طاہر خان داوڑ کی شہا دت اور افغانستان کا ردِعمل
18 نومبر 2018 2018-11-18

حق ہمسا یا ما ں کا جا یا۔ اور پھر جب ہمسا یہ ہو بھی مسلمان تو پھر کو نسی با ت پیچھے رہ جا تی ہے؟ ایک مرتبہ نہیں، سینکڑوں مر تبہ افغا نستان کو ایسے نا ز ک حا لا ت سے گذر نا پڑا جب پا کستا ن نے دا ئیں بائیں کی پر و ا ہ کیئے بغیر یہ حق ادا کیا۔ جو ا ب میں پا کستا ن نے کیا پا یا؟ پا کستا ن کے ہر نازک مو قع پر اسے ا فغا نستا ن نے چر کا دیا۔ گذ شتہ دنوں افغانستان میں شہید ہونے والے ایس پی رورل ڈویژن پشاور طاہر خان داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا۔ اس مو قع پر افغانستان کا رو یہ اشا رہ دیتا ہے کہ ان کا قتل دہشت گر د تنظیمو ں سے کہیں آ گے کا معا ملہ ہے۔ کس طو ر اغو ا کر نے وا لے پاکستان پہنچے اور پھر کیو نکر اسلا م آ با د سے طا ہر خا ن کو اغوا کر نے کے بعد میا نو ا لی پہنچے اور وہا ں سے بنو ں کے راستے ہو تے ہوئے سر حد پار پہنچے ؟ گو یہ سوا ل اپنی جگہ بہت اہمیت کا حا مل ہے کہ کیو ں اس تما م تر صو ر تِ حا ل میں کیمر وں کی کار کر گی صفر رہی، مگر سب الزا م کیمر و ں پر ڈا ل کر ادا روں کو بری ا لز مہ قر ا ر نہیں دیا جا سکتا۔ اب پا کستا ن نے افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سانحے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور پاکستان کو اس سے آگاہ کیا جائے۔ افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایس پی طاہر خان داوڑ کی لاش ننگر ہار کے ضلع دربابا میں مقامی لوگوں کو ملی۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایس پی طاہر خان داوڑ کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے تو دیا ہے۔ مگر ما ضی کی رو شنی میں د یکھنا ہو گا کہ کیا یہ کا فی ہے؟ دو سر ی جا نب بی بی سی کے مطابق خراسان ولایہ نامی تنظیم نے طاہر خان کے اغوا اور شہید کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ ایس پی طاہر خان داوڑ 26 اکتوبر کو اسلام آباد اپنے گھر گئے جہاں سے وہ اگلے روز لاپتہ ہوگئے تھے۔ 28 اکتوبر کو تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کرکے پولیس کی تحقیقاتی ٹیم بنادی گئی تھی۔ ایس پی طاہر خان کے فون سے آخری لوکیشن ایف ٹین کی سامنے آئی تھی۔ بتایا گیا کہ بنوں میں پوسٹنگ کے دوران طاہر خان داوڑ کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں ملی تھیں۔ 19 دن بعد افغانستان سے ان کی نعش ملنے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی مگر پاکستانی حکام نے تصدیق سے انکار کردیا تھا۔ سینیٹ میں ایس پی طاہر خان داوڑ سے متعلق پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ طاہر داوڑ پاکستان کے وہ غیرت مند بیٹے تھے جن پر دو دفعہ حملے ہوئے، ان کے بھائی اور بھابھی کو شہید کیا گیا اور طاہر داوڑ کو دھمکیاں بھی موصول ہوتی تھیں جبکہ طاہر داوڑ کا اہلخانہ کو آخری پیغام تھا کہ میں محفوظ ہوں۔ آپ پریشان مت ہوں اور پھر 28 اکتوبر کو طاہر داوڑ کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ شہر یار آفریدی نے کہا کہ ایس پی طاہر خان داوڑ کا قتل تکلیف دہ واقعہ ہے اور یہ واقعہ پولیس کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ تاہم ریاست کا وعدہ ہے جو واقعے کے ذمہ دار ہیں انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ وفاقی دارالحکومت میں سیکورٹی کا انتہائی سخت نظام ہے جسے موثر بنانے کے لیے جابجا سیکورٹی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ تمام تر سیکورٹی کے باوجود ایک پولیس افسر کا وفاقی دارالحکومت سے اغوا اور پھر وہاں سے صوبہ خیبر پختونخواہ سے گزر کر سرحد پار افغانستان میں جانا پورے ریاستی نظام اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ اغوا ان خدشات کو جنم دیتا ہے کہ دہشت گردوں اور انڈر ورلڈ مافیا کا انتہائی موثر اور طاقتور ہے اور انہوں نے ملک بھر میں اپنے خفیہ اڈے قائم کر رکھے ہیں، اس سے یہ امر بھی سامنے آتا ہے کہ یہ بے شناخت دہشت گرد پورے معاشرے میں آزادانہ گھوم رہے ہیں جن کے سامنے تمام ریاستی اور سیکورٹی ادارے بے بس ہیں۔ تا ہم اس با ر ان کے تا نے با نے دہشت گر د تنظیمو ں سے کہیں اوپر جا مل ر ہے ہیں۔ان دہشت گردوں نے ایک پولیس آفیسر کو اسلام آباد سے اغوا کرکے اپنی قوت کا اظہار کیا ہے کہ وہ جب چاہیں کسی کو بھی اغوا کرکے سرحد پار لے جا کر قتل کرسکتے ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹ میں بیان دے رہے ہیں کہ ایس پی طاہر کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا لیکن سوال وہی ہے کہ جب ان کی تمام فورس اور سیکورٹی ادارے ایک پولیس افسر کے اغوا اور سرحد پار لے جانے کے عمل کو نہیں روک سکے تو وہ بے چہرہ ذمہ داروں کو کیسے گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر کا اغوا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں دہشت گردوں کے ہینڈلرز پاکستان میں موجود ہیں۔ مولانا سمیع الحق کا قتل بھی تاحال معمہ ہے اور قاتلوں کا سراغ نہیں ملا۔ پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے بڑی تیزی سے خاردار تار نصب کی جارہی ہے ، اس کے علاوہ متعدد چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں کچھ حلقے ان سیکورٹی چوکیوں کے وجود کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ بڑی شد و مد سے کرتے ہیں۔ ایس پی طاہر داوڑ کا اغوا اور قتل ایسے حلقوں کی آنکھیں کھولنے کے کافی ہے کہ اگر سیکورٹی چوکیوں کو ختم کردیا گیا تو پھر ایسی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ سیکورٹی کے حوالے سے موجودہ نقائص کا جائزہ لینے کے لیے حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے اور اگر اس مسئلے پر روایتی بیان بازی اور تساہل کا رویہ ہی اختیار کیا گیا تو پھر دہشت گرد پورے ریاستی نظام کے لیے خوف کی علامت بنے دندناتے پھریں گے اور کسی کی جان و مال محفوظ نہیں رہے گی۔ لہٰذا وقت کی یہ ضرورت ہے کہ افغانستان کی سرحد کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جائے اور اس سرحد سے ملے علاقوں میں قانون کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

جہا ں وطنِ عز یز میں ایس پی طا ہر خا ن کی شہا دت کی خبر کا انتہا ئی د کھ کے سا تھ سنا گیا، و ہیں ا فغا نستا ن کے رو یے اور لا ش پر سیا ست کے عمل نے اس دکھ کو دو چند کر دیا۔ ا فغا ن با شند و ں سے پا کستا ن کی محبت اور ہمد ر دی روزِ رو شن کی طر ح عیا ں ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ محد و د وسا ئل کے با وجو د پا کستا ن نے افغا ن مہا جر ین کو ایک طو یل عر صے سے پنا ہ دیئے رکھی ہے؟ پاکستان کی بندرگاہیں افغانستان کے لیئے کھلی ہیں، باوجود اس امر کے کہ اس پہ پاکستان کو ایک کھلی سمگلنگ کا سا منا ہے۔ کر ہِ ار ض کے ہر فو رم پر پا کستا ن نے افغا ن باشندو ں کی مر ضی کے مطا بق وہا ں جاری شو ر ش اور خا نہ جنگی کے خا تمے کی حما ئت کی ہے۔ مگر نہا ئت افسو س سے کہنا پڑ تا ہے کہ ا فغا نستا ن نے اس کا جو ا ب منفی پیر ائے میں دیا۔ اور اب شہید ایس پی طا ہر خا ن کی میت کی وا پسی کے مو قع پر افغا ن حکو مت نے جو رویہ اختیا ر کیا، وہ بین ا لا قو ا می اصو لو ں سے بھی متصا دم ہے۔ یہی وہ صورتِ حا ل ہے جو اشا رہ دیتی ہے کہ شہید ایس پی کا قتل دہشت گر د تنظیمو ں سے کہیں آ گے کی با ت ہے۔ اندا ز ہ لگا یا جا سکتا ہے کہ وطنِ عز یز کی سرا غ رسا ں ایجنسیا ں اب انہی خطو ط پر آ گے بڑ ھیں گی۔ ہمارے خدشات درست ہو نے کی صور ت میں پور ے خطے کو ایک نئے چیلنج سے سا بقہ پڑسکتا ہے۔یہ چیلنج خطے کے د یگر مما لک کو بھی متا ثر کر سکتا ہے۔


ای پیپر