لا ک ڈا ئو ن کا خا تمہ اور عوا م کی ذ مہ داری
18 May 2020 (16:17) 2020-05-18

فرض کیجئے کہ لا ک ڈا ئو ن کھلنے کا دو رانیہ آ ٹھ گھنٹو ں کی بجا ئے صر ف ایک گھنٹہ کر دیا جا تا ہے۔ تو آ پ کے تصو ر میں دو کا نو ں اور ما رکیٹو ں میں رش کا کیا عا لم اجا گر ہو تا ہے؟ اپنی کہو ں تو میں تو یہ تصو ر کر کے کا نپ جا تا ہوں۔ میں دیکھتا ہو ں کہ ایسے میں سانس لینے کے لئے ایک دوسر ے کے منہ کی الٹی سا نس ہی میسر ہو سکے گی۔ لہذا کرو نا کو بڑے پیما نے پر اپنے وار کر نے کے بھر پور موا قع ملیں گے۔ اب فر ض کیجئے کہ لا ک ڈا ئو ن کھلنے کا دورانیہ آ ٹھ گھنٹو ں کی بجا ئے اٹھا رہ گھنٹو ں کا ہو جا تا ہے۔ اور یہ مکمل طو ر پر یعنی ہفتے میں تین رو ز کی بجا ئے پو رے سا ت روز کے لیئے کھل جاتا ہے تو کیا آ پ کے خیا ل میں رش میں انتہا در جے کی کمی وا قع نہیں ہو جا ئے گی؟ کہنا یہ چا ہ رہا ہو ں کہ کر ونا کے پھیلا ئو کو رو کنے کے لیئے یا تو مکمل لاک ڈا ئو ن کر دیا جا ئے۔مگر اب یہ نا ممکن ہو چکا ہے۔ تو پھر پھیلا ئو میں کمی لا نے کی غر ض سے لا ک ڈا ئو ن کا مکمل طو ر پر خا تمہ کر دیا جا ئے۔ خصو صی طو ر پر پنجا ب میں ، اس کا ثبو ت گذ شتہ ہفتے کے دورا ن مل چکا ہے۔ چنا نچہ اب اس صورتحال کو پیش نظر رکھ کر یہ تبصرے کیے جارہے ہیں کہ لاک ڈائون کی پابندیوں میں کی گئی نرمیاں خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ عوام میں احساس ذمہ داری کا فقدان ہے۔ کچھ ایسی ہی خبریں اخبارات میں چھپ رہی ہیں اور چینلز پر نشر کی جارہی ہیں۔ اس فقدان کا ادراک گذ شتہ ہفتے کے تین دنوں میں سب کو ہوچکا ہوگا۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں انتہا درجے کا رش تھا اور خریدار ایسے اشیائے ضروریہ پر جھپٹ رہے تھے جیسے یہ مفت میں بٹ رہی ہوں۔ احتیاطی تدابیر بھی نہ ہونے کے برابر تھیں ۔ دکان دار اور گاہک، دونوں ہی ایس او پیز کا خیال نہیں رکھ رہے تھے۔ اس حوالے سے حالات کی خرابی کا اندازہ وزیر صنعت و تجارت پنجاب میاں اسلم اقبال کی اس برہمی سے لگایا جاسکتا ہے جس کا اظہار انہوں نے تاجروں کی لاپروائی کے حوالے سے کیا اور اپنے ایک بیان میں کہا کہ تاجر تنظیموں کے کہنے پر مارکیٹس کھلوائیں لیکن تاجروں نے میرا مان نہیں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹوں میں عوام کا رش دیکھ کر خوف آرہا ہے، ایس او پیز پر عمل نہ کیا گیا تو دوبارہ لاک ڈائوں سے بچا نہیں جا سکے گا۔ اس حوالے سے کس قدر غفلت برتی جارہی ہے اس کا اندازہ اس ایک ضلعی ادارے کی رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق بازار کھلنے کے دوسرے روز صرف 18 سے 23 فیصد افراد نے ماسک کا استعمال کیا جبکہ گلوز پہننے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہی۔ چنانچہ یہ واضح ہے کہ

حفاظتی اقدامات سے لاپروائی برتنے کے نتیجے میں کورونا کا پھیلائو بڑھ جائے گا اور حکومت کے لیے دبائو کا باعث بنے گی۔ اس طرح تو کورونا وائرس کے پھیلائو اور اس سے ہونے والی اموات میں اس قدر اضافہ ہوجائے گا کہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں ہوگا۔ پھر کچھ حلقے یہ بھی سوچتے ہیں کہ دانستہ بہت زیادہ افراد کو متاثر کرنے کا موقعہ دیا جائے گا تو اس طرح پوری قوم میں اس مرض کے خلاف مدافعت پیداہوجائے گی۔ میڈیکل سائنس میں اس صورتحال کو ’’ہر ڈایمیونٹی‘‘ کہتے ہیں جس کے معنی ہیں کہ ایک پوری آبادی بیماری سے متاثر ہونے کے بعد اس سے مدافعت حاصل کرلے اور وبا سے مستثنیٰ ہوجائے۔ تنقید کرنے والے، بجا طور پر، یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ راستہ اختیار کرنے میں سخت خطرہ ہے کہ بہت زیادہ ہلاکتیں ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے۔ حکومتی نمائندے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ حفاظتی تدابیر اور پابندیوں میں نرمی کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے کبھی اس حکمت عملی پر غور نہیں کیا گیا۔ اس میں شک نہیں کہ حفاظتی تدابیر کی ہمارے ہاں دھجیاں بکھیری جارہی ہیں اور یہی دیکھتے ہوئے ہر طرف سے الارم کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ یہ خبریں، تجزیے اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ لاک ڈائون یا پابندیاں ہمارے ہاں کبھی بھی مکمل نہ تھیں۔ یہ سب پہلے دن سے جزوی تھا اور جزوی بھی صرف بڑے شہروں کی حد تک۔ چھوٹے شہروں اور دیہات میں اس قسم کی صورتحال بھی نہ تھی۔ جب اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی منڈیاں کھلی تھیں تو سمجھیں کم از کم دیہی شعبہ تو مکمل طور پر فعال ہے۔ شہروں میں شروع شروع میں ناکوں پر کچھ سنجیدگی نظر آئی تھی لیکن بہت جلد ہماری روایتی بے تکلفی غالب آگئی۔ ہاں تعلیمی ادارے، صنعتی ادارے ضرور بند کیے گئے اور کچھ اب بھی بند ہیں۔ لہٰذا جو حلقے پابندیوں میں نرمی پر طوفان اٹھا رہے ہیں وہ یہ بھی دیکھیں کہ پابندیوں کی پہلے صورت کیا تھی۔ پھر اس زمینی حقیقت کو کیسے نظر انداز کردیا جائے کہ ہم پاکستانی اپنے حکمرانوں کے ہاتھو زخم خوردہ مخلوق ہیں۔ ہمیں تعلیم، تربیت اور سماجی شعور سے ایک پالیسی کے تحت محروم رکھا گیا۔ اسی وجہ سے پسماندگی اور غربت ہمارا مقدر بن گئی۔ اسی لیے ہماری قوم نے یہ بدنامی بھی کمائی کہ دنیا کی نظر میں پاکستان کی گورننس ایک دشوار اور کٹھن کام ہے۔ چنانچہ ہم لوگ اس فیصلے اور پالیسی کا بھی لحاظ آسانی سے نہیں کرتے جو ہمارے ہی مفاد میں ہو۔ اس لیے کہ ہم میں شعور عنقا ہے۔ اس وقت حکومت کے پاس اگر کوئی آپشن ہے تو صرف ایک، یہ کہ وہ سماجی فاصلے، ماسک وغیرہ جیسے حفاظتی اقدامات کو آہنی ہاتھوں سے نافذ کرے۔ یہ آسان نہیں ہوگا لیکن یہ واحد کام ہے جو حکومت اگر بھرپور کوشش کرے تو شاید کسی حد تک کرسکے۔ اس کے علاوہ جو بھی راستہ ہے وہ اختیار کرنا ممکن نہیں۔ یہ شعور کے عنقا ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک اور قوم کورونا وائرس سے پید اہونے والے بحران کی زد میں ہیں، وفاق اور سندھ نے ایک بار پھر سینگ پھنسالیے ہیں۔ دونوں کے مابین معاملات پہلے بھی زیادہ اچھے نہ تھے لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں جب یہ کہا کہ پیپلز پارٹی سے صوبائیت کی بو آتی ہے، سندھ حکومت کیا آرڈیننس لارہی ہے اور آپ بجلی کے بل معاف کیسے کر سکتے ہیں؟ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس پر شدید رد عمل ظاہر کیا تو معاملات زیادہ گھمبیر ہوگئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اور حکمران دونوں ہی جاری حالات و واقعات کی نزاکت کا ادراک کریں اور کورونا وائرس کی وبا کے بارے میں سنجیدگی اختیار کریں۔ لاک ڈائون میںنرمی کی گئی ہے تو عوام اس کاناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ حفاظتی تدابیر اختیار کریں کہ اس بیماری کا کوئی طبی علاج نہیں ہے۔ صرف اور صرف احتیاط آپ کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ حکمران بھی آزمائش کی اس گھڑی میں صبر اور برداشت کے ساتھ ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں تاکہ کورونا وبا کیخلاف کوئی متحد اور مشترکہ لائحہ عمل وضع کیا جاسکے۔


ای پیپر