سچے احتساب میں پاکستان کی بقا ہے
18 نومبر 2018 2018-11-18

آئیے پہلے تصویر کا ایک رخ دیکھیں۔ احتساب کا نعرہ جوان بھی ہے ، دلکش بھی ہے اور پرکشش بھی۔ یہ نعرہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ بچے حرام ہیں یا حلال اس کا پتہ فی الحال نہیں چل رہا، کیونکہ ان بچوں کے ڈی این ای کی رپورٹ چار سال کے بعد آئے گی۔ آج کل کرپشن کی جو کہانیاں سامنے آ رہی ہیں پہلے تو انھیں سن کر کلیجہ منہ میں آجاتا ہے ، پھرجیسے ہی کچھ وقت گزرتا ہے تو کہانی دلچسپ نہیں رہتی، کیونکہ جو انکشافات سامنے آتے ہیں تحقیقاتی اداروں کے پاس اس کی سپورٹ میں مطلوبہ ثبوت موجود نہیں ہوتے۔ آپ شہباز شریف کا معاملہ ہی لے لیجیے۔

شہباز شریف صاحب کے خلاف صاف پانی کی تحقیقات چل رہی تھیں۔ بتایا جا رہا تھا کہ آج گرفتار ہوئے یا کل۔ لیکن ابھی تک شہباز شریف پر جرم ثابت نہیں ہو سکا۔ صاف پانی کی تحقیقات میں شہباز شریف کو بلایا اور آشیانہ کیس میں گرفتار کر لیا۔آشیانہ کیس میں متعدد بار عدالت سے ریمانڈ حاصل کیا۔ 10 نومبر کو چوتھی مرتبہ ریمانڈ حاصل کرنے عدالت پہنچے تو نیب وکیل نے وہی پرانی کہانی سنانا شروع کر دی کہ احد چیمہ نے آشیانہ کی فزیبیلیبٹی رپورٹ خود بنائی ہے ۔ جج صاحب نے تنگ آ کر کہا کہ وکیل صاحب اس سے آگے بھی چلیں آپ پچھلی کئی پیشیوں سے یہی کہانی سنا رہے ہیں۔ نیب وکیل کے پاس جب کہنے کو کچھ نہ بچا تو نیا انکشاف کر دیا کہ ہم نے انھیں ایک اور نئے کیس میں گرفتار کر لیا ہے ۔ جج صاحب نے پوچھا کونسا کیس؟وکیل نے کہا کہ رمضان شوگر مل والے کیس میں گرفتار کیا ہے ، ہمیں اب اس کیس کا ریمانڈ چاہیے۔ جج صاحب نے ریمانڈ دے دیا،لیکن یہ نہیں پوچھا کہ جس کیس میں پہلے گرفتار کیا تھا اس میں کوئی پیش رفت کیوں نہیں ہوئی؟ کیا ملزم اس میں بے قصور ہے یا آپ نااہل ہیں کہ کرپشن کا پتہ ہوتے بھی کرپشن کے ثبوت حاصل کرنے میں ناکام ہیں؟ وکیل نے انکشاف کیا کہ رمضان شوگر مل سے ملحق نالہ شہباز شریف نے سرکاری پیسوں سے بنوایا ہے ۔جس کا خرچ اکیس کروڑ سے زیادہ ہے اور اس میں صرف رمضان شوگر مل کا فضلہ جاتا ہے ۔ بظاہر اس انکشاف کے بعد بھی کلیجہ منہ میں آگیا ہے ۔ لیکن کب اس میں سے ہوا نکلتی ہے معلوم نہیں۔اگر نیب رمضان شوگر مل میں سے بھی کچھ نہ نکال سکی اور نئی گرفتاری کے لیے کوئی چوتھا کیس لے آئی تو حکومت اور اپوزیشن کو نیب کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔

آئیے تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھتے ہیں۔

میرے کالم کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ شہباز شریف اور نواز شریف بے گناہ ہیں، یا ان کا جو احتساب ہو رہا ہے وہ غلط ہو رہا ہے ۔ احتساب کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اسے منطقی انجام تک پہنچانے میں ہی ملک پاکستان کی بقا ہے ۔ اگر نواز شریف اپنی اربوں روپوں کی جائیدادوں کی منی ٹریل نہیں دے سکتے تو ان کو سزا دینے میں ہی ملک کی بقا ہے ۔ اگر شہباز شریف نے اپنی اتھارٹی کا غلط استعمال کیا ہے یا ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے تو انھیں سزا دے کر ہی کرپشن کا راستہ روکا جا سکتا ہے لیکن اگرنیب گرفتار کرنے کے بعد ملزمان کے خلاف ثبوت دینے میں ناکام ہو رہی ہے تو اس کی وجہ تلاش کرنا بہت ضروری ہے ۔ کیا نیب کے پاس کرپشن کی تحقیقات کرنے کے لیے قابل آفیسر موجود نہیں ہیں،یا نیب کے اندر مجرموں کو سپورٹ کرنے والے عناصر موجود ہیں، جو گرفتاری کرنے کے بعد تحقیقات میں کوئی نتائج نہیں دیتے جس کا فائدہ ملزمان کو ہو رہا ہے ؟۔ ہمیں یہاں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ چیرمین نیب سے لے کر ڈی جی، آئی او اور نائب قاصد تک ن لیگ کی حکومت میں بھرتی کیے گئے تھے۔

نیب کی کارکردگی کے پیش نظر بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔کیا ڈی جی نیب کو میڈیا میں جا کر اپنا دفاع کرنا چاہیے تھا؟ کیا میڈیا میں جا کر کیس کی باریکیوں اور تفصیلات پر بات کی جانی چاہیے تھی؟ اگردفاع کرنا مقصود تھا تو کیا اس کام کے لیے نیب کے کسی پی آر او کو بھیجا جانا چاہیے تھا یا ڈی جی نیب لاہور کو میڈیا میں خود جانا چاہیے تھا؟ جن عہدیداروں نے انھیں میڈیا میں بھیجنے کا فیصلہ کیا اس کے پیچھے ان کی نیب کو بدنام کروانے اور ملزمان کے کیس کو مضبوط کرنے کی کوئی سٹریٹیجی تھی؟ کیا نیب کو کمزور کرنے کے لیے بین الاقوامی طاقتیں سر گرم ہیں؟ کیا پاکستان میں احتساب کے مشن کو نقصان پہنچانے کے لیے سازشیں کی جا رہی ہے ؟ کیا میڈیا کو نیب کو متنازعہ بنانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات حاصل کیے بغیر نیب کی اصلاح نہیں کی جا سکتی اور کرپٹ عناصر کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔یہ سوالات صرف سوالات نہیں بلکہ چارج شیٹ ہیں۔ اہل اقتدار کو نیب کے متعلق کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ان حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے تا کہ ایسا فیصلہ کیا جا سکے جس سے احتساب کا نظام مضبوط ہو اور اس ملک کو لوٹنے والوں کے گرد گھیرا تنگ ہو سکے۔ چوروں اور لٹیروں کو جیلوں میں ڈالے بغیر اور چائنہ طرز پر کرپٹ لوگوں کو پھانسی دیے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا کیونکہ سچے احتساب میں ہی پاکستان کی بقا ہے ۔


ای پیپر