لگتا ہے تباہی قسمت سے لگی ہے
18 نومبر 2018 2018-11-18

قرآن پاک کی اکسٹھ ویں سورة، سورہ صف ہے جس کی پہلی آیت میں آسمانوں اور زمینوں کی ہرشے کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے کے بعد ووسری اورتیسری آیت میں حکم ہوتا ہے کہ اے ایمان والوایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔ خدا کے نزدیک یہ بات بہت ناراضی کی ہے کہ ایسی بات کہو جو تم نہ کرو‘۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ’ منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو پورانہ کرے اور بحث کرے تو گالم گلوچ کرے‘۔ برصغیرکے مسلمانوں کے پاس اللہ کی کتاب، رسول اللہ کی سیرت کے بعدمحمد علی جناح کی صورت ایک اصول پسند رہنما بھی موجود ہے ۔ قائداعظم نے کہا، ’ کوئی ایک فیصلہ کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچو مگر جب فیصلہ کرلو تواس پر ڈٹ جاو‘ ۔©©©’یوٹرن ‘کی سادہ سی پہچان یہ ہے کہ یہ ان تمام احکام اور تصورات کی نفی ہے ۔

ہماری سیاست میں ’یو ٹرن‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اعلانات اور وعدوں سے منسوب کیا جاتا ہے مگر عملی طور پر یہ ہماری پوری قوم کا المیہ ہے کہ ہم بات سے پھر جانے کوایک کامیاب حکمت عملی سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں کہ وہ گھر کے دروازے پر آئے ہو ئے شخص کو جھوٹ بتائے کہ ہم گھر پر نہیں ہیں اور یوں بچپن سے ہی جھوٹ ہماری فطرت کا حصہ بن جاتا ہے ۔ جھوٹ اور یوٹرن میں فرق ہے مگر اس وقت نہیں جب آپ یوٹرن کو جائزیت عطا کر دیں، اس کا منطقی نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ اپنے کسی اعلان اور وعدے میں سچے نہیں رہیں گے۔عمران خان صاحب نے اپنے کچھ ہم خیال کالم نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے یوٹرن لینے کا دفاع کیا ہے تاہم یہاں ہٹلر وغیرہ کی جو مثالیں دی گئی ہیں وہ تاریخ اور منطق کے سرسری علم کا غلط استعمال ہے جو یہ کسی بھی شعبے کے نیم حکیم کے خطرہ جان ہونے کی دلیل ہے ۔ جھوٹ ہماری رگ رگ میں بسا ہوا ہے اورمعاملہ صرف عمران خان صاحب تک محدود نہیں ہے کہ اس سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری بطور صدر مملکت یہ فرما چکے ہیں کہ سیاسی وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔ میاں نواز شریف نے ابھی چند ہی روز میں اپنی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر پر استثنیٰ مانگا ہے اور اس قطری خط سے بھی واپسی کی راہ لی ہے جو اس سے پہلے شریف خاندان نے لندن فلیٹوں کی ملکیت کے جواز کے طور پر پیش کیا تھا۔ میاں نواز شریف کی عمومی شہرت ایک نمازی اور پرہیزگار شخص کی ہے مگر مالی معاملات میں تازہ موقف نے ان کے حامیوں کو کافی حد تک مایوس کیا ہے ۔ یہ الگ بحث ہے کہ جس چکی میں شریف خاندان کو پیسا جا رہا ہے اگراس میں آصف زرداری اور عمران خان کو بھی ڈال دیا جائے تواس سے بھی بڑے معاملات نکل آئیں جیسا کہ عمران خان کی خود بنی گالہ کی ملکیت اور ان کی بہن علیمہ خان کے پاس دوبئی میں اربوں روپوں کی جائیداد کی موجودگی بڑے سوال ہیں۔ عمران خان بے روزگار اور علیمہ خان غیر شادی شدہ ہیں اوریہ دونوں کئی برسوں سے شوکت خانم کے علاوہ کسی دوسرے ’ کاروبار‘ میں بھی نظر نہیں آتے۔ علیمہ بی بی نے اربوں روپوں کوچند کروڑ جرمانہ اور ٹیکس دے کر قانونی طور پر جائز تو کروا لیا ہے مگر اس کے بعد لوگوں کے شوکت خانم کو دئیے گئے صدقات، عطیات اور زکواة پر اس سے بھی بڑے سوالات پیدا ہو گئے ہیں جیسے سوالات خواجہ محمد آصف نے اٹھائے تھے۔

کوئی ذہنی غلامی سی غلامی ہے کہ عمران خان صاحب کی طرف سے یوٹرن کے باقاعدہ دفاع کے بعدان کے حامی جواز تراش رہے ہیں۔ ہمارے پاس ہر برے کام کے جواز موجود ہیں۔ ایک صاحب جو دفتر میں اپنی ساتھی خواتین اور بازار میں خریدارعورتوں کو بلاوجہ گھورتے ہیں تو جواز دیتے ہیں کہ وہ کون سا عورتوں کو کھا جاتے ہیں،وہ محض گھورتے ہی تو ہیں، آپ ان مردوں کو کیوں نہیں پوچھتے جو اس بازار کا رخ کرتے ہیں اور زنا جیسا گھناﺅنا جرم کرتے ہیں۔ جب آپ ایسے مردوں کے پاس جائیں تو وہ کہتے ہیں کہ وہ جوکچھ کرتے ہیں اپنا پیسہ خرچ کر کے اور رضامندی سے کرتے ہیں، سوال ان سے پوچھیں جو زنا بالجبر کرتے ہیں، اصل جرم تو وہ کرتے ہیں۔ ایسوںسے پوچھا جائے تو جواب ملتا ہے کہ وہ کون سا لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور مان لیجئے کہ قاتلوں اور ڈاکوﺅں کے پاس بھی جواز موجود ہوتے ہیں۔ اب تک یوٹرن کے حق میں جو سب سے بہتر جواز آیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی غلطیوں پر ڈٹا نہیں رہنا چایئے بلکہ ان سے یوٹرن لے لینا چاہئے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے حامی غلط طور پر اس بحث میں قائداعظم کو کھینچ لائے ہیں۔ کچھ چھوٹے اور بڑے رہنما نجی بحثوں میں یہ تک دلیل دے رہے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے ااور بعدا زاں انہوں نے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کی کامیاب تحریک چلائی۔ میں حیران ہوں کہ اس مثال کو اس حکمت عملی سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم اپنی ہی مثالیت پسندی سے فرار کا دفاع کر رہے ہیں۔

بہت سارے سیاستدان حکمت عملی تبدیل کرتے ہیں اور وہ واقعی حالات کا ردعمل ہوتی ہے مگر تواتر کے ساتھ وعدہ خلافی ، اپنے منشور سے پھر جانے کو حکمت عملی کی تبدیلی نہیں کہا جا سکتا۔اگر ہم سیاست میںیوٹرن کے جواز قبول کر لیں گے تو اس کے بعد کسی وعدے اورکسی اعلان کی کوئی حیثیت نہیںرہ جائے گی جیسے ا س وقت سو دنوں میں نمایاں بہتری کے جعلی اعلانات کے بعد دس ارب درخت، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوششوں کے سوا کچھ نہیں رہ گئے۔دعوﺅں، وعدوں اور اعلانات پر یوٹرن سے سیاسی جماعتوں کے منشور ہی نہیں بلکہ سیاسی رہنماﺅں کے کردار بھی بے معنی ہوجائیںگے۔ ہمارا معاشرہ پہلے ہی اخلاقیات کے بدترین بحران کا شکار ہے کہ یہاں شام کو شراب کے نشے میں دھت ہو کے بیٹیوں کی عمر کی بچیوں کو ننگی گالیاں دینے والے قوم کے نظرئیے ، اخلاقیات اور مقاصد پر درس دیتے ہیں۔ یہاںدھڑلے سے جھوٹ بولنے والے اور عدالتوں سے بھاگ جانے والے قیامت کے موضوع کو دبڑ دوُس کرتے ہیں ۔ آئین اور قانون کو پاﺅں تلے روندنے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہوئے حقیقی جمہوریت قائم کر رہے ہیں۔ایسے میں اگر ایک سیاسی طبقہ وعدہ خلافی کو جواز اور جائز قرار دینے کی شعوری سازش کرتا ہے تو مجھے قرآن یاد آجاتا ہے جو کہتا ہے کہ تُم وہ بات کہتے ہی کیوں ہو جو تم کرتے نہیں ہو ، اپنے نبی پاک سرکار ( صلی اللہ علیہ وسلم )یاد آتے ہیں جن کے نزدیک یہ منافق کی پہلی نشانی ہے اور قائداعظم علیہ رحمہ یاد آجاتے ہیں جنہوں نے اپنی امانت اور دیانت کا سکہ اپنے مخالفین سے بھی منوایا ہے ۔ افسوس ہر روز زوال کی نئی حد سے آشنائی ہے ، افسوس کوئی تباہی سی تباہی ہے جو ہماری قسمت سے لگی ہے ۔


ای پیپر