صدر مملکت، دو ملاقاتیں
18 نومبر 2018 2018-11-18

ایک خدشہ کئی روز سے ذہن میں کلبلارہا تھا۔شاید اٹھارہویں ترمیم کا مستقبل مخدوش ہے۔ صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات میں یہ خدشہ دور ہوا۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ایوان صدر کے مکین صدر مملکت کا کردار اب سیاسی سے زیادہ آئینی اور کسی حد تک علامتی بھی ہے لیکن پھر بھی آئین کی کسی بھی شق نے صدر مملکت کے لبوں پر بے اختیاری کی مہر نہیں لگائی۔ ویسے بھی اختیار ہوتا ہی کیا ہے۔ اختیار عہدے پر بیٹھے فرد کو حدود و قیو د،قاعدہ وقانون، ضابطوں کا پابند بناتا ہے۔ ایوان صدر کے نئے مکین پیشہ طب اور سیاسی جدو جہد کاامتزاج ڈاکٹر عارف علوی آئینی تقاضوں کے اندر رہتے ہوئے ایک سر گرم کردار ادا کرنے کیلئے کیل کانٹے سے لیس ہو کر تیار ہیں۔ یہ لکھنے اور مان لینے میں بھی کوئی قباحت نہیں کہ ابھی چند ماہ پہلے تک پانچ سال تک منصب صدارت پر فائز سابق صدر ممنون حسین نے اپنے عہدہ سے پور ا انصاف کیا۔ بیرونی ممالک کے دورے بھی کیے۔ یونیورسٹیوں میں بھی گئے۔ جہاں بولنا تھا وہاں لب کشائی کی۔ جہاں خاموشی ضروری تھی وہا ں خاموشی کی آپشن کو اختیار کیا۔ ان کے حوصلے صبر کی داد دینا پڑتی ہے۔ ان کا سامنا پی ٹی آئی کی منظم سوشل میڈیا کے مہم جوؤں کیساتھ تھا۔ جنہوں نے ان کی ذات،کاروبار، گھریلو زندگی تک کو لطیفہ بنایا۔لیکن بہر حال وہ اپنے پانچ سال باعزت طریقہ سے مکمل کر گئے۔ ورنہ کسی زمانہ میں تو صدور ایسے رخصت ہوتے کہ کسی کو خبر بھی نہ ہوتی۔ جمہوریت کو صبح و شام منہ بھر کر گالی گلوچ دینے والے نہیں جانتے کہ یہ جمہوریت کا اعجاز ہے کہ طویل سیاسی جد وجہد کے پل صراط سے گزر کر آئے سیاسی کارکن عارف علوی اور ماضی قریب میں متوسط طبقے کے نمائندہ ممنون حسین ریاست پاکستان کے آئینی سربراہ رہے۔ یہ بھی جمہوری تسلسل کا کرشمہ ہے کہ انتقال اقتدار پر امن طریقہ سے ہوتا ہے۔ کوئی غیر جمہوری قوت مداخلت نہیں کرتی۔ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر کے صدر باقاعدہ گارڈ آف آنر لیکر رخصت ہوتا ہے۔ نیا صدر اپنے حسن انتخاب کے تقاضوں کے مطابق آئینی طریقے سے اپنی ذمہ داریا ں سنبھالتاہے۔ عارف علوی کو منتخب ہوئے ابھی شاید دو اڑھائی ماہ ہی گزرے ہیں۔لیکن یوں لگتا ہے کہ وہ اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کر کے رخصت ہوں گے تو اپنے پیچھے ان گنت،ان مٹ نقوش چھوڑ کر جائینگے۔ اقتدار پر فائز فردو ہ کتنے ہی اعلیٰ ترین عہدے پر فائز کیوں نہ ہوایک دن تو سابق ہونا ہی ہوتا ہے۔ خود چلا جاتا ہے اس کا ادا کردہ رول تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ عارف علوی اڑھائی ماہ میں دھیرے دھیرے اپنے کردار کو متعین کیا ہے۔ ضروری نہیں کہ سیاست ہی کی جائے پروجیکشن درکار ہو تو خلوص نیت سے خدمت بھی کی جا سکتی ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں کئی مرتبہ ایوان صدر میں بطور مہمان وزٹ کرنے کا موقع ملا۔ وزیر اعظم کی حلف برداری وزرائے کرام کا حلف پھر صدر مملکت کے طور پر انتخاب کے بعد جناب عارف علوی صاحب نے خود آئینی سربراہ کے طور پر حلف اٹھایاتو ایک مرتبہ پھر حاضر ی۔ایک بات ان تمام مواقع پر محسوس ہوئی کہ اب ایوان صدر میں شان وشوکت کے ساتھ ساتھ سادگی نے بھی جگہ بنا لی ہے۔ قلمکار کی رائے میں ایٹمی قوت کے حامل ملک کے سربراہ کی رہائش اور ان کا دفتر شایان شان ہونا چاہیے۔ اگرچہ فضول خرچی کا عنصر تو ماضی میں بھی نہیں دیکھا گیا۔ تا ہم اب سادگی کو ماٹو بنا لیا گیا ہے۔ جو خوش آئند ہے۔ اب تقریبات میں چائے کا وقت ہو تو بسکٹ وہ بھی بہت سادہ پر ہی مہمان نوازی ہوتی ہے جبکہ مہمان کھانے پر مدعو ہوں تو سنگل ڈش ہی سرو کی جاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ میٹھے کی ایک اور ڈش۔ صدر مملکت کو خوش قسمتی سے نہایت متحرک موثر اور مشاق میڈیا ٹیم میسر ہے۔ جناب صدر مملکت کے پریس سیکرٹری طاہر خوشنود کو اس دشت کی سیاحی میں طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کے معاون خصوصی قادر یار بھی پبلک ریلیشننگ کے جدید تقاضوں سے واقف ہی نہیں ہم آہنگ بھی ہیں۔ ابھی چند ہی ہفتے گزرے ہیں اور جناب صدر مملکت کے کئی بڑے ٹیلی وڑن نیٹ ورکس کے پرائم ٹائم حالات حاضرہ کے پروگراموں میں جلوہ گر ہو چکے ہیں۔ کوئی سیاسی بات کیے بغیر اپوزیشن یا سیاسی مخالفین کو پگڑیاں اچھالے بغیرکہنہ مشق سیاسی ورکر نے جو گفتگو کی وہ نجی چینلوں پر ہی نہیں بلکہ اگلے روز اخبارات کی سہ سرخیوں کی زینت بنی۔ اب تو شاید ہی کوئی ایسا چینل ہو گا جو جناب صدر مملکت کے انٹر ویو کیلئے بھاگ دوڑ نہ کر رہاہو۔ یقینی طورپر جناب صدر کی بے لاگ اور دو ٹوک گفتگو اچھی ریٹنگ دیتی ہو گی۔ ابھی صدر مملکت نے صرف ایک ملک کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے طیب اردگان کی دعوت پر استنبول جا نا تھا۔حالانکہ روانگی کا وقت علی الصبح پانچ بجے تھا۔جناب صدر نے حسب معمول سادگی کو اپنا شعار بنایا۔ دو گاڑیوں کے ساتھ ائر پورٹ پہنچے۔ اپنا سامان خود اٹھایا۔ قطار میں لگ کر قانونی مراحل سے گزرے۔ یوں ایک مثال قائم کر د ی۔ جناب صدر کی متحرک مستعد میڈیا ٹیم کا کمال تھاکہ اتنی سویرے بھی تمام ٹی وی چینلزکے سینئر نمائندے موجود تھے بلکہ ان کی روانگی اور اس موقع پر بے تکلفانہ گفتگو کو لائیو نشر کیا۔ صدر مملکت نے ساری زندگی، سیاست کے خارزار میں صف اول کے سپاہی کے طور پر گزار ی ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ اپنی بات پہنچانے کیلئے میڈیا سے زیادہ موثر اور کوئی میڈیم نہیں لہٰذا ایوان صدر کے دروازے اب میڈیا کیلئے کھل گئے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران صدر مملکت پی بی اے جو ٹی وی چینل مالکان کی نمائندگی کرتی ہے۔اے پی این ایس اخباری مالکان اور اخبارات کے عامل مدیران کی نمائند ہ تنظیم سی پی این ای سے تفصیلی ملاقات کر چکے ہیں۔ یہ مرحلہ گزرا تو اب قدم مزید آگے بڑھے۔گزشتہ ایک ہفتہ میں جناب صدر نے پہلے تو ٹی وی چینلوں کے نامور اینکروں سے تفصیلی ملاقات کی ابھی دو ہی روز گزرے تھے کہ کالم نویسوں اور اداریہ نویسوں کیلئے ملاقات مع طعام کا اہتمام کیا گیا۔ خاکسار کو ناموری کا دعوی ہے نہ اپنی کالم نویسی پر کوئی خوش فہمی البتہ کیمرے اور قلم کی ہمہ وقت مزدوری نے ان دونوں ملاقاتوں میں حاضری کے قابل بنایا۔ حاضری کے اعتبار سے نہایت شاندار تقریبات۔ کون سا ایسا اینکر تھا جو اپنے پرائم ٹائم شو کو چھوڑ کر موجود نہ ہو۔ کوئی ایسا اہل قلم نہ تھا جس نے حاضری کو مس کیا ہو۔ زیادہ تر گفتگو آف دی ریکارڈ تھی۔ جو آن ریکارڈ تھی وہ کچھ شائع ہوئی کچھ رہ گئی۔ بہر حال یہ کوئی پریس کانفرنس نہ تھی جناب صدر صاحب کے سامنے ان کا آئینی کردار،مکمل وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ ان کے ذہن میں خواتین کی وراثت کے متعلق قانون سازی کی واضح تصویر ہے۔ ان کو پانی کے ضیاع کا بھی شدید قلق ہے۔ پانی کی بچت کیلئے صدر صاحب کا کردار اہم ہے۔ تعلیم اور صحت کے حوالے سے وہ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس میں بھی ان کے ذہن میں کیا ابہام ہے۔وہ حکومت کا حصہ ہیں نہ اب اپنی جماعت کا۔ لیکن جہاں کہیں گنجائش ہوتی ہے وہ مشورہ دیتے ہیں۔اپنی جماعت کے منشور سے قطعی متفق ہوتے ہوئے وہ حالات کے تقاضوں سے واقف ہیں لیکن پھر بھی وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت اپوزیشن کی کشمکش اچھا شگون نہیں۔ اس کشیدگی کو ختم ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے اپنا کردار بھی ان کو معلوم ہے۔ حکومت وقت کے بارہ صفت جنگجو وزراء چند لمحے صدر مملکت کے ساتھ گزار لیں تو ان کو اچھے مشورے مل سکتے ہیں۔ صدر مملکت ان کیلئے کوئی غیر نہیں وہ ان کے اپنے ہیں۔ اپنوں کی بات سننے میں کیا حرج ہے؟


ای پیپر