اللہ نے انسان کوکیوں پیدا کیا
18 May 2020 (16:16) 2020-05-18

مجھے اندازہ ہونے لگا کہ یہ بھٹک گیا ہے۔ اسے مطمئن کرنا نا ممکن ہے۔ پہلے سوچا اسے قرآن اور حدیث کے حوالے دیتا ہوں۔ پھر خیال آیا کہ مولویوں اور علما کے پاس تو یہ چکر لگا آیا ہے۔ انھوں نے اسے مجھ سے بہتر قرآن اور حدیث کے حوالے دیے ہوں گے۔ میں سوچ میں پڑ گیا- میں نے آسمان کی طرف دیکھااور جواب کا انتظار کرنے لگا۔ اسی کشمکش میں مجھے ایسا لگا کہ کسی نے میرے دماغ پر دستک دے کر جواب پکڑا دیا ہو۔ شاید اللہ سبحان و تعالی کو میری حالت پر رحم آ گیا تھا۔ میں نے بآواز بلند کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدؐ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اس کے بعد میں اس سے مخاطب ہوا کہ تم اللہ تعالی سے یہ سوالات کیوں کرو گے۔ کہنے لگا کیونکہ اس نے ہی مجھے پیدا کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ وہی منصف ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے یہاں رک جاؤ۔ میں نے کہا کہ روز محشر جب تم اللہ سے سوال کرو گے کہ تمھیں تمھاری مرضی کے خلاف کیوں پیدا کیا گیا۔ تو تمھیں کیا لگتا ہے کہ اللہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ نعوذباللہ تم اللہ کو لاجواب کر دو گے۔ تم اس سے سوال پوچھو گے اور نعوذباللہ وہ سوچتا رہے گا کہ کیا جواب دے۔ میں نے کہا کیا تمھیں یہ لگتا ہے کہ جب تم اللہ سے سوال کرو گے تو اللہ تمھیں جواب دینے سے قاصر ہوگا۔ تمھیں کیا لگتا ہے کہ جب تم اللہ سے سوال کرو گے تو تم جیت جاؤ گے اور نعوذباللہ وہ ہار جائے گا۔ تمھیں کیا لگتا ہے کہ تم اتنے ذہین اور فطین ہو کہ ایسا سوال پیدا کر لیا ہے کہ نعوذباللہ اس کا جواب اللہ کے پاس بھی نہیں ہوگا۔ بتاؤ مجھے کیا ایسا ہی ہے۔ وہ سوچنے لگا۔

میں نے کہا تم ایسا سوال کر رہے ہو کہ ممکن ہے دنیا میں کسی کے پاس اس کا جواب نہ ہو لیکن ایک بات تو تم بھی مانتے ہو کہ تم اللہ عزوجل کو لاجواب نہیں کر سکتے۔ وہ تمھارے ہر سوال کا دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ جواب دے گا اور پھر تمھارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔اگر تم اللہ کے قانون سے ناواقف ہو تو یہ تمھارا قصور ہے۔ قانون سے لاعلمی کسی کو سزا سے نہیں بچا سکتی۔ جب تم دنیا کی عدالت میں جج کے سامنے پیش ہوتے ہو اور تم نے وہ جرم اس لیے کیا ہوتا ہے کہ تم ریاست کے قانون سے لاعلم تھے تو جج پہلے تمھیں ریاست کا قانون بتاتا ہے اور پھر سزا سنا کر جیل بھیج دیتا ہے۔ اگر تمھارے پاس جج جتنا علم نہیں ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بچ جاؤ گے۔ جج پہلے تمھاری تسلی کروائے گا۔ پھر سزا سنا دے گا۔ لہذا ان سوالات کو بنیاد بنا کر روز قیامت کے حساب سے بچنے کی امید چھوڑ دو۔ تم یہ سوالات اپنے دماغ میں محفوظ رکھو۔ روز محشر اللہ سے پوچھ بھی لینا۔ لیکن جب تک جواب نہیں مل جاتا حکم الٰہی پر توجہ دو اور عمل الٰہی میں مداخلت مت کرو۔۔ جو اللہ نے کہا ہے وہ کرو اور جس سے اللہ نے روکا ہے رْک جاؤ۔ ممکن ہے کہ تمھیں اپنے سوالات کے جوابات اس دنیا میں مل جائیں۔ اگر نہ مل سکے تو اگر اللہ سبحان و تعالی نے اجازت دی قیامت والے دن اس سے پوچھ لینا۔میں نے کہا یاد رکھو کہ اللہ نے تمھیں اپنی اطاعت کے لیے پیدا کیا ہے۔ تم اشرف المخلوقات ہو۔ اللہ تم سے ستر مائوں جتنا پیار کرتا ہے۔ وہ تمھارابھلا چاہتا ہے۔

ذہن نشین کر لو کہ تمھیں سوالوں کے جواب تمھاری کم علمی کی وجہ سے نہیں مل رہے۔ نہ کہ تم یہ سوچو کہ نعوذ باللہ، نعوذ باللہ کے پاس ان سوالوں کے جواب نہیں ہوں گے۔ اللہ سے گلہ یا ناراضگی رکھ کر یہ سوال اپنے ذہن میں مت رکھنا۔ بلکہ اللہ کے منصف ہونے کا یقین رکھ کر یہ سوالات اپنے دماغ میں رکھنا۔ مجھے یقین ہے کہ جس دن اللہ تمھیں دلائل کے ساتھ ان کے جواب دے گا تم لاجواب ہو جاؤ گے اور اس وقت تمھارے پاس تمھارے اعمال کے علاوہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہو گی کہ تم بچ سکو۔ سوال ذہن نشین کر لو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو کیونکہ اللہ وہ سب جانتا ہے جو تم نہیں جانتے۔ یہ سوالات جنھیں تم اپنی بخشش کا ذریعہ سمجھے بیٹھے ہو سزا کا ذریعہ بنیں گے۔ بات اس کی سمجھ میں آنے لگی۔ وہ اقرار میں سر ہلانے لگا۔ مجھے لگا بات بن گئی ہے۔

میں نے کہا کہ میں تمھیں ایک مثال دے کر بات ختم کر رہا ہوں۔ اس کے بعد تم جانو اور اللہ جانے۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ تمھیں روز محشر یہ بتائے کہ میں نے تم سے پوچھ کر ہی تمھیں دنیا میں انسان بنا کر بھیجا ہے۔ دنیا میں جانا یا نہ جانے کا آپشن میں نے تمھارے آگے رکھا تھا اور تم نے دنیا میں جانے کا آپشن سیلیکٹ کیا تھا۔ اللہ تعالی بطور ثبوت اس وقت کے منظر کی ویڈیو بھی تمھارے سامنے رکھ دے۔ جس میں تم دنیا میں انسان بن کر جانے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہو توبتاؤ پھر تم کیا کرو گے۔ بس تم یہ سوچو کہ اس وقت تمھاری حالت کیا ہو گی۔ تمھارے پاس پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔ یاد رکھو جو اللہ جانتا ہے وہ انسان نہیں جانتا اور بے شک اللہ انصاف کرنے والا ہے۔ وہ اقرار میں سر ہلاتا ہوا اور نہ جانے کیا سوچتا ہوا اٹھا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ (ختم شد)


ای پیپر