100 دن 1000 مسائل
18 نومبر 2018 2018-11-18

حکومت کے 100 دن پورے ہونے کو ہیں عوام نے 75 دن گزرنے پر ہی پوچھنا شروع کردیا تھا’’ چناں کتھاں گزاری ای رات وے‘‘ زیادتی ہے ماضی میں تو گیارہ گیارہ سال حکومت کرنے والوں سے نہ پوچھا گیا۔ کہ وہ کس سے پوچھ کر اور کس کے کہنے پر آئے تھے اور کیا کر کے گئے، آئین موجود تھا تو غیر آئینی اقدام کیوں؟ غیر آئینی اقدام کیا تو سزا کیا ملی؟ کچھ بھی نہیں، جو مر گئے وہ اللہ کو جوابدہ، جو زندہ ہیں وہ کمائے ہوئے مال سے باہر بیٹھے عیش کر رہے ہیں، بلانے پر بھی نہیں آرہے دائمی وارنٹ جاری کردیے گئے ان کی صحت پر کیا اثر پڑا، ایک آئینی وزیر اعظم نے غلطی ہوگئی، انہوں نے انجانے میں یا شاید جان بوجھ کر بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا، اب تک کیے کی سزا بھگت رہے ہیں مقدمات کا لامتناہی سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آرہا، ایک ریفرنس میں 120 سوالات کے جوابات دے چکے 30 کے مزید باقی ہیں شاید آج دیں، پیشیاں بھگت بھگت کر ہانپ گئے، مزید ریفرنسز تیار ہیں، عرض کر رہے تھے کہ عوام نے 75 دن گزرنے پر ہی جوابدہی شروع کردی، اتنے دنوں میں تو نوزائیدہ بچے کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ پھر شور کیوں؟ اتنا شور کبھی نہ ہوتا لیکن موجودہ حکومت ذرا ’’نویں اسٹائل‘‘ سے آئی ہے، نئے پاکستان کے ڈھول پیٹتی، قرضوں کے باجے بجاتی اور اپوزیشن کے خلاف طبل جنگ کے ’کھڑاک ‘کرتی اقتدار کی بگھی پر سوار ہوئی، وعدوں اور دعوؤں کی پٹاری کاندھے پر تھی، آتے ہی اعلان کیا کہ 100 دنوں میں تبدیلی نظر آئے گی، عوام بے چارے 70 سالوں سے محرومیوں کا شکار خوش فہمیوں کے عادی سیاستدان کے دلاسوں سے بہلنے والے وہ سمجھے کہ 100 دنوں میں ملک کی تقدیر بدل جائے گی ان کے اپنے دن پھر جائیں گے کسی نے کہا سہانے دن آنے کو ہیں 700 ارب یعنی 7 کھرب تو ایک شخص سے واپس لے لیں گے، قرضے تو چشم زدن میں اتر جائیں گے، پاکستان قرضے لے گا نہیں آئی ایم ایف کو قرضے دے گا، ڈیم بنیں گے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے ڈالروں کی بارش شروع ہوجائے گی ،کم از کم 10 کھرب ٹیکس کی مد میں جمع ہوں گے، 50 لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں، فہرستیں تیار، امیدواروں کا انتطار، ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں، نام لیتے ہی سوئٹزر لینڈ کے بینکوں سے 300 ارب ڈالر پاکستانی بینکوں میں واپس آ جائیں گے، اتنے بڑے بڑے دعوؤں پر عوام ریجھ گئے لیکن اپوزیشن والے چوکس ہوگئے اور سو دنوں کے آتے آتے حالات کے گھپ اندھیروں میں تبدیلی ڈھونڈتے رہے ،کہیں ہوتی تو نظر آتی، نئی حکومت کو ایک مہذب معاشرے کی بنیاد رکھنا تھی، معتدل معاشرتی رویوں کی آبیاری، طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ، منافرت پھیلانے والوں کا احتساب، تعمیری انداز فکر کی حوصلہ افزائی، مخالفانہ آوازوں کو اہمیت دے کر قومی مفاد میں مثبت تجاویز پر عملدرآمد، ملکی معیشت کا استحکام، امن و امان، خوشحالی، نئے پاکستان کا یہ روڈ میپ تھا لیکن یہاں تو سر منڈاتے ہی پاؤ پاؤ بھر کے اولے پڑنے لگے، ابتدا مالی بحران سے ہوئی، وہ ہاہا کار مچی کہ الامان والحفیظ، اندازہ ہی نہیں تھا کہ ابتدائی 100 دن کیسے گزریں گے’’ یہ بھی افتاد پڑے گی ہمیں معلوم نہ تھا ‘‘آپا دھاپی میں وزیر اعظم کو اوپر تلے سعودی عرب کے دو دورے کرنے پڑے، پہلے دورے میں شرائط کا رقعہ جیب میں ڈال دیا گیا دوسرے میں امداد کی نوید،آنکھیں چمکنے لگیں ایک ارب ڈالر مل جائیں گے، وزیر خارجہ کو چین بھیجا گیا خود بھی جانا پڑا تب کہیں کاغذوں پر معاہدے ہوئے، 3 ارب ڈالر لینے گئے تھے بقول احسن اقبال 3 ڈالر بھی نہ مل سکے، 100 دنوں کا تجزیہ کیا کریں، گھر کا گھر بیمار تھا۔ تسکین دیتے اور قطرے پلاتے 3 ماہ گزر گئے، 100 دنوں میں تبدیلی کیا آتی۔ تقرریاں اور تبادلے ہی مکمل نہیں ہوپائے، جو اینٹ اٹھاتے ہیں شیر کی دھاڑ سنائی دیتی ہے، جس بندے پر ہاتھ رکھتے ہیں وہ سابق وزیر اعظم کا وفادار نکلتا ہے ،کریں تو کیا کریں، پوری بیوروکریسی مشکوک، اسے تبدیل کرنے میں کئی زمانے لگیں گے تب تبدیلی کا سفر شروع ہوگا، اس عرصہ میں بد گمانیاں پیدا ہونا شروع ہوجائیں گی، شروع ہوگئی ہیں، ڈانٹ ڈپٹ کی گونج سنائی دینے لگی ہے، ایک وزیر مملکت نے حکومتی ٹیم کو ناتجربہ کار قرار دے دیا کہا کہ ہم کٹی پتنگ نہیں نا تجربہ کار ہیں، صدر مملکت نے بھی ڈھکے چھپے انداز میں ارکان اسمبلی کو نفسیاتی مریض کہا، صدر محترم سکہ بند ڈاکٹر بھی تو ہیں طب کے حوالے ہی سے بات کریں گے ،کہنے لگے ماہر نفسیات کو بہت سے ارکان اسمبلی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے دراصل مسائل کے حل کے لیے جس سنجیدگی اور تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ کہیں نظر نہیں آتی، تبدیلی کا کوئی روڈ میپ، ریاست مدینہ کا کوئی رول ماڈل ’’کچھ بھی نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے‘‘ اس کے بجائے بو کھلاہٹ نمایاں، اوپر سے نیچے تک صرف تھیٹرانہ انداز گفتگو، پھبتیاں، ایک صوبائی وزیر کو پنجابی کے جتنے محاورے اور ضرب الامثال یاد تھیں میڈیا کے سامنے دہرا دیں، 100 دنوں میں 100 یو ٹرن اس پر فخریہ انداز تکلم کہ جو حالات کے مطابق یو ٹرن نہیں لیتا، وہ لیڈر ہی نہیں ،کسی نے ٹوئٹ کی کہ کامیاب لوگ اپنے فیصلوں سے دنیا بدل دیتے ہیں جبکہ کمزور لوگ دنیا کے ڈر سے اپنے فیصلے بدل دیتے ہیں ،آنیاں جانیاں دیکھیں وزیر اعظم دن رات محنت کر رہے ہیں لیکن کیا کریں اپنے مدد نہیں کرتے، اپوزیشن سانس نہیں لینے دیتی حالانکہ خود اپوزیشن کی سانسیں اکھڑی اکھڑی ہیں، نیب نے سب کو وینٹی لیٹر پر پہنچا دیا ہے سارے بڑے مصنوعی سانس سے زندہ ہیں، آصف زرداری مفاہمت کے سارے سبق بھول کر انتہاؤں کو چھوتے ہوئے کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ’’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام ،آفاق کی اس کار گہہ شیشہ گری کا‘‘ کہنے لگے۔ سب جانتا ہوں کون کہاں سے مدد کر رہا ہے، طاقتوں کو جلد پتا چل جائے گا کہ عوام کے نمائندے ہی ملک چلا سکتے ہیں ان کے بنائے ہوئے نہیں، 100 دنوں میں صرف سنسنی خیز اعلانات ہوئے ہیں ، 10 ممالک میں 700 ارب کی منی لانڈرنگ کا انکشاف ایک صاحب وزیر اعظم کے معاون خصوصی، اپوزیشن نے انہیں احتساب الرحمان کا نام دے دیا، پہلے کبھی انہیں دیکھا نہ سنا، سبھی نئے ہیں ٹی وی چینلوں یا کنٹینر پر دائیں بائیں کھڑے ہو کر یا نواز شریف کوچور ڈاکو کہتے کہتے اتنے مشہور ہوگئے کہ وفاقی وزیر درجہ اول، وزیر مملکت درجہ دوم یا پھر معاون خصوصی اسپیشل کلاس بنا دیے گئے صلاحیت پر سوالیہ نشان، صلاحیت نہ منصوبہ بندی، معاف کیجیے بندیاں بہت ہیں منصوبہ نہیں، مل بیٹھیں سر جوڑ کر بیٹھیں تو منصوبہ بندی ممکن ہو لیکن اس کیلئے اہلیت و صلاحیت کہاں سے آئے، سیروا فی الارض کے حکم ربانی پر عمل کریں علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے، چین گئے تو تھے صلاحیت و اہلیت بھی لیتے آتے، اپنے یہاں تو دونوں چیزوں کا کال ہے قحط الرجال اسی کا تو نام ہے، بندے 75 ہزار کام کا بندہ ندارد، سارے ’’نویں نکور‘‘ باتوں کے غازی، کردار کے غازی 100 دنوں میں نہیں بن سکے، بننا چاہیں گے تو 5 سال لیں گے معاون خصوصی کے 700 ارب کی منی لانڈرنگ کی طرح دیگر وزرا بھی ان 100 دنوں میں صرف انکشافات ہی کرتے رہے ہیں لیکن 100 دنوں میں بقول مشاہد اللہ حکومت نے اپنے لیے 1000 مسائل کھڑے کر لیے ہیں ،کوئی احتساب کرے نہ کرے خود احتسابی کے تحت 100 دنوں کا حساب کریں اور نیچے کی مخلوق کے فراہم کردہ اعداد و شمار کی بجائے آسمان دنیا کے فرشتوں سے معلومات لیں اور ان دیکھی دنیاؤں کے پردے چاک کرنے کے بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کیلئے قدم آگے بڑھائیں قوم 100 دن میں نہیں5 سال میں حساب لے گی۔


ای پیپر