پاکستان کا مستقبل…؟
18 May 2019 2019-05-18

اگلے روز نیو ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ کا عمر بھر کا تجربہ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کیا پیشین گوئی کرتا ہے… میں نے جواب دیا کہ تجربے کی بات میں بعد میں کروں گا ، پہلے مملکت پاکستان کے زمینی اور معروضی حقائق پر ایک نگاہ ڈال لیں… پاکستان اپنے جغرافیائی حجم اور آبادی کے تناسب کے لحاظ سے نہ اتنا بڑا ہے کہ Manageable نہ ہو نہ اتنا چھوٹا کہ viable نہ ہو… اس کے بہترین جغرافیائی محل وقوع اور اس کی اہمیت پر تو دنیا بھر کے ماہرین مثبت آرا کا اظہار کر تے چلے آئے ہیں واحد سپر طاقت نے ہمارے آمروں کو آلہ کار بنا کر اس محل وقوع کا ہم سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے لیکن ایک نگاہ پاکستان کی اندرونی جغرافیائی اور ارضی حقیقت پر بھی ڈال لیتے ہیں… جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں پاکستان کا دریائے سندھ اپنے معاون دریاؤں کے ساتھ ہمالیہ کی بلندیوں سے اتر کر ہمارے پورے خطے کو چیرتا ہوا بحیرۂ عرب میں جا گرتا ہے… اس کا آبپاشی کا نظام جو پورے خطے کو سر سبز اور شاداب رکھنے کے امکانات رکھتا ہے، دنیا کے بہترین میں سے ایک سمجھا جاتا ہے… اسی نظام میں آج کے پاکستان کو شمال اور شمال مغرب سے لے کر جنوب اور جنوب مشرق تک اپنے ساتھ جکڑ رکھا ہے… یہ وہ جغرافیائی وحدت ہے جو کم ملکوں کے حصے میں آئی ہے… لوگوں کے مابین تمام تر لسانی اختلافات کے باوجود کتنی مذہبی، ثقافتی اور رہن سہن کے طریقوں کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اس کا اندازہ درج ذیل باتوں سے لگا لیجیے… پاکستان کے چار صوبے ہیں اور انتظامی لحاظ سے پانچ، چھ یا سات بھی ہو سکتے ہیں… ان سب میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں جن کا رسم الخط ایک ہے اور ذخیرہ الفاظ بھی کافی حد تک مشترک ہے… 95 فیصد سے زائد آبادی کے لوگ ایک ہی مذہب کو ماننے والے ہیں ملک کے ایک حصے سے لے کر دوسرے تک بلکہ چاروں کونوں کا سفر کر لیجیے، آپ کو معمولی اختلاف کے ساتھ بنیادی لباس یعنی شلوار قمیص ایک نظر آئے گا… تمام صوبوں کے لوگ کھانے پینے کی عادات میں ایک دوسرے سے متاثر نظر آتے ہیں… مثلاً لاہوری ناشتہ، خیبر پختونخوا کی مٹن یا دنبہ کڑاہی، سندھی بریانی، بلوچستان کی سجی اور کراچی والوں کی نہاری یہ وہ کھانے ہیں جو پورے ملک کے لوگوں کو مرغوب ہیں… ہماری شادی بیاہ کی رسومات جہاں تہاں مختلف ہونے کے باوجود تقریباً یکساں ہیں… برأت پورے دھوم دھڑکے کے ساتھ دلہن کے گھر جاتی ہے… لڑکی والوں کی جانب سے حسب توفیق دیئے جانے والی دعوت طعام سے لطف اندوز ہوتی ہے… رسم نکاح ایک ہے… لڑکے والے حق مہر ادا کرتے ہیں اور لڑکی والے بیٹی کو حسب استطاعت جہیز دے کر پیا گھر کے لیے رخصت کرتے ہیں… اگلے روز لڑکے والوں کی جانب سے دعوت ولیمہ کا اہتمام کیا جاتا ہے… شادی کے دن سے قبل لڑکی والوں کے یہاں کئی دن تک ڈھولکی بجتی رہتی ہے… مہندی کی رسم ادا ہوتی ہے… یہ سب وہ رسوم ہیں جو چھوٹے بڑے مقامی فرق کے ساتھ تقریباً پورے ملک میں ادا کی جاتی ہیں… لباس میں اس حد تک یکسانیت ہے کہ قمیص شلوار ساری قوم کا مشترکہ پیراہن بن چکا ہے… اس فرق کے ساتھ کہیں قمیص کا سائز لمبا ہے اور کہیں شلوار کے پائنچے زیادہ کھلے ہیں… سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والے نصاب تعلیم میں بھی ظاہری طور پر کوئی فرق نہیں… اگرچہ اس کے معیار کے بارے میں ماہرین گفتگو کرتے رہتے ہیں… یعنی نوجوان نسل کی پرورش، تربیت اور ذہن سازی تک طریقہ بھی تقریباً ایک ہے، اس میں نقائص پائے جاتے ہیں یا غیر معیاری اور اسے کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے ، اس پر بھی ماہرین اور دوسرے لوگوں کی جانب سے اسی ایک احساس کے ساتھ گفتگو ہوتی رہتی ہے کہ اسے کیونکر اور کیسے مقامی حالات اور قومی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکتا ہے… دوسرے الفاظ میں پاکستان صرف جغرافیائی لحاظ سے نہیں اپنے معاشرتی اور دوسری اقدار کے لحاظ سے بھی وحدت کی غمازی کرنے والا ملک اور سماج ہے… یہاں کے لوگوں کا دین و مذہب ایک نہیں کلچر اور مختلف ثقافتی لہروں کی تہہ کے نیچے بھی ہم رنگی پائی جاتی ہے… میں ادب و شاعری کے میدان کا آدمی نہیں لیکن اقبال سارے ملک میں پڑھا جاتا ہے پنجاب کا بلھے شاہ، سندھ کا شاہ لطیف بھٹائی ،خیبر پختونخوا کا خوشحال خان خٹک اور سرائیکی علاقے کے شاہ فرید کی کافیاں سارے پاکستان کے ادب دوست حلقوں میں مقبول ہیں… دوسرے الفاظ میں یہ دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جس کے لوگوں کے اندر اس طرح کے ذہنی و قلبی اور رہن سہن کے اطوار کی ہم آہنگی ان کے مابین فطری اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں… ایسے ملک کا مستقبل کیوں روشن نہیں ہوسکتا؟ اس کے لوگوں کے ہاں کامیابی اور ترقی کے بہت امکانات ہیں اور کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہو گا ، غیر معمولی امکانات پائے جاتے ہیں کیونکہ دنیا میں کم ملک ایسے ہیں جن کے لوگوں کے اندر ہر سطح پر اتنی زیادہ یکسانیت پائی جاتی ہے ۔لہٰذا اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ ہم بحیثیت قوم ارادہ کر لیں تو پاکستان کے مستقبل کو شاندار نہیں تابناک بنا سکتے ہیں… اتنا شاندار اور تابناک جس کے اندر ہمارے داخلی معروضی حالات کی وجہ سے پائیداری کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتاہے…

پھر ایسا کیوں ہے کہ ہمارے حال پر بھی مایوسی کے بادل چھائے ہوئے نظر آتے ہیں اور ماضی کی 70 سالہ قومی تاریخ بھی دو چار کامیابیوں سے قطع نظر بہت زیادہ قابل فخر مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے… اس ناکامی کی ایک وجہ ننگی آنکھ کو بھی نظر آتی ہے… کوئی بھی سیاسی جماعت اپنا اچھا یا برا پروگرام لے کر عنان حکومت سنبھالتی ہے یا اسے اس کا موقع دیاجاتا ہے تو وہ اڑنے بھی نہ پائے تھے گرفتار ہم ہوئے کے مترادف اپنی جائز اور آئینی مدت سے بہت پہلے گھر روانہ کر دی جاتی ہے ، اس کا بوریا بستر لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے… پھر اس کا سیاپا شروع ہو جاتا ہے… اس کے لیڈر اتنے نا اہل اور کرپٹ تھے کہ فلاں کام بھی نہ کر پائے، فلاں منصوبہ بھی ان سے مکمل نہ ہو سکا اور فلاں کام کی سرے سے اہلیت ہی نہ رکھتے تھے … یہ پاکستان کی ایک نہیں تمام سول اور جمہوری حکومتوں کی کہانی ہے اور ہمارا قومی المیہ یا پرلے درجے کی ناکامی …آٹھ، دس اور گیارہ سال صرف ان حکومتوں کو ملے جو کسی قسم کے آئینی جواز سے محروم تھیں… ڈنڈے کی طاقت کے بل بوتے پر حکمرانی سے لطف اندوز ہوتی تھیں … بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے زیادہ اور ملکی بہتری کی خاطر کم کام کرتی تھیں… دساور سے وقتی طور پر ڈالروں کی بارش ہو جاتی تھی ، اس کے نتیجے میں چکا چوند ضرور پیدا ہو جاتی تھی اور میڈیا پر مکمل کنٹرول ہونے کی وجہ سے لوگوں تک یہ احساس منتقل کیا جاتا تھاکہ ہم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوا چاہتے ہیں… مگر جب یہ ڈکٹیٹر کسی زبردست عوامی احتجاج یا قدرتی حادثے کے نتیجے میں ملک کی جان چھوڑ دیتا تو اپنی نام نہاد کامیابیوں کو بھی ساتھ لے جاتا، پیچھے کچھ نہ بچتا… ملک و قوم پر ویرانی اور محتاجی کی پہلی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی… یہ وہ چکر ہے جس میں ہم گزشتہ 70 برسوں سے مبتلا چلے آ رہے ہیں یعنی سول اور جمہوری حکومتیں آتی ہیں تو ان پاؤں اکھڑے اکھڑے رہتے ہیں… قدم جما نہیں پاتیں اٹھا باہر پھینک دی جاتی ہیں… ان کی جگہ لینے والے آمرانہ اختیارات کے مالکوں کی توجہات چونکہ غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف رہتی ہیں… نتیجے کے طور پر نہ بظاہر جمہوریت کامیاب ہو پائی یا اسے کامیاب نہیں ہونے دیا گیا… نہ فوجی حکمران ہمارا کچھ بگاڑ سکے اور حاصل اس جمع تفریق کا یہ ہے کہ پاکستان جو اپنے داخلی حقائق اور ایک کامیاب ریاست کے اجزائے ترکیبی کی بنا پر ہمیں اٹھا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے… آج جوہری لحاظ سے اسی جگہ پر کھڑا ہے جہاں ساٹھ ستر سال پہلے تھا…

بطور ریاست و ملک ہمارے روشن امکانات کو پامال کر کے رکھ دینے والا امر صرف سول حکومتوں کے اکھاڑ پچھاڑ کا کھیل اور آئینی جواز سے محروم ڈکٹیٹروں کا مسلط ہو جانا نہیں بلکہ یہ ناگوار حقیقت بھی ہے کہ ہر دور میں احتساب کے نام پر ناٹک رچایا گیا… احتساب کے بغیر کوئی ملک اور اس کا معاشرہ پنپ سکتا ہے نہ ترقی کر سکتا ہے… تطہیر کا یہ عمل کسی بھی ریاست کی کامیابی کے لیے امر لازم کا درجہ رکھتا ہے… مگر پاکستان میں کیا ہوتا رہا … جو آمر جب آیا اس نے چوٹی کے ان سیاستدانوں کو اپنے نام نہاد احتساب کا نشانہ بنایا جو اس کے خیال میں اس کی بلا شرکت غیرے حکمرانی میں آڑے آ سکتے تھے… اس احتساب کے نام پر وقت کے سرکردہ سیاستدانوں کا تیا پانچہ کر کے رکھ دینے کا عمل ایوب خان کے دور سے جاری ہوا… یحییٰ خان سے ہوتا ہوا ضیاء الحق اور مشرف تک پہنچا… کچھ کو جیلوں میں ڈالا گیا … کچھ سیاستدانوں کے لیے چھ چھ سال کی پابندی لگا دی گئی اور بھٹو کو تو سولی پر لٹکا دیا گیا جبکہ کئی جلا وطنی پر مجبور کر دیئے گئے… یوں احتساب جیسی اعلیٰ ریاستی و حکومتی بلکہ معاشرتی قدر کی مٹی پلید کر کے رکھ دی گئی… مگر اس کام میں سول حکومتیں بھی پیچھے نہ رہیں… جو بھی بر سر اقتدار آئی، اس نے اپنے سیاسی مخالفوں کو احتساب کے نام پر عتاب کا نشانہ بنایا… یہ کام انتقام بن کر رہ گیا… ڈکٹیٹروں کی مانند ہمارے سول یا نام نہاد جمہوری حکمرانوں نے بھی احتساب کے عمل کو بے وقعت بنانے میں زیادہ کسر نہ رہنے دی … احتساب اگر بلا امتیاز اور بیک وقت تمام طبقوں اور اداروں کا نہیں تو گھٹیا درجے کی انتقامی سیاست کے سوا کچھ بھی نہیں… اسی لیے ہمارے یہاں احتساب احتساب تو بہت ہوتا ہے لیکن یہ عمل برگ و بار نہیں لا پاتا… آج بھی اس کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں کو استثناء حاصل ہوتا ہے… وہ سیاستدان بھی جو ہمارے یہاں کی نادیدہ اور اصل حکمران طاقتوں کے ساتھ وفاداری کے عہد نامے پر دستخط کر دیتے ہیں بچ نکلتے ہیں… اس طرز عمل کے نہایت درجہ منفی اثرات ہمارے جسد سیاست پر بھی پڑے اور ریاست بھی بری طرح متاثر ہوئی… احتساب کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا اندازہ آپ چیئرمین نیب کے تازہ ترین اخباری انٹرویو سے لگا لیجیے… جس کے مندرجات اور ان میں لگائے جانے والے کچھ الزامات کی تردید پر تو خود چیئرمین صاحب مجبور ہوئے ہیں… جس جماعت پر الزامات کی بارش کی گئی ہے اس کی جانب سے انہیں کھلے الفاظ میں جھوٹا کہا جارہا ہے… یعنی احتساب کی کوئی ساکھ باقی ہے ، نہ احتساب کرنے والوں کے بیانات پر کوئی یقین کرنے کو تیار ہے… پاکستان کی ریاست و مملکت جس کے اندر ایک کامیاب اور ترقی یافتہ ملک و قوم بننے کے بے پناہ امکانات پائے جاتے ہیں… ان امکانات کو اس کھلواڑ نے میں خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے… ہم دنیا بھر کے سنجیدہ اور عالمی سیاست پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کی نگاہوں میں مذاق کا موضوع بن کر رہ گئے ہیں یعنی ہمارے یہاں سیاسی تہذیب کا یکسر فقدان پایا جاتا ہے… بنیادی وجہ ہمارے یہاں حکومت سازی اور ریاست کاری کے متفقہ نظام کو چلنے نہ دینا ہے جس دستوری اور آئینی نظام جسے قوم کے نمائندوں نے اتفاق رائے سے منظور کیا، ڈکٹیٹروں نے اسے بار بار اکھاڑ پھینکا… مگر سول حکمرانوں نے بھی جن کے اقتدار کے لیے صرف اور صرف یہ آئین و دستور وجۂ جواز مہیا کرتا تھا ، اس پر صحیح عمل پیرا ہونے میں نا اہلی کا مظاہرہ کیا… جس کا نتیجہ انہوں نے خود بھی بھگتا اور قوم و ملک کو بھی اس حالت سے دوچار کیا کہ جسے اب تک کامیابی کے اوج کمال تک پہنچ جانا چاہیے تھا، وہ وہیں کا وہیں کھڑا ہے…


ای پیپر