Australian woman swimmer banned for doping test
18 نومبر 2020 (11:12) 2020-11-18

میلبورن:ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر آسٹریلیا کی خاتون تیراک شائنا جیک پر2 سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شائنا جیک کو اس لئے دوسال کی سزا دی گئی کیونکہ ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد اولمپک کمیٹی نے سزا کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے انتہائی قدم اٹھایا۔آسٹریلوی سوئمر کی سزا اب ٹوکیو اولمپک شروع ہونے سے پہلے ختم ہوجائے گی اور وہ اولمپک میں حصہ لینے کیلئے اہل تصور کی جائینگی۔

 سی اے اے کی جانب سے فیصلہ سنایا گیا کہ ’شائنا نے جان بوجھ کر لنگا ڈرول نامی دوا کا استعمال نہیں کیا تھا اور انہوں نے اس بات کو ثابت کردیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی‘۔

تیراک شائنا جیک کو 2019 عالمی چیمپئن سے قبل اینا بالک یعنی سٹیرائیڈ اشیا کے استعمال کی وجہ سے قصور وار قرار دیا گیا جبکہ ان پر 4 سالہ پابندی کی بھی سفارش کی گئی تھی۔

شائنا جیک کہ پاس اس چیز کا موقع ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سی اے ایس میں چیلنج کرسکتی ہیں جبکہ عالمی ڈوپنگ ایجنسی کے پاس ان کے خلاف زیادہ وقت تک کی پابندی لگانے کی اپیل کرنے کا بھی متبال موجود ہے۔

یہ فیصلہ آنے کے بعد 22 سالہ آسٹریلوی سوئمر شائنا اب 11 جولائی2021 تک کسی بھی ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کی اہل نہیں ہونگی جبکہ ٹوکیو اولمپک اس پابندی کے دو ہفتے بعد شروع ہوگا۔

 عالمی چیمپئن شپ 2017 میں چار تمغہ اپنے نام کرنے والی اس تیراک کو جون 2019 میں ٹورنامنٹ کے باہر جانچ پڑتال کے بعد پابندی والی اشیا استعمال کرنے پر قصور وار قرار پایا گیا تھا۔شائنا نے ڈوپنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مثبت ٹیسٹ آلودگی والی اشیا استعمال کرنے کی وجہ سے آیا۔


ای پیپر