اقبالؔ کا فن ،شخصیت اور فکری جدوجہد
18 نومبر 2019 2019-11-18

بلا شبہ علامہ اقبال ؔ ایک عہد ساز شخصیت ہیں ۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ایک مکمل دور اور تاریخ کو بیان کیا ہے۔اقبال جس دور میں اقبالؔ بنے وہ مشرقی اقوام کے لیے سیاسی بدحالی اور سماجی اضطراب کا دور تھا اور یہی درد ان کی شاعری میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ سے متعارف کروایا ہے۔ ان کے شاعرانہ کلام کو بلا شبہ قرآن حکیم کی تفسیر کہا جاسکتا ہے۔ ان کی شاعری میں فکر، تاریخ اور علمی حقائق پر تبصرے بھی ہیں۔ لیکن ان کا سب سے بڑا فنی کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پیغام،اپنی فکر اور فلسفے کوشاعری کا اسلوب اختیار کرتے ہوئے ادب عالیہ کی اولین درجے پہ لا کھڑا کیا ہے۔ اقبالؔ کی فکر اور فلسفے سے مفکرین اور ناقدین نے اختلاف بھی کیا ہے لیکن اس کے سب معترف ہیں کہ ان کی شاعری میں شعریت کے محاسن اور مقصد کے ساتھ سوز، حسن، سرور ، نغمگی اور آہنگ کے ساتھ تخلیق کا اعلیٰ معیار موجود ہے اور یہ میعار انہوں نے فارسی اور اردو کلام دونوں میں برقرار رکھا ہے۔

علامہ کا جب انتقال ہوا تو ان کے فرزند جاوید اقبال کی عمر تقریباََ چودہ برس کی تھی۔ جاوید اقبال کی عمر سے ابتدائی چند سال نکال دیے جائیں تو کم و بیش نو یادس سال کا وہ قلیل عرصہ ہے جس میں انہوں نے کم سنی کے باوجود اپنے والد کی شخصیت کا بغور مشاہدہ کیا۔ ڈاکٹر جاوید بتاتے ہیں کہ ان پر علامہ کی شخصیت کی جو خصوصیات منکشف ہوئیں ان میں ایک تو عالم اسلام سے ان کی بے پناہ محبت تھی اور دوسری رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے ساتھ بے مثال اور بے پناہ عشق۔ اس عشق کا تو یہ عالم تھا کہ اس کا اندازہ لگایا ہی نہیں جاسکتا :

بپایاں چوں رس ایں عالم پیر

شود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر

مکن روسا حضور خواجہؐ ما را

حساب من زچشم او نہاں گیر

ترجمہ:(جب یہ عالمِ پیر اپنے اختتام کو پہنچے گا اور ہر پوشیدہ تقدیر کُھل کر سامنے آجائے گی (یعنی ہزاروں برس سے چلنے والی یہ دنیا ختم ہوجائے گیاور انسانوں کے اعمال ان کے سامنے آجائیں گے۔

اس وقت ہمیں حضور اکرمؐ کے سامنے ہمیں رسوا نہ کیجیے گا، ہمارے اعمال سے متعلق پوچھ گچھ حضور اکرمؐ کی نگاہوں سے چھپا کر کیجیے گا ، تاکہ مجھے اپنے گناہوں اور خطائوں پر حضور اکرمؐ کے سامنے شرمندگی نہ اُٹھانا پڑے)۔

علامہ کے لیے عشق مصطفیؐ ایک ایسی بے مثال نعمت تھی کہ حضور رسالتؐ میں نہایت خلوص اور عاجزی کے ساتھ التجا کرتے:

ہمیں یک آرزو دارم کہ ’’جاوید‘‘

زعشق تو بگیرد رنگ و بوے

ترجمہ: میری بس یہی دعا ہے کہ جاوید اقبال (خود علامہ کے فرزند اور نئی نسل) حضور اکرمؐ کے عشق سے رنگ و بو حاصل کرے۔

جاوید اقبال بتاتے کہ وہ اقبالؔ کے فقر و استغنا سے بھی متاثر ہوئے۔ وہ زندگی کی مادی آسائشوں کی خواہشات سے قطعی طور پر پاک اور بے نیاز تھے۔ وکالت بھی کرتے تو اس حد تک کہ گھر کا خرچ چلتا رہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان کی زندگی میں ان کی تصانیف کی اشاعت کسی معقول آمدنی کا ذریعہ نہ بن سکی۔ گھر بنایا تو بیوی کے بچائے ہوئے روپوں سے اور فوت ہوئے تو اپنے بطور اپنے فرزند کے کرایہ دار۔ زندگی کے آخری ماہ کا کرایہ بھی ادا کرکے وفات پائی۔ بنک میں جو سرمایہ تھا وہ ان ہی کی خواہش کے مطابق کی تجہیز و تکفین پر خرچ ہوا۔ ان کی جرات اظہار اور حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کی جرات کا بنیادی سبب ان کا فقر ہی تھا۔ اقبال یقینی طور پر عشق، فقر، جرات، حریت کا پیکر تھے ۔

علامہ اقبال کے فکر ی پس منظر پر غور کرنے کے لیے اٹھارویں صدی کے حالات سے ابتداء کرنا پڑے گی جب سلطنت عثمانیہ، روس اور برطانیہ کے اقتدارکے زیر اثر دنیائے اسلام کا اخلاقی ، سیاسی اور اقتصادی زوال بدحالی تک پہنچ گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں عرب، شمالی افریقہ، جنوبی روس اور ہندوستان میں وہابی طرز کی اصلاحی تحریکیں ابھریں۔ اگرچہ ان تحریکوں کا عملی طور پر باہمی ربط نہ تھا لیکن مقاصد کے لحاظ سے یکسانیت پائی جاتی تھی۔ ان مقاصد میں تصوف، ملائیت اور سلطنت عثمانیہ کی مطلق العنانیت کے اثرات کو ختم کرنااور اسلام کی اصل اور حقیقی فکر کی تلقین کرنا تھا۔ لیکن جب یورپ کی اقتصادی ہوس بڑھی او ر اس نے اسلامی ممالک میں سے بعض پر براہ راست تسلط جمایا اور بعض ممالک کا اقتصادی استحصال کیا ۔ مغرب کی اس در اندازی سے مسلمان مغرب کے جدید تصورات آئین پسندی، سیکولر ازم، نیشنل ازم اور ریڈیکل ازم ایسے تصورات سے متعارف ہوئے۔

مغربی افکا ر کی در اندازی کے سبب دنیائے اسلام میں دو نقطہ ہائے نظرپیدا ہوئے۔ ایک وہ جس نے مغربی افکار اور تہذیب و تمدن کی شد و مد کے ساتھ مخالفت کی ۔ ان میں عرب کے ابن عبد الوہاب، شمالی افریقہ کے محمد السنوسی اور ہندوستان میں سید احمد بریلوی اور تینوں کے معتقدین شامل تھے۔ اس فکر کے حامل افراد کو وہابی تحریک کہا گیا۔دوسرے وہ مصلحین تھے جنہوں نے مغربی افکار ہو اسلامی رنگ دینے کی کوشش کی ۔ ان میں ترکی کے مدحت پاشا، جنوبی روس میں مفتی عالم جان، مصر میں شیخ محمد عبدہ اور ہندوستان میں سر سید احمد خان ایسے مفکرین جن کی فکر کو لبرل اور سیکولر ازم کہا گیا۔ ایسے میں سید جمال الدین افغانی آگے بڑھے اور یورپ کی ترقی کو اختیار کرنے پر زور دیا وہابیت اور لبرل ازم میں مصالحت پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی جس کے نتیجے میں پان اسلام ازم کی تحریک وجود میں آئی۔ جو سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کے وقت نیشنل ازم کی صورت اختیار کرگئی۔

اقبال ؔ کی اجتہادی فکر ہے ایسے ہی حالات میں پروان چڑھی ۔اقبالؔ برِصغیر ہندوپاک میں روشن خیالی اور لبرل ازم کے سلسلے کے آخری چراغ ہیں۔ ان کا 1907ء کے بعد کا کلام فرد اور جماعت کی اہمیت ، تخلیقی عمل اور جہد مسلسل کے اصرار پر مشتمل ہے اور اس سارے کلام میں ان کا مطمح نظر مسلمانان عالم اور خاص کر مسلمانان ہند کی سماجی، اخلاقی، اقتصادی اور سیاسی ترقی ہے۔ اقبالؔ مسلمانوں کے علم میں ایک خاص قسم کی تبدیلی و تجدید (Reformation) کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں ، اجتہاد کو مسلمانوں کی زندگی میں جاری و ساری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے سامنے ایک تصور تو یہ تھا کہ بر صغیر میں مسلمانوں کی کوئی ریاست قائم ہو ۔ اقبالؔ ترکوں کے خلافت کو ختم کرنے کو درست اقدام سمجھتے تھے اور جمہوریت ان کے خیال میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کی طرف رجوع تھا۔ یہ ان کا جذبہ اجتہاد ہی تھا کہ وہ اسلامی ممالک میں آئین ساز مجالس کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے مسلم اقوام پر زور دیتے تھے کہ وہ اپنے قدیم اداروں اور روایات پر نظر ثانی کریں۔ وہ جدید تجربات کی روشنی میں شریعت اسلام کی تعبیر کے لیے اجتہاد پر زور بھی دیتے تھے لیکن ساتھ ہی اس یہ شرط بھی رکھتے تھے کہ اجتہاد کو اس طرح کیا جائے کہ قوانین شریعت کی اصل روح ختم نہ ہونے پائے۔

اقبال کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے ہر پہلو کو ایک فلسفیانہ اساس قائم کرکے اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا ہے ۔ اقبال کا طرز تحریر نہ تو مناظرانہ رہا اور نہ عذر ومعذرت خواہانہ۔ انہوں نے نہایت جرات کے ساتھ تعمیر خودی کے فلسفے کو بیان کیاکہ جس سے مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمتِ رفتہ کو بحال کرسکیں ۔ اس کے لیے انہوں نے ’’مردِ مومن‘‘ کی اصطلاح کا تصور بھی پیش کیا وہ مردِ مومن جس کی جلوت اور خلوت مکمل اسلامی رنگ میں ڈحلی ہوئی ہو۔اقبالؔ تمام عالمِ اسلام کو زندہ و بیدار دیکھنا چاہتے ہیں ۔ہماری پرانی عظمت کی بازیافت کے لیے ان کے دل میں بے پناہ تڑپ ہے۔ جس کے لیے وہ ترکِ دنیا کی بجائے ترک ِفرنگ کی نصیحت کرتے ہیں۔ اقبالؔ اقوام مشرق کو مغربی استعمار کی قید سے رہائی کی جو تدابیر بتاتے ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اقوام مشرق کو مغرب کی نو استعماری سازشوں سے خبردار رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے کھدر کو اغیار کے ریشم پر ترجیح دینا اور اپنے خام مال و وسائل کی حفاظت کرنا ہے۔دین کے ساتھ ان کی محبت بڑی غیر معمولی ہے۔

اقبالؔ کا کلام ہر نئی نسل کے لیے ہے۔ دیگر قومی المیوں کی طرح یہ بھی ہمارا ایک بڑا قومی المیہ ہے کہ نوجوان طبقے میں اپنے تمدن سے آگاہی ، تجسس کی فراوانی اور فکرِجدیدکی جستجو جیسے جذبات ماند پڑتے جارہے ہیں۔ ایسے میں اقبالؔ کی وہ دعا قبولیت کا شرف کیسے پائے ؟ جس میں وہ جوانوں کو اپنے کلام سے روشناس کرانا چاہتے ہیں۔


ای پیپر