اندھے بمقابلہ اندھے
18 نومبر 2020 2020-11-18

آنکھوں کے اندھوں کا کئی برسوں سے دل کے اندھوں کے ساتھ میچ جاری ہے۔ آنکھوں کے اندھے چند سو ہیں مگر دل کے اندھوں کی تعداداتنی زیادہ ہے کہ ایک حکومت کے بعد دوسری آگئی مگر ان کی بیٹنگ کا وہی انداز ہے کہ لگتاہی نہیں ہے کہ کوئی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے نوازلیگ کی حکومت انہیں لالی پاپ دیا کرتی تھی اور اب یہی کام پی ٹی آئی کی حکومت کر رہی ہے۔کم و بیش چھ برسوں سے میں نابیناو¿ں کو احتجاج کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ یہ عجیب باہمت اور غیر ت مند اندھے ہیں کہ نوکریاں چاہتے ہیں حالانکہ خوشاب کے ڈپٹی کمشنر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اگر ان میں سے ہر کوئی اپنے اپنے شہر کے مصروف بازاروں کے چوکوں میں مانگنا شروع کر دے توتنخواہوں سے کہیں زیادہ لے جائے مگر ان میں جو بے روزگار ہیں وہ روزگار چاہتے ہیں اور جوکنٹریکٹ پرملازم ہیں وہ چاہتے ہیں کہ آئے روز کی برطرفی کی دھمکیوں سے بچنے کے لئے انہیں کنفرم کر دیا جائے تاکہ جن والدین اور اعزا اقارب نے ان کی محبت کے ساتھ پرورش اور دیکھ بھال کی ہے یہ اپنی حق حلال کی کمائی سے ان کی محبتوں کے قرض چکا سکیں۔

میں سولہ نومبر کی شام ناصرباغ میں بلائنڈ ایسوسی ایشن کے اس دھرنے میں موجود تھا جس کی دریاں اور گدے ایک روز قبل ہونے والی شدید ترین بارش میں بری طرح گیلے ہو چکے تھے۔ اس مرتبہ ہمارے پنجاب بھر سے آئے ہوئے نابینا افراد نے دس نومبر کو احتجاج شروع کیا تھا مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ سابق حکومت میں ان نابینا افراد کی ایک ایک حرکت پر بریکنگ نیوز چلانے والے میڈیا نے اس مرتبہ انہیں اہمیت ہی نہیں دی،اتنی بھی نہیں جتنی گذشتہ برس دینے کی غلطی کی تھی اور عُمررشید کی قیادت میں یہ نابینا افرادکاغذ کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے جس پر درج تھا کہ حکومت ایک ماہ میں بے روزگار نابینا افراد کو روزگار دے گی اور ڈیلی ویجرز یا کنٹریکٹ والوں کو کنفرمیشن کے لیٹرز جاری کئے جائیں گے۔ یہ معاہدہ سولہ نومبر2019 کو ہوا تھا اور سولہ نومبر2020 کو اس کی پہلی سالگرہ ( یا برسی ) آ گئی مگر مجال ہے کہ حکومت نے اپنے بہت سارے وعدوں کی طرح اس پربھی عمل کرنے کی بھول کی ہو۔نابینا افراد نے مال روڈپر دھرنا دیا اور ان کے بقول چیف سیکرٹری نے ان سے بدھ کے روز تک کی مہلت لی کہ وہ معاہدے پر عملدرآمد کے لئے کابینہ کے اجلاس میں منظوری حاصل کریں گے اورانہیں تنبو قناتیں لگا کے ناصر باغ میں شفٹ کر دیا گیا۔ پندرہ نومبر کو ہونے والی بارش اتنی شدید تھی کہ اس نے باغ میںکہیں بھی جائے پناہ نہ رہنے دی۔ نابینا افراد نے سامنے میٹرو کے بس سٹاپ میں پناہ لینے کی کوشش کی مگر حکومت کی طرف سے ان کی حفاظت ( یا حراست) کے لئے لگائی گئی پولیس فورس کے جوانوں نے انہیں وہاں سے ہلنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ اب یہ اندھے لوگ تھے اور بارش کی تباہ کاری تھی جو افسروں اورحکمرانوںکو اپنے دفتروںکی کھڑکیوں سے بہت رومانوی لگ رہی ہو گی مگر ان کے لئے جان لیوا تھی۔میں یہاں پولیس کے جوانو ں اوران کے افسروں پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا کہ شائد پولیس میں نوکری کے لئے پہلی شرط ہی یہ ہے کہ آپ دل اور دماغ سے محروم ہو کر آئیں۔

میں نے عُمر رشید، عبدالشکور، ارسلا ن اور دیگر سے کہا ، یار،لوگ کہتے ہیں کہ تم نابینا پورے بلیک میلر ہو، حکومت تمہیں کہاں سے نوکریاں دے جب ہٹے کٹے صحت مند افراد ویہلے اور بے روزگار پھر رہے ہیں تومجھے جواب ملا کہ ہٹے کٹے اورصحت مند افراد توکچھ اور بھی کرسکتے ہیں، ہم کیا کریں۔ ہم میں سے بہت سارے اعلیٰ پڑھے لکھے ہیں، کوئی ایم اے اورکوئی ایم فل، سپیشل پرسنز کے لئے سپیشل ایجوکشن کا اہتمام تو ہوجاتا ہے مگران کے لئے روزگار اورنوکریوں کے بارے کوئی نہیں سوچتا۔ یہیں پر مجھے خوشاب سے آئے ہمارے سپیشل پرسن نے بتایا کہ جب وہ حکومت کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد خوشاب واپس گئے تو وہاں کے ڈپٹی کمشنر نے کہا، حافظ صاحب، کن کاموں میں پڑے ہوئے ہو، جاو¿ جا کے بھیک مانگو،کہیں زیادہ کما لو گے۔ میں نے یہ بات سنی تو سوچاکہ شائد یہ ڈپٹی کمشنر بھی کوئی بڑا حکمران ہو گا جس کو مانگنے کا بڑا تجربہ ہو گا ورنہ اگر وہ کوئی غیرت مند اور ظرف والا شخص ہوتا تو اس نابینا شخص کوسرآنکھوں پر بٹھاتا جو اس صورتحال کے باوجود کما کے جینا چاہتا ہے، مانگ کر نہیں۔ مجھے ان لوگوں نے تگڑاجواب دیا، کہنے لگے، کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں،کیا اس ریاست میں ہمارے کوئی حقوق نہیں ہیں، کیا مدینہ کی اصلی ریاست میں نابیناو¿ں کے ساتھ یہی سلوک ہوتا تھا۔میں انہیں کیابتاتاکہ جس تن لاگے سو تن جانے۔ ہمارے ایک فوجی آمر کی بیٹی سپیشل پرسن تھی تو اس نے خصوصی افراد کے لئے خصوصی ادارے بنوائے مگر اس کے بعد ان کے درد کو اس طرح محسوس نہیں کیا جاسکا۔ میں تو انہیں یہ دعا یا بددعا بھی نہیں دے سکتا کہ حکمرانوں ، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹوں کے گھر اندھے بچے پیدا ہوں تو وہ آپ کی تکلیف کو محسوس کرسکیں،مجھے تودعا یا بددعا بھی کم ظرفی لگتی ہے، گھٹیا پن لگتی ہے۔

نابینا افراد کے ساتھ مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہت سارے اپنے ناخن کٹوا کے آتے ہیں اور سپیشل پرسنز کے کوٹے کی نوکریاں لے جاتے ہیں یعنی عملی طور پر وہی صورتحال ہے کہ انگلی کٹوا کے شہیدوں میں نام لکھوانا کہ سپیشل پرسنز کے تین فیصد کوٹے کے سامنے لکھا ہی نہیں ہواکہ کس درجے کے سپیشل پرسن کو کس جگہ رکھنا ہے۔ دوسری طرف ہمارے حکام ہیں جو چاہتے ہیں کہ سپیشل پرسنز کے کوٹے پر بھی ہٹے کٹے ہی بھرتی ہوجائیں تاکہ ان سے زیادہ کام لیا جا سکے حالانکہ ہمارے سپیشل پرسنز کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے اپنے کام صحت مند لوگوں سے زیادہ بہتر طورپر کر سکتے ہیں۔ وہ حکمرانوں سے مذاکرات کرتے ہیں اور انہیں حکومت کے ایک تگڑے وزیر کہتے ہیں کہ اگر تم تین، چار سو کو ملازمتیںد ے دی گئیں تو اس کے بعد پھرتین، چار یا پانچ سو آ گئے تو ہم کیا کریں گے۔اس کا جواب یہ ہے کہ آپ ان کو بھی ملازمتیں دے دیجئے گا کہ بارہ کروڑ کی عوام سے ٹیکس وصول کر کے اگرآپ دو یا تین مرحلوں میں بارہ سو نابینا افراد کو ملازمتیں نہیں دے سکتے تو آپ کو رحم، شرم،کرم ہی نہیں بلکہ میرٹ اور حق جیسے الفاظ بھی اپنی ڈکشنریوں سے نکال دینے چاہئیں کیونکہ ملازمتوں پر پہلا حق انہی کا ہے جو ایک بڑی جسمانی خامی کے باوجود بھیک نہیںمانگنا چاہتے۔

آج کا کالم توحکمرانوں اورفیصلہ سازوں کے لئے ایک یاددہانی ہے کہ پاکستان پر ان کا بھی حق ہے بلکہ اگر ہم کچھ ظرف اورکچھ شرم سے کام لیں تو ان کا ہی حق ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ ان آنکھوں کے اندھوں کا دل اور دماغ کے اندھوں کے ساتھ مقابلہ ہے۔ میں چاہوں گا کہ آج بدھ کے روز جب چیف سیکرٹری پنجاب کی لی ہوئی مہلت ختم ہورہی ہے تو ان سپیشل پرسنز کے ساتھ اسی طرح کاسلوک کیا جائے جس طرح کاسلوک آپ اپنے بھائی یا بیٹے کے ساتھ کرتے اگر وہ اس طرح کی صورتحال کا شکار ہوتا۔ کیا آپ مجھے آج غلط ثابت کریں گے کہ آنکھوں کے اندھوں کا مقابلہ دل اوردماغ کے اندھوں کے ساتھ نہیں ہے،جو ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر تھا اور صبر کا پھل میٹھا ہوتاہے یعنی حکمران آج ان بے بس اور لاچار مگر غیرت مند اور باہمت پاکستانیوں کے لئے کچھ اچھا اقدام کریں گے جو پہلے حکمران بھی نہیں کر سکے۔


ای پیپر