”احترام اور اعتراض“
18 نومبر 2018 2018-11-18

اچھی بات چاہے کوئی اور کسی مسلک والا کرے، وہ مسلمان کی کھوئی ہوئی میراث ہوتی ہے، انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، یہ نہ دیکھے کہ کون کہہ رہا ہے، ایک خاکروب بھی کبھی پتے کی بات کرسکتا ہے، مگر جہاں تصوف کے بادشاہ محمد روسی روحانی ماندیؒ کے خیالات کی بات ہو، تو وہاں دوسروں کے قلم جواب دے جاتے ہیں، وہ فرماتے ہیں، کہ تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس ؒ فرماتے تھے، کہ افسوس ، جو کام انسان کے کرنے کا تھا .... یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، عبادت کرنی تو اس نے چھوڑ دی۔ اور جو کام اس کے کرنے کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کرنے کا تھا، وہ اس نے اپنے ذمے لگا لیا، نتیجہ یہ نکلا نہ اس کی دنیاسنور سکی نہ آخرت ، دنیا تو فانی ہے، مگر ہمیشہ رہنے والی آخرت سنوارنے کی کوشش نہیں کی۔

انسان اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکل کرے تو اللہ تعالیٰ اسے کبھی بھوکا نہیں رکھتا، اور نہ ہی کبھی اسے مایوس کرتا ہے، حضرت ابراہیم خواص ؓ ، مشہور صوفی اور صاحب کرامت بزرگ فرماتے ہیں کہ میں ایک مسجد میں تھا، وہاں میں نے تین دن تک ایک فقیر کو دیکھا، جو بالکل خاموش رہ رہا تھا، ان تین دنوں میں اس نے نہ کھایا اور نہ پیا، میں نے ایک دن اس سے پوچھا کہ تیرا دل کھانے کی تمنا کرتا ہے، اس نے جواب دیا کہ گرم گرم روٹی اور کباب ابراہیم خواصؓ فرماتے ہیں کہ میں وہاں سے نکلا تاکہ اس فقیر کے لیے روٹی اور کباب لے آﺅں، مگر سارا دن کوشش کے باوجود مجھے بازار سے یہ چیزیں نہ مل سکیں، چنانچہ میں واپس آگیا، اور مسجد کا دروازہ بند کردیا،فرماتے ہیں، رات کو کسی نے دروازے پہ دستک دی ، میں نے دروازہ کھول کر دیکھا، تو ایک شخص گرم روٹیاں اور کباب لے کر کھڑا تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ یہ لو کباب اور روٹی، میں نے اس سے پوچھا، کہ بھائی یہ چیزیں کیوں لائے ہو اس نے کہا کہ یہ چیزیں آج ہم نے اپنے گھر میںپکائی تھیں، گھر میں کسی وجہ سے ہم میں آپس میں جھگڑا ہوگیا جھگڑے اور تکرار کی وجہ سے ہم اہل خانہ نے قسم کھائی کہ ہم میں سے کوئی یہ کھانا نہیں کھائے گا، اور یہ سارا کھانا مسجد ہی میں دے دیں گے۔ یہ کھانا لے کر ابراہیم خواصؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے کہا، کہ اے اللہ اگر آپ نے اس فقیر کو کھانا کھلانا ہی تھا، تو سارا دن مجھے کیوں تھکایا ۔ ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک عابد یعنی نیک اور عبادت گزار کسی مسجد میں مقیم تھے، ان کے کھانے کا بظاہر کوئی انتظام نہیں تھا، امام مسجد نے ان سے کہا کہ اگر اپنی روزی اور معاش کے لیے بھی کچھ کیا ہوتا تو اچھا ہوتا، اور آپ کو کھانے کے لیے پریشانی نہ ہوتی....عابد نے امام مسجد کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا، جب امام مسجد نے تین دفعہ یہ بات دہرائی، تو عابد نے کہا کہ مسجد کے پڑوس میں ایک یہودی رہتا ہے وہ ہر روز مجھے دوروٹیاں دیتا ہے، امام مسجد نے یہ سن کر کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر آپ نے کوشش معاش کو ٹھیک ترک کردیا ہے، یہ سن کر عابد نے کہا آپ کے توحید کے عقیدے میں جو نقص ہے ، آپ لوگوں کے امام نہ بنتے تو اچھا ہوتا .... آپ ایک یہودی کے روٹی دینے، کو اس کی ذمہ داری سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ ذمہ داری تو اللہ تعالیٰ کی ہے، آپ اللہ کی ذمہ داری پہ یہودی کی ذمہ داری کو ترجیح دیتے ہیں، حضرت علامہ اقبالؒ نے خوب کہا ہے۔

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے

خراخ کی جوگداہو وہ قیصری کیا ہے

بتوں سے تجھ کو اُمیدیں خداسے نومیدی

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

اسی لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں، انسان تو غیر اللہ سے، اللہ سے مانگنے کی بجائے رزق طلب کرتا ہے، اور اپنے انجام سے بے خبر ہے ( اور روٹیاں مشرک دیتا ہے اس کی ضمانت پہ تو راضی ہے) مگر اللہ تعالیٰ کو ضامن بنانے پہ راضی نہیں۔ یہ واقعہ تو بہت پرانا ہے، بس کچھ ہی سال پہلے فیصل آباد میں بابا اللہ رکھا ہوتے تھے، وہ نہایت مستند بزرگ ، اور صوفی برکت صاحب کے ہم عصر تھے، ایک دن مجھے بتارہے تھے، کہ میری بیوی نے میرا ناک میں دم کیا ہوا تھا، کہ مجھے دیسی گھی چاہیے حتیٰ کہ وہ میری عبادت مےں مخل ہوجاتی تھی، اور عبادت کی حلاوت بھی بے مزہ کررہی تھی، میں عشا کی نماز پڑھ رہا تھا ، مگر اس کا دیسی گھی کا تقاضا جاری رہا، میں نے تنگ آکر سجدے میں ہی اللہ سے کہا، کہ اللہ میاں اسے دیسی گھی دے کر اس کا تو منہ بند کرا، انہوں نے بتایا کہ نمازسے جب میں فارغ ہوا، تو باہر کسی نے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کردیا، میں باہر گیا، تو ایک شخص نے پورا کنستر دیسی گھی کا پکڑا ہواتھا، اورکہنے لگا کہ بابا جی، آپ کی بڑی مہربانی میں بڑی دورسے آیا ہوا، میرا یہ تحفہ قبول فرمائیں۔

قارئین یہ دو واقعات بتانے کا مقصد مجھے روز الفت کا کیا ہوا، اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے وعدہ یاد کرانا مقصود تھا، یہاں ایک بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ انسان کو اتنا ملتا ہے جتنی وہ کوشش کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر کوئی ایک پتہ بھی ہل نہیں سکتا، تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے بائیس سال تک عملی جدوجہد کی، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے، حکومت دیتا ہے، اور جسے چاہتاہے اس سے چھین لیتا ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حکومت واپس چھین لینے، اور حکومت کو قائم ودائم رکھنے کے اصول بیان فرمادیئے ہیں، اب جو حکمران اس اصول کے مطابق عمل کرے گا وہ کامیاب رہے گا، اللہ کا یہ کرم رہا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر عرصے سے قابل احترام شخصیت منتخب ہوتے رہے، اور موجودہ ایوانوں کے سپیکرز بھی اپنے اٹھائے گئے حلف کی پاسداری کرتے نظر آتے ہیں، چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر خاصے بردبار اور تحمل والے نظر آتے ہیں، مسائل تو اور بھی بیان کرنے تھے، فی الحال عسکری اور سیاسی قیادت کے قوم کے نام آج کل تواتر سے بیان آتے ہیں، اور چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے بھی فرمایا ہے کہ اداروں کا احترام، عوام اور سیاستدانوں پر واجب ہے ۔

ایک دودن پہلے کی بات ہے، رات کو سونے کے کچھ دیر بعد میں نے اپنی بیگم اور بیٹی سے پوچھا کہ آج گرمی زیادہ ہے، یا مجھے لگ رہی ہے، انہوں نے جواب دیا کہ آج کل گرمی میں اضافہ ہوگیا ہے، میں بولا کہ یہ قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے سبب ہو تب بھی ایک دودن میں لگتا ہے کہ بارش ہوجائے گی، کیونکہ لاہور کا موسم اکثر اسی فارمولے پہ چلتا ہے، دوسرے دن دوپہر کو بار بار خبرچل رہی تھی کہ ملک میں دور دورتک بارش کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے مگر محکمہ موسمیات کے مطابق محکمہ موسمیات کے بیان آنے کے دوسرے دن سے پورے ملک میں بارش شروع ہوگئی ہے، اور مری، سوات، چترال کے علاوہ بھی پہاڑی مقامات پہ برف باری شروع ہوگئی ہے، اب حکمران ہی بتائیں کہ ہم اس ادارے کا احترام کریں، یا ردعمل میں اپنا اعتراض ظاہر کریں دوسرے صادق سنجرانی صاحب اور وزیراطلاعات کے درمیان مخاصمت کی تحریک انصاف متحمل ہوسکتی ہے کہ ایک پارٹی اس کے اتحاد میں نہ رہے، ایسا ہوا تو بوری کے سوراخ سے دانے نکلنے شروع ہوجائیں گے، لہٰذا خدارا بوری بھی بند رکھیں.... اور اپنے منہ بھی بند رکھیں۔


ای پیپر