خوگر ہیں غلامی کے عوام
18 May 2019 2019-05-18

پاکستان کی معاشی تباہی و بربادی کی ہندسوں سے بھری داستان کی کئی جہتیں ہیں ۔سیاست دانوں کی لوٹ مار کی ہوش ربا داستانیں، اخبارات کے صفحے کالے کرتی اور کالموں کا پیٹ بھرنے کا کام کرتی ہیں ۔ ساری کہانیاں اربوں کی خرد برد، ہیرا پھیری پر مبنی ہوتی ہیں ۔ تاہم آہنی پردوں کے پیچھے والوں کی معیشت؟ یہ تو نو گوایریا ہے ہے جہاں صحافیوں اور بڑے بڑے میڈیا کے خبر نکالنے کے ماہرین کے پر جلتے ہیں ۔ معیشت کا ان کا اپنا ایک نظام ہے۔ لیکن لب سی لو خاموش رہو۔ صنعتی بربادی ، زراعت کی کس مپرسی بھی پنبہ کجا کجا نہم والی معیشت ہی کا قصہ ہے۔ بر آمدت کے گوناگوں مسائل اور نا اہلیاں مزید چر کے لگانے کو ہیں ۔ بھارت کو کھجور بر آمد کی بندش دیکھ لیں۔ اس سے پھل ضائع اور کروڑوں کا نقصان متوقع ہے۔ سٹاک مارکیٹ کا کریش کر جانا، معاشی ہچکیوں ، ہچکولوں سے بھرا منظر نامہ ہے۔ آئی ایم ایف کے آپریشن تھیٹر میں مریض معیشت ڈال دی گئی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ گردے بھی چرالے جائے۔ سارے کارندے اس کے اپنے ملازم ہیں جو چیر پھاڑ پر مامور ہیں ۔ کمی صرف اس بات کی ہے کہ وزیر اعظم بھی انہی کا لگ جائے! شبر زیدی ، FBR کے نئے سر براہ، قبل ازیں اسلامی بینک میں کسب بینک کو ضم کرنے کے عمل میں غیر شفافیت کے سکینڈل میں نیب زدہ ملزم بنے تھے کیونکہ قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ ( ایکسریس ٹربیون رپورٹ ۔ 23 دسمبر 2018 ء) تاہم آئی ایم ایف کو ان پر اعتماد ہے تو پاکستان نخرہ کرنے والا کون ہوتا ہے۔؟ منہ دھو دھلا کر آ گئے ہیں ! ہمارا بال بال پہلے ہی قرضوں میں پھنسا ہے اب نئے قرضوں کی تہ چڑھا کر آئی ایم ایف نجانے کیا کیا فیصلے اور افراد ہمارے مقدر باندھ جائے گا ! لیکن مجھے اس دیس میں پیدا کیا تو نے، جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضامند! ڈالر اور پٹرول آسمان کی طرف مائل بہ پرواز ہے۔ آسان حساب کے لیے جلد 150 پر پہنچ جائے گا۔ عوام الناس کی گردن اس سے منسلک مہنگائی کے ہاتھوں اوپر جاتی قیمتیں دیکھتے شل ہو گئی ہے۔ ایسے میں مزید خبریں اس نوعیت کی زخموں پر نمک چھڑکنے کو ہیں کہ سماجی بہبود اور خدمت خلق کی 11 تنظیموں اور اداروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مسلمان غرباء مساکین بیوائوں یتیموں کی کفالت بھی نائن الیون کے بعد سے دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔ اس کی آڑ میں سعودی عرب سے مسلم دنیا میں خیراتی سرگرمیوں میں فراخدلانہ عطیات والے حرمین شریفین فائونڈیشن، نوعیت کے ادارے بند کیے گئے۔ دینی جماعتوں کی خدمت خلق پر مامور، الرشید ٹرسٹ، قسم کے بے شمار ادارے، تنظیمیں پابندی کا شکار ہو ئیں۔ مرتے ہوئے مسلمان یا فاقہ زدہ کے منہ میں جان بچانے کو پانی، لقمہ ڈالنا جرم قرار پایا اور مسلم حکومتوں نے اسے قبول اور نافذ بھی کیا۔ عیسائی تنظیمیں ، این جی اوز کے خیراتی ادارے پوری دنیا سے اموال اکھٹے کرنے اور مخصوص مقاصد، مشنری ایجنڈوں کے تحت کام پر پوری آزادی سے مامور ہیں ۔ کالے دجال کا کانا انصاف کار فرما ہے۔ افغانستان میں عیسائیت کے پر چار سے منسلک خیراتی تنظیمیں ڈنکے کی چوٹ کام کر سکتی ہیں ۔ ہیومینٹی فرسٹ کے نام سے تنظیم بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں میں قادیانیت کے پر چار کے لیے مسلمانوں میں جا بجا، جا گھسی ہے۔ مغرب کی طر ف سے انہیں پیسہ اور سہولیات بھر پور فراہم کی جاتی ہیں ۔ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر! تاہم اسکے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔ سینکڑوں صدیوں سے خوگر ہیں غلامی کے عوام ! جہاں ایک طرف کفر کے مطالبات کے آگے دبے جھکے چلے جانے کا منظر ہے۔ وہاں اندرون خانہ سارا غبار باہم سر پھٹول میں نکلتا ہے۔ ہر جگہ ہی ہاتھیوں کی لڑائی میں عوام الناس پس رہے ہیں ۔ پہلے دنگا فساد، درپئے آزار پارلیمنٹ میں گریجویٹ اسمبلیوں کے ارکان ہوئے۔ وکلاء گردی بھی ہوتی رہتی ہے۔ پنجاب میں حکومتی نا انصافیوں ، پالیسیوں کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ہڑتالوں پر رہے۔ اب باری ہے کے پی کے ، کی۔ جہاں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے چیئر مین ڈاکٹر نوشیروان برکی ( عمران خان کے کزن) سے ڈاکٹر ضیاء الدین آفریدی اسسٹنٹ پروفیسر خیبر ہسپتال میٹنگ کے لیے مسلسل نہ ملنے پر، دو گھنٹے انتظار کرتے رہے۔ پیمانۂ صبر لبریز ہونے پر کانفرنس روم میں ( انہیں مصروف میٹنگ پا کر) ان پر 6 انڈے برسا آئے۔ اس گستاخی کی سزا صوبائی وزیر صحت کے گارڈ اور پھر وزیر ڈاکٹر ہشام انعام اللہ نے بہ نفس نفیس دے ڈالی۔ شدید تشدد کر کے کالا پیلا نیلا کر ڈالا! یہ آگ صوبے بھر کے ہسپتالوں میں پھیل گئی۔ پشاور تا اینٹ آباد تما م سرکاری ہسپتال لپیٹ میں آ گئے۔ ڈاکٹرز، برکی کے استعفیٰ اور وزیر کے خلاف FIR کا مطالبہ لیے ہڑتال پر چلے گئے۔ مریض رل رہے ہیں ۔ عوام خوار وزار مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ گورننس سر پکڑے رو رہی ہے! پورا ملک ہمہ نوع تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے۔ یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر ! اب اللہ کرے کہ جو دیوانہ وار تیل گیس کی تلاش میں خوشخبری تلاش ہو رہی ہے وہ مل جائے۔ ہم کسی طرح معاشی بحران سے نکل کر خود مختاری کی منزل پا سکیں۔ورنہ خیر کی کوئی خبر میسر نہیں! یہ الگ کم نصیبی ہے کہ ہم رمضان کی مبارک ساعتوں میں بھی اپنے خالق مالک رازق کی طرف پلٹنے، رجوع کرنے کو تیار نہیں۔ یہی ہمارے قومی بحرانوں کی وجہ وحید ہے ! اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاج ملوک، اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا داراوجم۔ الٹا رب تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کو رمضان میں مدارس پر چھاپے مار کر آدھی رات کو ان کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے۔ علماء ، مدارس، دینی تعلیم کے حوالے سے ہم پر تمامتر دبائو امریکہ اور ہمارے معاشی نا خدائوں کا ہے۔ ان کے عزائم امریکی سیکرٹری سٹیٹ ، ٹیلرسن کے بیان میں دیکھے جا سکتے ہے جو حال ہی میں مسلم دنیا بارے جاری ہوا ہے۔ ڈنکے کی چوٹ سعودی عرب سے انتہا پسند وہابی سوچ کی مکمل بیخ کنی پر پیش رفت کے حوالے سے یہ ارشادات فرمائے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سعودیوں کے ساتھ ملکر کام کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ریاض میں ایک سینٹر کا افتتاح ہو چکا ہے۔ ان اقدامات میں سے ایک مساجد سے ملحق مدارس کے لیے نئی نصابی کتب کی اشاعت کا ہے۔ نو جوان اماموں کی تربیت از سر نو کی جائے گی۔ یہ نئی کتب سعودی عرب میں پڑھائی جائیں گی۔ نیز یہ کتب پوری مسلم دنیا میں پھیلائی جائیں گی۔ اب دنیا بھر کی مساجد کے امام دہائٹ ہائوس اہل کاروں کی براہ راست نگرانی میں تیار ہوں گے۔(کیا مسلمانوں کو بھی ویٹی کن اور چرچ آف انگلینڈ کے پادریوں کی تعلیم و تربیت کی سہولت دی جائے گی؟ نیز اسرائیل کے مقدس ربائیوں کی بھی؟ اور مودی دیس کے ہندو، برما کے بدھ؟) نہ صرف نئی کتب پھیلائی جائیں گی بلکہ پرانی انتہا پسندانہ کتب ان سے واپس بھی لی جائیں گی۔ سو جناب اپنی کتب سنبھالیے ! اب مدرسہ عبداللہ بن مسعود ؓ یا مدرسہ ابو ہریرہ ؓ کی جگہ مدرسہ سینٹ پال اور مدرسہ سینٹ ویلنٹائن ہونے چلا ہے۔ فتنۂ دجال کے سر پر سینگ تو نہ ہوں گے۔ اس کے قدموں کی چاپ بلند آہنگ ہو رہی ہے۔ اسی میں آپ یہ بھی سن رہے ہیں کہ مدینہ میں مشہور کنواں بئر عثمان ؓ جو سیدنا عثمان غنیؓ نے مسلمانوں کی ضرورت کے لیے یہودی مالک سے خرید کر وقف کر دیا تھا ، اب وہاں یہودی ملکیت کا بورڈ سعودی انتظامیہ نے آویزاں فرما دیا ہے ! یہودی وفد اسرائیل سے دیدار کو آنے کو ہے ! ایسی خبروں کے تازیانے سہتے سہتے۔ ہوش و حواس تاب و تواں داغ جا چکے… کی سی کیفیت ہونے لگتی ہے ! ہاں آزاد دنیا اگر کہیں ہے تو طالبان امریکہ مذاکرات کی میز پر دکھائی دیتی ہے۔ جہاں سے سپر پاور زچ ہو ہو کر اٹھتی ہے۔ مطالبات پیش کرتی ہے اور منہ کی کھاتی ہے۔ امریکہ ۔ انوکھا لاڈلا جب ہم سے کھیلن کو چاند مانگتا تھا تو ہم نے تو اپنے جھنڈے کے چاند تارے نوچنے کی کسر بھی نہ اٹھا رکھی۔ طالبان سے مطالبہ ہوا کہ، افغان طالبان جہاد کی دعوت و تبلیغ ترک کر دیں اور لٹریچر تلف کردیں۔ اس پر حسبِ توقع امریکہ نے منہ کی کھائی۔ رکن دین جہاد ترک کیا ہوتا تو آج امریکہ مذاکرات کی میز پر یوں ایڑیاں رگڑ رہا ہوتا؟ طالبان نے اسے سنت رسول ؐ قرار دیتے ہوئے دو ٹوک انکار کیا کہ ترک جہاد کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ مسلم ممالک میں مغرب کے جنگجو یانہ عزائم نے جو قیامت بر پا کر رکھی ہے، بجائے اسکے کہ مسلم دنیا بیک زبان اس ظلم و جبر کے خلاف متحد ہو کر کھڑی ہو جائے۔ دہشت گردی کے حقیقی مرتکبین کو آئینہ دکھائے، مسلم ممالک یکے بعد دیگر، تباہی کے دہانے پر جا کھڑے ہوئے ہیں ظلم و سربیت کی اس 18 سالہ عفریت کے ہاتھوں ۔ اس کی وجہ ہر ملک میں اشرف غنی نما کٹھ پتلیوں کے سوا کیا ہے!


ای پیپر