میرا چن اور میرے کچھ مولوی مکھن ملائی !
18 May 2021 2021-05-18

اندر ہی اندر سے یہ سوال ہمیں کھائی جا رہا ہے اس بار بھی عید ہم نے چاند کے مطابق منائی یا حکمرانوں کی خواہش کے مطابق منائی؟۔ عید کے چاند کے حوالے سے برادرم نجم ولی خان نے اپنے کالم میں بڑے اہم سوالات رویت ہلال کمیٹی خصوصاً اس کے چیئرمین مولانا عبدالخیر آزاد پر انگلی کی طرح اٹھائے ہیں۔ ممکن ہے مولانا اپنی تازہ ترین سرکاری مجبوریوں کے تحت چبھتے ہوئے ان سوالات کے جواب میں منیر نیازی مرحوم کا یہ شعر ”عرض “ کر کے بلکہ ”حکم“ کر کے اپنی جان چھڑوانے کی کوششیں کریں۔”کسی کو اپنے عملوں کا حساب کیا دیتے.... سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے.... کچھ سوال مولانا کے نزدیک غلط ہو سکتے ہیں۔ مگر اکثر سوالات ایسے ہیں جو عوام بھی ان سے پوچھنا چاہتے ہیں۔ سو عید الفطر کے چاند کے حوالے سے کچھ ابہام دور کرنے کے لئے رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کو ذاتی طور پر سامنے آنا چاہئے۔ ان کے پاس چاند دیکھائی دینے کے ٹھوس شواہد و شہادتیں اگر موجود ہیں ، یہ فیصلہ اگر انہوں نے واقعی کسی روایتی دباﺅ میں آ کر نہیں کیا پھر عوام کو شکوک و شبہات دور کرنے کی آخری حد تک انہیں جانا چاہئے۔ مگر وہ شاید یہ نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ عوام اس سرکاری عید منا کر فارغ ہو چکے ہیں۔ چاند نظر آنے یا نہ آنے کا معاملہ اب دب چکا ہے۔ لہٰذا اس معاملے پر وضاحتیں وغیرہ دے کر اسے دوبارہ زندہ کرنے کا نقصان رویت ہلال کمیٹی اور اس کے چیئرمین کو ہی ہو گا۔.... جہاں تک اس معاملے سے حکمرانوں کا تعلق ہے ممکن ہے انہوں نے سوچا ہو رمضان المبارک میں اپنے عوام کو اور کوئی ریلیف تو وہ دے نہیں سکے، چلیں عید سے ایک روز پہلے عید کا ریلیف ہی دے دیں۔ سو انتیس روزوں کے بعد عوام کو عید کا ”ایک روزہ ریلیف“ دے کر تیسواں روزہ رکھنے کا جو موقع حکمرانوں نے عوام کو فراہم کیا اس پر عوام کو حکمرانوں کا شکر گزار ہونا چاہئے.... میری بیٹی کا نکاح بادشاہی مسجد میں مولانا عبدالخبیر آزاد نے پڑھایا تھا۔ گزشتہ ہفتے رات گئے چاند نظر آنے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر رویت ہلال کمیٹی اور اس کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی جو درگت بنی میرے داماد نے مجھ سے پوچھا ”انکل یہ وہی مولانا عبدالخبیر آزاد ہیں ناں جنہوں نے میرا نکاح پڑھایا تھا؟۔میں نے کہا ”بالکل وہی ہیں“.... اس پر بڑے غمگین لہجے میں اس نے مجھ سے پوچھا” انکل انہوں نے ہمارا نکاح تو ٹھیک پڑھایا تھا ناں؟“.... میں نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور اس سے کہا ”اب تم شک دور کرنے کے لئے ”دوسرا نکاح“ نہ پڑھوا لینا“.... ویسے جب سے ہم پیدا ہوئے ہیں عید کے چاند کے حوالے سے تقریباً ہر بار ہی کوئی نہ کوئی تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔ مگر اس بار تنازع کا جو تماشا بنا وہ شاید ہی اس سے پہلے کبھی بنا ہو .... ہمارا المیہ یہ ہے ”نئے پاکستان“ کے دھوکے میں اپنا وہ پرانا پاکستان بھی ہم نے کھو دیا جس میں جھوٹ ، مکر ، فریب اور دھوکے بہت کم ہوتے تھے۔ تب 29 ویں رمضان المبارک کو مغرب کی نماز کے فوراً بعد اکثر لوگ اپنے اپنے گھروں کی چھتوں (کوٹھوں) پر چڑھ جاتے تھے۔ چاند اگر نکلتا سب کو دیکھائی دیتا تھا۔ لوگ چاند کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتے ایک دوسرے کو مبارکیں دیتے۔ تب رویت ہلال کمیٹی کے باقاعدہ اعلان کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ تب اس محاورے کا بھی بڑا بول بالا تھا ” چن چڑھے کل عالم دیکھے“.... یعنی چاند جب نکلتا ہے سب کو دیکھائی دیتا ہے۔ اب چاند صرف رویت ہلال کمیٹی کو ہی دیکھائی دیتا ہے۔ کسی غیبی حکم کے مطابق ان کا جب جی چاہے چن چڑھا دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ندیم افضل چن شاید کسی محکمے کے وزیر یا مشیر تھے۔ وہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کے بہت قریب تھے۔ بلکہ خود مرکزی قیادت کا حصہ تھے۔ اس دور میں ایک بار چاند کا تنازعہ کھڑا ہوا ، میں نے رویت ہلال کمیٹی کے ایک رکن سے پوچھا ”آپ نے چن دیکھا تھا یا ”ندیم افضل چن“ دیکھا تھا؟“.... اس بار ایک وڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے....مبینہ طور پر رویت ہلال کمیٹی کے ایک رکن فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے اپنی اس بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں کہ نظر آنے کا اعلان انہیں دباﺅ کے تحت کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے کچھ مولوی صاحبان پر سب سے بڑا دباﺅ ان کے ضمیر کا تو کم از کم ہرگز نہیں ہوتا.... مجھے اس موقع پر ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ ایک بار مرحوم دلدار پرویز بھٹی نے اپنے مشہور ٹی وی پروگرام ”ٹاکرا“ میں اس وقت کے بادشاہی مسجد کے خطیب کو مدعو کیا جنہوں نے ”دین اسلام کی روشنی میں“ آبادی کے بڑھتے ہوئے موضوع پر بات کرنی تھی۔ پروگرام کی ریکارڈنگ سے پہلے پروگرام پروڈیوسر کے کمرے میں میری موجودگی میں انہوں نے ضد کی کہ پروگرام کے معاوضے کا چیک انہیں پروگرام کی ریکارڈنگ سے پہلے دیا جائے۔ یہ شاید ممکن نہیں تھا مگر ان کے اصرار پر چیک بنا کر ان کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔ چیک کو آگے پیچھے سے ٹٹولنے کے بعد بڑی مسرت بھری نظروں سے انہوں نے دلدار بھٹی کی طرف دیکھا اور ان سے پوچھا ”ارے بھٹی صاحب آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں میں نے پروگرام میں آبادی بڑھنے کے خلاف بولنا ہے یا اس کے حق میں بولنا ہے ؟“.... دلدار بھٹی بولا ”حضور اگر اسلام کی روشنی میں کچھ بولنا مشکل ہو پھر آپ کچھ بھی بول دیجئے گا“.... سو ممکن ہے رویت ہلال کمیٹی بھی اب پوچھ لیتی ہو کہ انہیں آج چاند نظر آنا ہے یا کل نظر آنا ہے؟.... ”نوکری کیہ تے نخرہ کیہ“.... چاند نظر آنے کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی ٹویٹ کو بڑی پذیرائی ملی۔ انہوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا وفاقی وزیر ہونے کے باوجود وہ سچ نہیں چھپا سکتے۔ یا یوں کہہ لیں سچ چھپانے میں انہیں مشکل پیش آتی ہے۔ انہوں نے صاف صاف کہہ دیا ”جس کی مرضی ہے کل روزہ رکھ لے ، جس کی مرضی ہے عید منائے“.... اگر لوگوں نے عید ہی منائی۔ ظاہر ہے ریاست کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ البتہ بے شمار لوگوں نے عید سے اگلے روز روزہ بھی رکھا.... رویت ہلال کمیٹی کے نئے چیئرمین کے انتخاب کے بعد یہ پہلی عید تھی۔ یہ عید کم از کم ایک پیغام ضرور دے گئی ” حکمرانوں کو کسی بھی ادارے کی سربراہی کے لئے موزوں اور اہل شخصیات نہیں ملتیں“....سو ممکن ہے رویت ہلال کمیٹی کے اگلے چیئرمین اپنے علامہ ناصر مدنی ہوں۔ ”ایک دن جیو کے ساتھ“ گزارنے کے بعد ان کی مقبولیت اتنی تو بڑھ ہی گئی ہے انہیں اس عہدے کے اہل سمجھا جائے.... چاند کے نکلنے کا ارادہ نہیں بھی ہوا کرے گا وہ مکھن ملائی کی طرح اسے نکال ہی لیا کریں گے!!


ای پیپر