جھوٹ، دھوکہ دہی، ضد اور جھوٹی اناؤں کا راج
18 نومبر 2019 2019-11-18

حکمران بنتے ہی عوام رعایا اور غلاموں میں جبکہ بڑے بڑے خادم،تبدیلی کے دعویدار جمہورئیے اور نجات دہندے اندھے،بہرے اور گونگے حکمرانوں میں بدل جاتے ہیں۔ ان کے دل سخت ہو جاتے ہیں۔ پتھروں کی مانند نہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ کیونکہ فرمان الٰہی اور مشاہدے کی بات ہے کہ کچھ پتھر تو اللہ کے خوف سے لرز جاتے ہیں اور کچھ سے چشمے پھوٹتے ہیں مگر حکمرانوں اور حکمران طبقوں کے دلوں سے صرف نفرت، جھوٹ، دھوکہ ، ضد جھوٹی انا پھوٹتی ہے جس کا آج 1947ء میں قربانیاں دینے والوں کے دیس میں راج ہے۔

کہتے ہیں کہ سچ کو آنچ نہیں مگر ہمارے ہاں جھوٹ نے سچ کو زمین بوس کر دیا حالانکہ خاموش بھی ہو تو سچ ہی تاریخ بنتا ہے۔ ہر معاشرے میں کسی زمانے کا بڑا سانحہ یا قدرت کا تحفہ ہوتا ہے آج کا سانحہ جھوٹ کا راج ہے۔ اگلے روز ٹی وی پر سیاسی مباحثہ کے شو میں پی ٹی آئی کی ایک خاتون فرما رہی تھیں کہ لوگ یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ نواز شریف بیمار ہیں جبکہ حکومت یقین دلا رہی ہے ڈاکٹرز، عدلیہ سب اور خود اُن کی حالت مگر سوشل میڈیا پر دیکھ لیں کوئی یقین نہیں کر رہا گویا اب میڈیکل رپورٹ ڈاکٹر اور لیباٹریاں نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے جعلی اکاؤنٹ دیں گے اور سات ارب کیا لوگوں کو یقین دلا دیتے ؟دراصل 7 ارب عمران سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔

حکومتی بنچوں پر موجود ایک ایک کر کے ریاست مدینہ کی سواریوں پر ذرا غور فرما لیں اور مدینہ جس کا حوالہ دیا جاتا ہے اس کی ضرب المثل شخصیات کا مطالعہ کر لیں، ٹی وی پر آنے والے اینکرز لوگوں کی غلط رہنمائی کرتے ہیں جیلوں کے نظام کو میں اچھی طرح جانتا ہوں جیلوں میں صفائی ستھرائی کا خیال ہسپتالوں سے کہیں زیادہ رکھا جاتا ہے میرے بھائی گلزار احمد بٹ صاحب سپرنٹنڈنٹ جیل کبھی کبھار اُن کے دفتر ملنے جاتا تو میں نے اکثر ایک یا دو بڑی سرکاری گاڑیاں جیل سے قیدیوں اور حوالاتیوں کا میڈیکل چیک اپ کے لیے ہسپتال لے جانے کے لیے کھڑی پائیںجو ہسپتال سے چیک کروا کر واپس لے آتیں۔ جیل ہسپتال بندوبست نہ کر پاتے تو ڈاکٹر کی تجویز پر حوالاتی اور قیدی سروس ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں۔ میں نے بیسیوں لوگوں کی میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت ہوتے دیکھی چونکہ قانون و عدالتی تاریخ کا کچھ علم نہیں ہوتا اور ٹی وی پر آجاتے ہیں۔ قانونی معاملات پر رائے زنی کرنے ،ایک سیکنڈ میں ڈائیلاگ آجائے گا کہ تمام قیدی بیرون ملک بھیج دیں۔ کیا تمام قیدی حکومت کا ٹارگٹ ہیں؟ ہاں! اگر لاء انفورسمنٹ ایک جیسی ہونا چاہیے تو موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے کرپشن، زنا، شراب، جھوٹ، دھوکہ دہی کا کوئی ایک بھی ملزم یا مجرم جیل میں بند نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت نے اپنی نا اہلی، نا کامی سابقہ حکومتوں پر ڈال دی کرپشن کرپشن کے خلاف راگ الاپنے والے کوئی ایک جگہ یا شعبہ بتا دیں جہاں کرپشن میں بڑھاوے کی بجائے کمی آئی۔نواز شریف کی بیماری پر یقین نہیں تو پوری دنیا میں حکمرانوں پر کب کسی کو یقین ہے کہ یہ حکومت سلیکٹڈ نہیں الیکٹڈ ہیں۔ نوبت اس بات پر آ گئی کہ سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ آ گئی کہ وزیراعظم کو سلیکٹڈ نہ کہا جائے۔ کوئی شک نہیں کہ کئی دیگر لوگوں کی طرح نواز شریف بھی فوجی آمر کے دور میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ قیوم کے ذریعے تحریک استقلال سے اٹھا کر گورنر پنجاب غلام جیلانی خان کے وقت میں وزیر خزانہ بنا دیئے گئے۔ مگر بقول حمید گل کے جب ’’ایجنسیوں کے فخر‘‘ میاں صاحب کی 1993ء میں حکومت توڑی تو وہ اسٹیبلشمنٹ کے حقیقی نمائندے اسحق خان کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ اس وقت انہوں نے تقریر کی جو سیاسی اور آزاد ذہن کی عکاس تھی اس نے میاں صاحب کو جناب بھٹو مخالف لوگوں کا رہنما بنا دیا ورنہ اس سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کو پیپلزپارٹی کے خلاف اتحاد لازمی بنانا پڑتے تھے۔ عدلیہ نے ان کی حکومت تو بحال کر دی مگر صدر وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ میں نفاق کی وجہ سے اسمبلی توڑنا پڑی جس کی وجہ سے میاں نواز شریف کے کمزور سیاستدان ہونے کا تاثر ابھرا۔ 1999ء میں جب مشرف نے ان پر اسمبلی توڑنے کے لیے دباؤ ڈالا تو وہ ڈٹ گئے اور چودہ ماہ اپنے خاندان سمیت سخت ترین جیل کاٹی۔ ہو سکتا ہے نواز شریف کو عدالتی حکم سے راستے سے صاف کیا جاتا مگر دو وجوہ رکاوٹ بنیں۔ ایک جناب بھٹو کی شہادت جو ابھی تک قاتلوں کو ہضم نہ ہوئی تھی لہٰذا سندھ کے بعد پنجاب میں میاں نواز شریف کا عدالتی قتل بھی بھاری پڑتا۔ ویسے بھی میاں شریف صاحب زبردست زیرک اور متحرک انسان تھے وہ عدلیہ میں بغاوت کا سبب بنے نواز شریف اور خاندان کو 10 سال کے لیے باہر بھیجنا بیرونی قوتوں کی سفارش ضرور تھی مگر اس میں مشرف نے بھی جان چھڑائی کہ محترمہ بینظیر بھٹو پہلے ہی باہر تھیں یہ بھی جائیں اور آرام سے بچ جانے والے سیاسی لوگوں میں سے سکریپ کو Remelt کر کے حکومت تیار کر لی نئے سیاسی خاندانوں اور کرپشن کی نئی داستانوں نے جنم لیا۔ 1988ء- 1997ء سیاسی جماعتوں کی حکومت سازی میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار واضح رہا مگر میاں نوا زشریف کی 1999ء کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے دوری ایسی ہوئی کہ پھر قربتیں نہ ہو سکیں۔ ان کی منقولہ غیر منقولہ جائیداد بھی دھر لی گئی۔ انہیں احساس ہوا کہ اگر سیاست کرنا ہے تو پھر وطن عزیز میں کاروبار نہیں کرنا چاہیے۔ لہٰذا وہ جدہ سے لندن اور پھر سابقہ اقتدار تک اپنا سب کچھ باہر لے گئے۔ ذاتی طور پر میاں نواز شریف نے ایک دن کاروبار نہیں کیا، کاروبار بڑے میاں صاحب کرتے جو جدہ میں ان کی وفات کے بعد بچو ں کے ہاتھ دے دیا گیا۔ بی بی شہید کو دی گئی تکلیفوں کا احساس میاں صاحب کو خود جیل کاٹ کر ہوا جبکہ جلا وطنی کی اذیت سے بھی پالا پڑا۔ پھر بی بی نے میاں نواز شریف کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی کیا جس نے اس وقت کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔ نواز شریف چونکہ ڈائریکٹ تازہ نشانہ تھے لہٰذا بی بی سے معاملہ ہوا مگر جب وہ زمینی حقائق کو ترجیح کی بات کرنے لگیں تو ساری دنیا کے سامنے ان کا قتل ہو گیا۔ بعد میں محترمہ بی بی شہید صاحبہ کا کفن جیت گیا اور زرداری صاحب نے حکومت بنا لی۔ 2013ء میں میاں صاحب کی اقتدار اور بقاء کی جنگ ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ اب کی بار میاں نواز شریف نے ہر چیز داؤ پر لگا رکھی ہے۔ عمران خان NRO نہ دینے کی بات کی رٹ محض سیاسی نعرے کے طور پر کر رہے ہیں ۔میاں نواز شریف کے لیے کوئی ادارہ نیا ہے نہ اقتدار کا زوال مگر اب وہ اس مقام پر ہیں جہاں موت زندگی پر فوقیت پا جاتی ہے۔ لہٰذا نواز شریف اب کھڑے ہیں اور کھڑا بھی اُن کو سیاست میں لانے والوں نے خود اپنی ہٹ دھرمی سے کیا وہ اُن کے دم سے بھی واقف ہیں۔ حکومت نے بیرون ملک علاج کے لیے 7 ارب کی رقم زر ضمانت مانگی اگر کوئی حادثہ ہو جاتا تو 7 ارب کا کیا ہوتا؟ کیا وطن عزیز خانہ جنگی، افراتفری اور قوم کو کرچی کرچی کرنے سے بچا سکتے۔ عمران نے ایک اخلاقی فتح کا موقع سیاسی اور اخلاقی ناکامی میں بدل دیا۔ جمہوریت نہیں اس وقت ملک میں جھوٹ، دھوکہ دہی، ضد ، جھوٹی اناؤں اور وطن دشمنی کا راج ہے۔ محض قید ہی امتحان ہے میاں صاحب تو بیماری بھی کاٹ رہے ہیں۔ کالم کے دوران ہی خبر آئی کہ ہائی کورٹ نے میاں صاحب کو اجازت دے دی انتہائی احسن فیصلہ ہے۔


ای پیپر