدیلیاں لانے کے خواب دکھاتے رہے ہیں جن سے پاکستان ایک اسلامی فلاحی مملکت کا روپ اختیار کرتے ہوئے ریاست مدینہ کا نمونہ بن کر سامنے آئے۔ پاکستان کوکس حد تک ریاست مدینہ کا نمونہ بنایا جا سکا ہے، اس کا ذکر نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ کہ اس سے ریاست مدینہ کے خوش کن اور باوقار نام پر جہاں حرف آتا ہے وہاں ریاست مدینہ کے مقدس اور بابرکت تصور پر بھی زد پڑتی ہے۔ اب جناب وزیر اعظم مہنگائی نہ ہونے اور مہنگائی کو اپوزیشن کا پروپیگنڈہ قرار دینے کی تکرار ہی نہیں کررہے ہیں بلکہ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے دینے اور ان کی باافراط اور سستے داموں دستیابی کو یقینی بنانے کے آئے روز اعلانات بھی کر رہے ہیں۔ جناب وزیر اعظم کے دعوے اور اعلانات اپنی جگہ لیکن مہنگائی کی صورت حال کے بارے میں برسر زمین حقائق کیا ہیں ان کو جان کر رونگٹے ہی نہیں کھڑے ہو جاتے ہیں بلکہ یہ دعوے اور اعلانات کرنے والوں کی عقل پر ماتم کرنے کو بھی جی چاہتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل پنجاب حکومت کے محکمہ زراعت کا اخبارات کے چوتھائی صفحے کے سائز کا ایک اشتہار قومی اخبارات میں چھپا تھا جس میں "وزیر اعظم پاکستان کے کسان دوست ویژن" اور "وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں کسان کی خوشحالی اور پنجاب کی ہریالی کا سنہری دور" کے عنوانات کے تحت یہ مژدہ جانفزا سنایا گیا کہ سال 2018-19کے مقابلے میں سال 2019-20کے دوران گندم کی پیداوار میں 10لاکھ ٹن ، چنے کی پیداوار میں 53ہزار ٹن اور کینولا کی پیداوار میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ چند دن قبل جناب وزیر اعظم کا یہ ارشاد سامنے آیا ہے کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں کمی ہوئی ۔ اب کس دعوے یا ارشاد کو صحیح سمجھا جائے۔ "وزیر اعظم پاکستان کے کسان دوست ویژن"کے تحت گندم کی پیداوار میں 10لاکھ ٹن اضافے کو یا جناب وزیر اعظم کے تازہ ترین ارشاد کے مطابق موسم کی خرابی کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں کمی کے اعلان کو ۔غرضیکہ بیانات ، اعلانات ، ارشادات اور اشتہارات کی ایک بھرمار ہے جن سے اپنے ہی کیے ہوئے وعدوں ، دعووں اور نعروں کی تکذیب ہی نہیں ہوتی ہے بلکہ "یوٹرن کا "گہر ا تاثر بھی ابھرتا ہے۔ 

جناب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ مہنگائی اپوزیشن کا پروپیگنڈہ، معیشت کی خرابی کے ذمہ دار اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ جنا ب وزیر اعظم اگر ایسا ہی سمجھتے ہیں تو کون انہیں اس سے روک سکتا ہے۔ تاہم اتوار کا اخبار میرے سامنے ہیں۔ ایک قومی معاصر (روزنامہ نئی بات) میں صفحہ اول پر اخبار کے سرنامے کے عین نیچے تین کالمی سرخی لگی ہوئی ہے جو اس طرح ہے "مرغی ، آلو، انڈے مزید مہنگے ، چینی 115روپے کلو فروخت"۔ خبر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ادارہ شماریات نے مہنگائی پر ہفتہ وار رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق 16اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ، 11اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ چینی کی قیمت بلند ترین سطح 115روپے تک جا پہنچی ہے۔ چکن کی فی کلو قیمت 22.47روپے بڑھی ہے۔آلو اور انڈوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ شماریات جو ہر ہفتے مہنگائی اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کے بارے میں رپورٹ جاری کرتا ہے ایک حکومتی ادارہ ہے۔ اس کی ہفتہ وار رپورٹوں میں اگر مہنگائی میں اضافے کا ذکر لگاتار ہو رہا ہے اور اس کے باوجود جناب وزیر اعظم اگر مہنگائی کو اپوزیشن کا پروپیگنڈہ قرار دیتے ہیں توپھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔

بات ضد اور ہٹ دھرمی کی چلی ہے تو وہ یہی پر ختم نہیں ہوتی ۔ جناب وزیر اعظم اور ان کے ساتھی بڑے تسلسل سے اور لگاتار اپنے مخالفین کو چور اور لٹیرے کہنے ، انہیں ملکی معیشت کو برباد کرنے ، انہیں تمام خرابیوں کی جڑ قرار دینے انہیں NROنہ دینے اور الٹا لٹکا دینے کے ڈراوے اور دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ اب ان دھمکیوں میں میاں محمد نواز شریف کو لندن میں بیٹھا چور اور گیدڑ کہہ کر پکارنے کا بھی اضافہ ہو چکاہے۔ جناب وزیر اعظم کے اپوزیشن راہنماوں کو دیئے جانے والے یہ القابات ، خطابات اور الزامات کس حد تک جائز ، مناسب اور مبنی بر حقیقت ہیں ،اس بحث میں پڑے بغیر ایک بات بہرکیف ماننا پڑتی ہے کہ جناب عمران خان جو اپنے ارشادات اور بیانات سے پھرنے اور یوٹرن لینے کی شہرت رکھتے ہیں،وہ اپوزیشن رہنمائوں کے بارے میں ہتک آمیز گفتگو کرنے ، ان پر الزامات عائد کرنے اور انہیں مختلف القابات سے نوازنے کی اپنی روش پر مستقل مزاجی سے قائم ہیں۔اس حوالے سے جناب وزیر اعظم کو داد دینی چاہیے کہ کسی ایک شعبے میں ہی سہی خواہ وہ الزام تراشیوں، دھمکیوں اور جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرنے کا شعبہ ہی کیوں نہ ہو، اتنی مستقل مزاجی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ جناب وزیر اعظم کو اس بات کا بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی 


ای پیپر