یوٹرن کا جواز
18 نومبر 2018 2018-11-18

وزیراعظم عمران خان نے یوٹرن کے متعلق بیان دے کر بہت سے لوگوں کی اس خوش فہمی کو دور کر دیا ہے جو کہ یہ سمجھتے تھے کہ پنجاب اور مرکز کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور فواد چوہدری جو دانش و فکر کے موتی روزانہ کی بنیاد پر بکھیرتے ہیں اور مجھ جیسے کم عقل اور کم علم لوگوں کے ذہنوں کے بند دریچوں کو کھولنے کی جو کوشش کرتے ہیں۔ وہ دراصل انفرادی سطح پر ایسا کرتے ہیں۔ ان کے مزاحیہ اور رولا دینے والے بیانات محض ان کے زرخیز ذہنوں کی پیداوار ہوتے ہیں مگر تحریک انصاف کے زیادہ تر رہنما جو کہ ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر اپنی حکومت اور قیادت کا دفاع کرتے ہیں۔ ان کا ان دو وزراء سے محض لب و لہجے کا فرق ہوتا ہے ورنہ خیالات اور فکر کے حوالے سے وہ ان سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔

چند روز قبل نامور کالم نگار ہارون الرشید نے ایک ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت ایک مزاحیہ حکومت ہے اس لیے اس سے لطف اٹھائیے۔ میں نے ان کے مشورے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے پہلے تو مجھے فیاض الحسن چوہان اور فواد چوہدری کے بیانات اور خاص طو رپر اعداد و شمار پر غصہ آتا تھا مگر اب میں لطف اٹھاتا ہوں اور ان کے اقوال زریں سے محظوظ ہوتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے عمران خان کی طرف سے یوٹرن کی تازہ ترین تعریف اور تشریح کو بھی اسی تناظر میں لیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے اس بیان سے یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ فیاض الحسن چوہان اور فواد چوہدری ان کے سچے پیروکار ہیں۔

ہمارے ملک کے زیادہ تر سیاسی رہنما اور ذمہ داران منہ کھولنے سے پہلے سوچنے اور سمجھنے کی زیادہ زحمت نہیں کرتے۔ پڑھنے، سوچنے اور سمجھنے کی بجائے ان کی ترجیح بولنا ہوتا ہے اور وہ بس بولتے ہی چلے جاتے ہیں۔ یہ ویسے بھی ہمارے مجموعی کلچر کا حصہ بن چکا ہے کہ ہم پڑھنے اور سننے سے زیادہ بولنے پر یقین رکھتے ہیں ہم لوگ نہ تو بولنے سے پہلے سوچنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں اور نہ ہی بولنے کے بعد یہ سوچتے ہیں کہ کہیں ہم نے کوئی غلط بات تو نہیں کر دی۔ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے درست ثابت کرنے کے لیے جو دلائل دیتے ہیں وہ اس ساری صورت حال کو مزید مضحکہ خیز بنا دیتے ہیں۔

اس وقت پوری تحریک انصاف عمران خان کے یوٹرن والے بیان کا دفاع کرنے میں مصروف ہے۔ کیا تحریک انصاف میں کوئی بھی ایسا نہیں جو کہ عمران خان کو یہ بتا سکے کہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے اور حکمت عملی کے تحت

دو قدم پیچھے ہٹ کر دوبارہ آگے بڑھنے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ بعض اوقات وقت اور حالات آپ کو پسپائی اختیار کرانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات جب معروضی حالات آپ کے موافق نہیں ہوتے اور موضوعی کمزوری اور حالات کے تحت آپ اپنی حکمت عملی، طریق کار اور حربوں کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں مگر آپ اپنے نظریات اور اصولوں سے دستبردار نہیں ہوتے اور اپنی جدوجہد کو جاری رکھتے ہیں تو اسے حکمت عملی کے تحت پسپائی یا طریق کار کی تبدیلی کہا جاتا ہے مگر جب آپ اقتدار اور طاقت کے حصول کی خاطر اپنے اصولوں کی قربانی دیتے ہیں اور بار بار اپنے مؤقف کو تبدیل کرتے ہیں تو اسے یوٹرن کہتے ہیں۔ مثلاً ایک جمہوریت پسند یہ اصولی مؤقف اختیار کرتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہونی چاہیے اور آئین کی حکمرانی ہونی چاہیے۔ اس جمہوریت پسند کے اس اصولی مؤقف کا امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب ملک میں غیر آئینی اقدام اٹھایا جاتا ہے۔ وہ اگر غیر آئینی اقدام کی حمایت کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے اصولی مؤقف سے انحراف کرتا ہے مگر اپنے حالات کے تحت اگر وہ کھل کر جمہوریت کی حمایت نہیں کرتا۔ سڑکوں پر نکل کر احتجاج نہیں کرتا اور نعرے نہیں لگاتا مگر اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہ کر اس کی حمایت نہیں کرتا تو اسے پسپائی، مصالحت اور حکمت عملی جو بھی درست سمجھا جائے قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسے بزدلی بھی کہا جا سکتا ہے مگر جب آپ غیر آئینی حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں تو پھر آپ اپنے نظریات اور اصولی مؤقف سے روگردانی کرتے ہیں۔

مثلاً جنوبی افریقہ کے سابق صدر اور افریقی نیشنل کانگریس کے بانی رہنما نیلسن منڈیلا نے کئی دہائیوں تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ وہ طویل عرصہ جیل میں بند رہے۔ ان کا اصولی مؤقف یہ تھا کہ سفید فام نسل پرمت حکومت اور اس کی نسل پرستانہ پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ نسل پرست حکومت نے ان سے مذاکرات کر کے انہیں اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی مگر وہ اپنے اصولی مؤقف اور نظریے پر ڈٹے رہے اور بالآخر سفید فام نسل پرست حکومت کو اپنی نسل پرستانہ پالیسیوں کا خاتمہ کرنا پڑا اور سیاہ فام اکثریت کو اقتدار حاصل ہوا۔ آج بھی ساری دنیا نیلسن منڈیلا کا احترام کرتی ہے اور انہیں جدوجہد کی علامت اور استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ چاہتے تو مصالحت اور مفاہمت کے ذریعے نسل پرست حکومت کا حصہ بن سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

اسی طرح پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید اگر چاہتے تو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ مصالحت کر کے اپنی جان بچا سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور پھانسی کے پھندے کو چوم کر امر ہو گئے۔ اسی طرح چین کے عظیم لیڈر ماؤزے تنگ کو بھی حالات کے جبر کے تحت پسپائی اختیار کرنا پڑی مگر انہوں نے انقلاب اور سماجی تبدیلی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد کامیاب لانگ مارچ کرتے ہوئے چین میں انقلاب برپا کیا۔ اگر نیلسن منڈیلا نے اپنا اصولی مؤقف اور نظریے سے انحراف کیا ہوتا تو اس کے نتائج بہت بھیانک ہوتے۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو نے سمجھوتہ کیا ہوتا تو وہ شاید اپنی طبعی موت مرتے مگر سیاسی ہیرو اور جدوجہد اور قربانی کی علامت اور استعارے کا جو درجہ انہیں حاصل ہے وہ ان کے حصے میں نہیں آتا۔

عمران خان صاحب آپ کو یوٹرن اس وقت لینے پڑتے ہیں جب آپ بغیر کسی خاص تیاری اور ہوم ورک کے کوئی مؤقف اپناتے ہیں اور ٹھوس زمینی حقائق کو مدنظر رکھے بغیرکوئی اصولی مؤقف اختیار کر لیتے ہیں۔ جب آپ کو معلوم ہو کہ اپنے حامیوں اور حمایتیوں کو خوش کرنے کے لیے آپ ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر عمل درآمد کرنا آپ کے بس کی بات نہیں ہوتی تو پھر آپ کو قدم قدم پر مؤقف بدلنا پڑتا ہے۔ یوٹرن لینا پڑتا ہے۔

جو لوگ اقتدار دولت اور طاقت کے حصول کے لیے ہر قسم کے سمجھوتے، مصالحت اور مفاہمت کرنے پر ہمیشہ تیار رہتے ہیں اور ان کے نزدیک کامیابی کا واحد معیار دولت اور اقتدار ہوتا ہے تو ان کو وہ سب لوگ احمق اور ناکام دکھائی دیتے ہیں جو کہ اپنے نظریات، اصولوں اور مقاصد کے لیے پوری زندگی جدوجہد کرتے ہیں۔ قربانیاں دیتے ہیں۔ جانوں کے نذرانے دیتے ہیں۔ اپنی زندگیاں بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے عقوبت خانوں اور کال کوٹھڑیوں میں گزار دیتے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے نئے پاکستان میں کامیابی اور ناکامی کے معیار بدل گئے ہیں۔ ہم جیسے لوگ تو شروع سے سنتے آئے تھے کہ بڑے اور عظیم لیڈر وہ ہوتے ہیں جو کہ اپنے اصولوں، مقاصد اور نظریات سے انحراف نہیں کرتے اور ان پرکار بند رہتے ہیں مگر اب پتا چلا ہے کہ وہ تو احمق ہوتے ہیں اور ناکام لوگ ہوتے ہیں اور کامیاب لوگ وہ ہوتے ہیں جو کہ صبح و شام اپنے مؤقف بدلتے ہیں۔ اپنی بات پر قائم ہی نہیں رہ سکتے۔


ای پیپر