مستقبل قریب کا منظر نامہ
18 نومبر 2019 2019-11-18

اب سب کچھ نہیں تو بھی بہت کچھ کھل کر سامنا آچکا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے ملک میں موجود بحران کو مزید توانا کردہ دیا۔ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے معاملات طے کرلئے تھے۔ عمران خان نواز شریف کی بیرون ملک روانگی میں اس لئے رکاوٹیں ڈال رہے ہیں تاکہ بگاڑ پیدا ہو اور بداعتمادی پیدا ہو۔ گزشتہ تین روز سے گجرات کے چوہدریوں کا لب و لہجہ بدلا ہوا ہے۔ نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے حوالے سے بھی ق لیگ نے پی ٹی آئی حکومت کے بانڈ کی شرط کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔ اور نواز شریف کی غیر مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت کا مطالبہ کیا گیا۔چوہدری شجاعت حکومت کے سرکردہ اتحادی ہیں ان کا اتنا سخت بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود کو خان حکومت سے دور کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ چوہدری برادران یہ کام مقتدرہ حلقوں کی حمایت کے بغیر نہیں کر سکتے۔ چوہدری کے بیان سے لگتا ہے کہ اگر تین سے چھ ماہ کے اندر عمران خان کو فارغ نہیں کیا گیا تو ملک کو چلانا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگا۔ حکمران جماعت کی سرکردہ اتحادی جماعت مسلم لیگ ق عمران خان حکومت سے مطمئن نہیں ایک انٹرویو میں چوہدری شجاعت حسین نے کہا تھا کہ بڑھتی مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے کوئی بھی وزیراعظم بننے کو آمادہ نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو کچل دیا گیا ہے۔ مقررہ مدت تین سے چھ ماہ تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

سینیٹ کے چیرمین صادق سنجرانی نے بھی سینیٹ کے اجلاس میں یہ فیصلہ دی کہ نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے۔ سب جانتے ہیں کہ صادق سنجرانی کو لانے والے اور بچانے والے کون ہیں۔ یہی مطالبہ ایم کیو ایم نے بھی کیا ۔ عمران خان حکومت پہلے ہی سیاسی تنہائی کا شکار ہے اس کے تین اتحادی چوہدری براردران اور ایم کیو ایم نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی کھلے عام حمایت کر رہے ہیں اور کسی شرط لاگو کرنے کے حق میں نہیں۔

کیا شہباز شریف اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان واقعی ہم آہنگی پیدا ہو گئی ہے؟ بظاہر یہی لگتا ہے۔ اس کی دو وجوہ ہیں۔ اول مائنس نواز شریف، جو کہ خرابی صحت کی وجہ سے ویسے ہی مائنس ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف خان کو حکومت میں لانے کا ناکام تجربہ۔ جس کی وجہ سے ملک سیاسی اور معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔

بظاہر لگتا ہے کہ ان ہائوس تبدیلی کی تھیوری زور پکڑ رہی ہے۔ اس تھیوری کے مطابق پنجاب میں چوہدری پرویز الاہی، اور وفاق میں شہباز شریف یا کوئی اور بیچ کا بندہ۔

مولانا ضل الرحمٰن کو بھی چوہدری برادران نے یہ تسلی دے کر روانہ کیا کہ مقتدرہ حلقے نظریہ تسلسل پر نظرثانی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ تبدیلی کے لئے نئے پلان اور نئے اسکرپٹ تیار ہو رہے ہیں۔ نواز شریف کو نیب سے ہسپتال پہنچانے میں مد دکرنے پر گزشتہ روز پریس کانفرنس میںشریف نے خداترس بندوں کا شکریہ ادا کیا تھا۔

لگتا ہے کہ ان خدا ترس بندوں سے ان کے معاملات بہتر ہو گئے ہیں۔ اس اسکرپٹ سے بلاول بھٹو بھی آگاہ ہیں، وہ بھی کہتے ہیں کہ آئندہ سال نیا وزیراعظم ہوگا۔

ق لیگ ملک کے مجموعی منظر نامہ کو پریشان کن سمجھتی ہے۔ ق لیگ کے ذرائع کے مطابق اس اتحادی جماعت نے تحریک انصاف کو کئی مرتبہ مشورہ دیا کہ معیشت اور طرز حکمرانی پر توجہ دیں ، اور احتساب جیسے متنازع معاملات میں نہ الجھیں۔ ق لیگ سمجھتی ہے کہ کہ حکومت کارکردگی دکھانے میں ناکام ہوگئی ہے اسلئے کوئی بھی مطمئن نہیں۔ الیکشن کے بعد چوہدری شجاعت نے عمران خان کو خان کو مشورہ دیا تھا کہ معیشت پر توجہ دیں ، ملک کی مالی صحت بہتر بننے کے بعد ہی کرپٹ افراد کیخلاف کریک ڈاؤن کریں۔ لیکن عمران خان نہیں چھوڑوں کی رٹ لگائے رکھی۔ ذرائع کے مطابق رواں سال والے بجٹ کے موقع پر چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کی عمران خان سے آخری مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔ اب تو ق لیگ کی قیادت یہ کہہ رہی ہے کہ جب یہ لوگ ہماری سننے کیلئے تیار نہیں۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں چوہدری پرویز الٰہی نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ اعتماد سازی کا ماحول بنانے اور معیشت بہتر کرنے پر توجہ مرکوز رکھے۔ پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ حکومت اپوزیشن کی جانب نرمی کا مظاہرہ کرے اور ساتھ ہی احتساب کی موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سیاسی نوعیت کے کیسز پر کارروائی سے گریز کرے۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو حکومت نے اپوزیشن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اتحادی ساتھ ہونے کے باوجود دوری کا اشارہ دے چکے تھے۔ ؟ قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کے پاس 183 اور اپوزیشن کے پاس 158 اراکین ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ کہیں اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک منظور نہ ہو جائے، اگر ہو جاتی ہے تو وزیراعظم کے خلاف بھی عدم اعتماد کی تحریک لائی جاسکتی ہے۔ لہٰذا حکومت نے بہتر سمجھا کہ منظور کردہ آرڈیننس واپس لے لئے جائیں۔ صرف پچیس اراکین کا فرق ہے۔ اگر اتحادی جماعتیں الگ ہو جاتی ہیں اور اپوزیشن کا ساتھ دیتی ہیں تو وزیراعظم بھی نہیں رہے گا۔

وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت معمولی اکثریت کی حامل ہیں جس کے باعث اتحادی جماعتیں بالخصوص ق لیگ کے ارکان حکومت کی بقاء کیلئے بیحد ضروری ہیں۔

ماضی میںبھی ایسی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ق لیگ کے کابینہ میں حصے کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ چوہدریوں کا حالیہ طرز عمل پی ٹی آئی والوں کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ پریشان کن ہو چکا ہے۔ اب دیکھیں واقعات کے صفحات آنے والے دنوں میں کس طرف پلٹتے ہیں۔


ای پیپر