Dr Azhar Waheed, Nai Baat, sense, servitude, humility
18 نومبر 2020 (12:24) 2020-11-18

نارسائی بسا اوقات رسائی سے زیادہ گہر بار ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات نارسائی کی رسائی وہاں تک ہو جاتی ہے جہاں رسائی بھی پہنچنے کو ترستی ہے۔ ندامت احساسِ نارسائی ہے۔ ندامت اپنی کم مائیگی کا اعتراف ہے۔ اعترافِ جہل علم کی راہ پا سکتا ہے۔ شرمندگی اعترافِ بندگی کی صورت بھی ہو سکتی ہے۔ جھکا ہوا سر‘ اپنی بندگی کا اعتراف ہی تو ہے۔ احساسِ بندگی سب سے پہلے ہمارے اندر عجز کو بیدار کرتا ہے۔ عجز بیدار ہو جائے تو انسان وہم اور زعم سے نکل جاتا ہے۔  بہت کچھ جاننے کا زعم ایک وہم کے سوا کچھ نہیں۔ جاننے کا سفر تو بس نہ جاننے تک ہے۔ جاننا تو بس اتنا ہی ہے کہ ہم نہیں جانتے۔ اپنی زود علمی اور زود فہمی کا زعم اس وہم میں مبتلا کر دیتا ہے کہ دوسرے گویا کم علمی میں مبتلا ہیں۔ دراں حالے کہ ہر ذی حیات کو اپنے دائرہ حیات میں پنپنے  کے لیے حسبِ حال اور حالات علم دیا جاتا ہے۔ اگر ایک شاہباز کے پاس کبوتر پر جھپٹنے کا علم و شعور ہے تو کبوتر کو اُس سے بچنے کا علم بھی دیا گیا ہے۔ سارے شاہباز سارے کبوتر شکار نہیں کر سکتے۔ یہی حال انسانوں میں ہے، جہاں ایک شخص کے علم کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے دوسرے کے علم و شعورکی  سرحد شروع ہوتی ہے۔ ایمان و کفر کو اگر معرفت کے میزان میں سمجھنے کی کوشش کریں تو ایک کا ایمان بسا اوقات دوسرے کا کفر قرار پاتا ہے۔ ذات کا عارف صفات کی  دنیا کے عالم کے نزدیک عین ممکن ہے زندیق قرار پائے، کیونکہ اس کی گفتگو مشیت کے باب میں ہوگی اور دوسرے کی بات کسی نصابی حساب و کتاب  کے گرد گھومے گی۔ 

بہرحال کم مائیگی ہو، کم علمی ہو یا پھر کم عملی ‘یہ سب ندامت کا تقاضا کرتے ہیں۔ جو اس تقاضے کو پورا کرنے میں فراخدلی کا مظاہرہ کرتا ہے اس پر علم و عمل کا افق فراخ کر دیا جاتا ہے۔ جو ندامت سے فرار چاہتا ہے، وہ اپنی کم علمی اور کم عملی کی توجیہہ تراشنے کی کوشش کرتا ہے، وہ کنویں کا مینڈک بن کر زندگی گزارتا ہے، اس کی کم علمی بتدریج بدعلمی میں اور کم عملی بدعملی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کم علمی قابلِ اصلاح ہوتی ہے، بدعلمی قریب قریب ناقابلِ اصلاح!! بدعلم خود کو عالم سمجھے گا اور اپنے ناصح کو جاہل تصور کرے گا۔ اپنے علم کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے لازم ہے اپنے علاوہ بھی لوگوں کو عالم تصور کیا جائے، اُن کی بات کو سنا جائے ، اُن کی بات پر غور کیا جائے اور اُن کی بات میںپوشیدہ اُس حکمت کو ڈھونڈا جائے ‘ جو شاید خود اُن کے علم میں بھی نہ ہو۔ حکمت کو مومن کی گمشدہ میراث کہا گیا ہے،اور یہ بتایا گیا ہے کہ مومن جہاں بھی دیکھتا ہے اسے پا لیتا ہے۔ اُس ہدایت میں کس قدر حکمت 

پوشیدہ ہے‘ اُس کا اندازہ لگانا دشوار نہیں۔ دینِ اسلام ‘دین ِ فطرت ہے ، اِس لیے قوانین ِ فطرت سے ہم آہنگ جو بھی آواز ہوگی اس کی سند دین سے ضرور ملے گی۔ آفاق اور انفس کی آیات (نشانیوں) پر غور کرنے والے پکار اٹھتے ہیں کہ بے شک ہمارے رب نے حق نازل کیا ہے۔ آفاق کی نشانیوں پر غور کرنے والے انفس کے حقائق پر ضرور پہنچتے ہیں اور دینِ حق انفس ہی سے برآمد ہوا ہے ، باطن ہی سے ظاہر ہوا ہے۔ 

آفاق سے انفس کی طرف آتے ہوئے، اجتماع سے فرد کی طرف رخ کرتے ہوئے ہم علم سے عمل کی دنیا سے روشناس ہوتے ہیں۔ایک فطری امر ہے کہ علم اور عمل میں بُعد ایک سلیم الفطرت انسان کو نادم کر دیتا ہے۔ ندامت میں ڈوبا ہوا، دراصل انفس میں ڈوبا ہوا شخص ہوتا ہے۔ اپنی غلطی پر ندامت کے بجائے توجیہات تراشنے والا انسان انفس کو بھول کر آفاق میں سرخرو ہونے کے لیے فلسفے کی ڈگڈگی لے کر آتا ہے تاکہ علمِ نفسیات کی روشنی میں فرائیڈ کے ہمراہی میں اپنی بدعملی کی توجیہہ کا آملیٹ فرائی کیا جائے۔ خبردار! ہوشیار باش!  اپنی کسی بدعملی کی کوئی توجیہہ ہرگز نہ تراشی جائے، وگرنہ اصلاح کے امکانات ناپید ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس ندامت کا راستہ اختیار کیا جائے ، یہ فطری راستہ ہے۔ ندامت عاجزی پیدا کرے گی اور عجز علم کے دروازے پر دستک دے گا۔یوں انسان مزید بدعلمی سے بچ جائے گا …کہ بدعلمی ہی عملی کا راستہ سجھاتی ہے۔ 

عمل کے فضائل بیان کرنے والے سوز و گداز کا وہ باب نہیں کھول سکتے جو انسان کے اندر صرف عجز و ندامت سے پیدا ہوتا ہے۔ مداومت ِ عمل عین ممکن ہے انسان کو احساسِ برتری میں مبتلا کردے ، اورندامت کا تصور اُس کے لیے اجنبی ہو کر رہ جائے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ندامت انسان کے احساس کو لطافت کی اس بلندی پر پہنچا دیتی ہے جہاں علم و عمل کی ریاضت نہیں پہنچاتی۔ ریاضت کٹھور دل بھی بنا دیتی ہے۔ اپنے ریاض میں مشغول شخص کے پاس کسی دستک کا جواب دینے کی فرصت نہیں ہوتی۔ ندامت نرم دل بناتی ہے۔ نادم انسان مخلوقِ خدا کا بہترین خادم ثابت ہوتا ہے۔ ہمیں بہت زیادہ کامیاب آدمیوں کی ضرورت نہیں، ہر طرف گارڈ آف آنر ہی وصول کرتے رہے اور پیش کرتے رہے تو ٹوٹے ہوئے دلوں اور گھروں کا کون سنبھالے گا۔ کامیاب انسان تو بے حد مصروف انسان ہوتا ہے، مصروف انسان کے پاس بات سننے کی فرصت نہیں ہوتی، کیونکہ وہ اپنی بات سنانے میں مصروف ہوتا ہے۔ ہر کامیاب آدمی اپنی کامیابیوں کی داستان سنانے میں مصروف ہے، کسی کے پاس کسی شکستہ دل کی داستانِ غم سننے کی فرصت نہیں۔ ٹوٹے ہوئے دل اور بکھرے ہوئے راہی بھی منزلوں کا ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ کامیابی کی موٹر وے پر زناٹے سے گزرتے ہوئے ڈرائیوروں کے لیے ممکن نہیں کہ وہ کچی پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے کسی اپنی ہی دھن میں مگن مسافر کا کوئی دھیمے سروں کا گیت سن سکیں۔ 

ڈھونڈ اُلفت میں کوئی دل ٹوٹنے والا

یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیںنازک آبگینوں میں

اُدھورا ، نامکمل، کامیابی سے دُور، منزل کی تمنا دل میں لیے ہوئے دل شکستہ بلکہ دل گرفتہ شخص بہت بیش قیمت ہوتا ہے۔ اس کے پاس ندامت کا گوہر ہوتا ہے، اشک ِ ندامت ایک گوہرِ بیش بہا ہے۔ ایسا شخص اپنے علم و عمل میں کمی کا کفارا ادا کرنے کی فکر میں ہوتا ہے، ایسے میں اسے خدمت ِ انسانی کا وسیع میدان دکھائی دیتا ہے، اور وہ اپنی کمی ، کجی اور کوتاہی کا کفارہ خدمت کی صورت میں کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔ وہ کسی این جی او کے قیام کی تدبیر نہیں کرتا ، اور نہ ہی وہ وسائل کی تگ و دَو میں ہوتاہے بلکہ جو بھی سائل اسے میسر آ جائے اُس پر دل و جان سے صدقے واری ہوا جاتا ہے،اور اُس کی خدمت میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اُسے تو بس خدمت سے غرض ہے۔ وہ مخلوق کی غیر مشروط خدمت بھی کرتا ہے اور عزت بھی… اسی بے لوث خدمت کے کارن فطرت اس پر غیر مشروط طور پر مہربان ہو جاتی ہے۔وہ مستحق اور غیر مستحق ہر ایک کا حق ادا کرتا ہوا بالآخر رحمت ِ خداوندی کا مستحق  قرار پاتا ہے … جس پر رحمت ِ خداوندی کا نزول جاری ہو جائے ‘ وہ کامیابی اور ناکامی کے تصورات سے آزاد ہو کر ایک آزاد پنچھی کی طرح فضائے امکانات کی سیر کرتا ہے… اپنے رب کی حمد کے گیت گنگناتا ہے۔

نادم شخص بہترین خادم ہوتا ہے، خود میں ادھورا شخص دوسروں کی خدمت کے باب میں مکمل پایا جاتا ہے۔ اپنے ارادے میں ناکام شخص کسی اور کے ارادے کا امین ہو جاتا ہے۔ ٹوٹا ہوا پیمانہ تشنہ کاموں کی تشنگی دور کرنے کا ہنرخوب جانتا ہے، کہ میرٹ اور نصاب کے علاوہ بھی اس کے ذمے کئی کام ہوتے ہیں۔ نادم کا تعلق ذات سے ہوتا ہے، وہ ذات سے تعلق کے سبب خود کو سرتاپا ذات کے رحم و کرم کا محتاج پاتا ہے۔اس کے برعکس اپنے عمل و ہنر میں دسترس رکھنے والا خود کا بے نیاز تصور کرتا ہے، وہ صفات کی دنیا میں بہتر سے بہتر نام اور مقام کے حصول 


ای پیپر