ایران میں پولیس نے احتجاج کرنے پر 36 شہری مار دئیے
18 نومبر 2019 (14:44) 2019-11-18

تہران: ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 36افرادجاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ان پر پرفائرنگ اور آنسو گیس استعمال کی،40سے زائد افراد گرفتار بھی کئے گئے،اس ضمن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پٹرول مہنگا کرنے کی حمایت کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو غیر ملکی آلہ کار قرار دیا ہے۔ ایران میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ مہنگائی کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا۔

تفصیلات کے مطابق دارالحکومت تہران سے شروع ہونے والا یہ احتجاج اب مختلف شہروں اور قصبات تک جا پہنچا ہے۔متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے احتجاج کو سختی سے کچلنے کی کوشش کی۔ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 4 روز کے دوران 36 افراد ہلاک ہوچکے اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 40 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پٹرول مہنگا کرنے کی حمایت کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو غیر ملکی آلہ کار قرار دیا ہے۔


ای پیپر