آئی ایم ایف معاہدہ اور ڈالر کی اُڑان…!
18 May 2019 2019-05-18

جناب عمران خان کی حکومت کی گذشتہ کئی ماہ سے عالمی مالیاتی اِدارے آئی ایم ایف سے پاکستان کے لئے قرضہ لینے کا معاہدہ طے کرنے کے لئے کی جانے والی کوششیں اور کاوشیںبلآخر بار آور ثابت ہوئی ہیں اور پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین چھ ارب ڈالر کے قرضہ کا سٹاف سطح کا معاہدہ طے پا گیا ہے ۔جس کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کا بورڈ دے گا ۔ معاہدہ کے تحت پاکستان کو چھ ارب ڈالر کی رقم 39ماہ میں قسط وار ملے گی۔ عالمی اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی تین ارب ڈالر قرض ملے گا ۔ آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کے ساتھ توسیع فنڈ سہولت کے تحت اقتصادی پالیسیوں پر سٹاف سطح کا معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ٹیکسوں کا بوجھ تمام شعبوں پر یکساںلاگو ہو گا ۔مانیٹری پالیسی مزید سخت اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا ۔حکومت اگلے بجٹ میںاہم مالیاتی قدم اٹھائے گی ۔بنیادی خسارہ 0.6%پر لایا جائے گا۔حکومت ہدف حاصل کرنے کے لیے ٹیکس وصولیاں بڑھائے گی ،ٹیکس مراعات ختم کرے گی اور ٹیکس نظام کو بہتر بنائے گی ۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کے مطابق طے کرنے سے بہتری آئے گی ۔ آئی ایم ایف اعلامیے میںکہا گیا ہے کہ حکومت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی خودمختاری قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے جسے پاکستان کے مالی استحکام پر توجہ دینی ہوگی اور یہ غریبوں پر اثر انداز مہنگائی کو کم کرنے کے لیے ضروری اقدمات کرے گا ۔اعلامیے کے مطابق پاکستان کو معاشی لحاظ سے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں گروتھ کی کمی ،بڑھتی ہوئی مہنگائی ،بہت زیادہ قرضہ اور کمزور بیرونی صورتحال ہے ۔یہ حالیہ عرصے میں ملنے والی غیر متوازن اور متزلزل معاشی پالیسیوں کی عکاسی ہے جس کا مقصد تیزی سے ترقی تھا لیکن اس کے ساتھ خطر ناک حد تک اخراجات میںاضافہ اور ڈھانچہ جاتی اور اداروں کی خامیاں وقو ع پذیر ہوئیں۔ توسیع فنڈ پروگرام کی مدد سے اگلے تین سال میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور میکرو اکنامک ایجنڈا پر عمل کیا جائے گا جس میں ٹیکس پالیسی اور انتظامی اخراجات کو مضبوط کر کے ریونیومیں اضافہ ہی نہیں کیا جاسکے گا بلکہ ٹیکس کے بوجھ کو مساوی اور شفاف بنیادوں پر کرنے سے حکومتی فنانسنگ میں بہتری اور حکومتی قرضے میں کمی آئے گی ۔اس دوران توانائی کے شعبے میں وصولیوں کے جامع پلان پر علمدرآمد اور حکومتی اداروں کے خرچے کم کرنے سے حکومتی خسارے کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

آئی ایم ایف کے اعلامیے میں پاکستان کے لیے معاشی اصلاحات کے جامع پروگرام کے تحت کئی اور اقدامات کرنے اور ہدایات پر عمل کرنے کا ذکر موجود ہے ۔ان کی تفصیل میں جانے کی بجائے ہم وزیراعظم کے مشیر امور خزانہ جناب عبدالحفیظ شیخ کے آئی ایم ایف سے طے پائے جانے والے معاہدے کے حوالے سے بیان کردہ اُمید افزاہ خیالات کی طرف آتے ہیں ۔اُنکا کہنا ہے کہ چھ ارب ڈالر کا سٹاف سطح کا معاہدہ طے پا گیاہے جس کے بعد عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے تین ارب ڈالر کی اضافی رقم بھی ملے گی ۔یہ تمام قرضہ کم شرح سود پر ہے اس سے دنیا میں اچھا پیغام جائے گا اور بیرونی سرمایہ کاری کے دروازے ہی نہیں کھلیں گے بلکہ ملک کی معاشی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی ۔جناب حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی کچھ شرائط ایسی ہیں جو ہمارے مفاد میں ہیں اور ہم نے خود بھی کرنی تھیں۔ ان میں اخراجات میں کمی، خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں کی بہتری اور نجکاری اور امیر لوگوں کے لیے سبسڈی کو روکنا اور ان پر زیادہ ٹیکس عائد کرنا وغیرہ شامل ہیںہمارے لیے موقع ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے معاملات حل کریں۔ ملک کو خوشحالی کی جانب لے کر جانا چاہتے ہیں تو یہ سب کچھ کرنا ہوگا۔

آئی ایم ایف سے سٹاف سطح پر طے پانے والے معاملے کے یہ چیدہ چیدہ نکات اور اُن کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر امورِ خزانہ جناب عبدالحفیظ شیخ کے حوصلہ افزا خیالات کا حوالہ اپنی جگہ اہم ہے ۔ اس سے ہمیں جہاں پاکستان کی انتہائی نا گفتہ بہ معاشی صورتحال کے بارے میں جاننے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے وہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی معاشی ٹیم نو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ملک کی معاشی صورت حال کو بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ جناب اسد عمر بطورِ وزیر خزانہ اس بات کی کے لئے کوشاں رہے کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط مان کر آئی ایم ایف سے کوئی قرضہ پیکج لینے سے ملک کو بچا سکیں۔ لیکن اس میں انہیں ناکامی کا ہی سامنا نہیں کرنا بلکہ وزارت ِ خزانہ سے ہاتھ بھی دھونے پڑے۔اَنجام ِ کار پاکستان کو اپنی معاشی ٹیم کے نئے سربراہ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ جناب حفیظ شیخ کی سربراہی میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کے نتیجے میں کڑی شرائط کو قبول کرتے ہوئے آئی ایم ایف سے ایسا پیکج طے کرنا پڑا جسے ’’بیل آئوٹ پیکج‘‘ کی بجائے ’’سیل آئوٹ پیکج‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ یقینا یہ پاکستان کی کمزور معاشی صورت حال کی عکاسی اور حکومت کی طرف سے معاشی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

تحریک انصاف کو حکومت سنبھالے نو(9)ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اس دوران وزیر اعظم عمران خان اور اُن کے اہم حکومتی رفقاء سابقہ حکمرانوں کو بدنام کرنے، اُن پر الزامات عائد کرنے اور دُنیا جہان کی خرابیاں اور خامیاں اُن سے وابستہ کرنے کے سوا اَور کچھ بھی نہیں کر سکے۔ ذرا سی دیر کے لئے مان لیتے ہیں کہ سابق حکمران نا اہل تھے،بدعنوان تھے، کرپٹ تھے اَور اُن کی وجہ سے ملک کی معاشی صورت حال میں خرابی آئی ۔ لیکن آپ نے نو(9) ماہ میں کیا کیا؟آپ کا سارا زوراس بات پر رہا کہ سابقہ حکمران قرضے لے کر ملک چلاتے رہے ہیںاَور اُنہوں نے ملک پر 30ہزار اَرب روپے کے قرضوں کا بوجھ لاد دیا۔ لیکن آپ کی اپنی حالت کیا ہے؟کیا یہ حقیقت نہیں کہ تحریک ِ انصاف کی حکومت بینکوں سے ہر روز کئی اَرب روپے کے قرضے لے کر اور نئے نوٹ چھاپ کر اَمورِ حکومت چلا رہی ہے؟ کیا نو(9) ماہ کے عرصے میں تحریک انصاف کی حکومت نے ملک پر مزید کئی ہزار اَرب روپے کے قرضوں کا بوجھ نہیں لاد دیا ہے؟کیا صرف ایک روز جمعرات کو روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں چھ(6)روپے اضافے سے بیرونی قرضوں میں 666اَرب روپے کا اضافہ نہیں ہوا ہے اَور اُن کا حجم105اَرب ڈالر ہو گیا ہے؟ کیا سٹاک مارکیٹ اِن دِنوں انتہائی مندے کا شکار نہیں رہی اور صرف جمعرات کے ایک دِن 321پوائنٹس کی مندی نہیں رہی اَور اب تک سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو اَربوں روپے کا نقصان نہیں ہو چکا ہے؟

یقینا یہ سب کچھ ہو چکا ہے اور سارے نقصانات اور اثرات سا منے آچکے ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کو اقتصادی لحاظ سے بحران کا سامنا ہے جس سے نکلنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام میں جانا مشکل فیصلے کی گھڑی ہے۔ شرح نمو اور مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ جناب حفیظ شیخ کی یہ صاف گوئی اپنی جگہ لیکن اُنہیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد کرنسی مارکیٹ کی فری فلوٹ پالیسی اَور کرنسی مارکیٹ کی غیر یقینی صورت حال کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ جن کی وجہ سے ڈالر نے اتنی اُڑان بھری اور وہ روپے کے مقابلے میں بلند ترین سطح 147.50روپے فی ڈالر پر پہنچ گیا۔ اِس وقت صورت ِ حال یہ ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر غائب ہے۔ خریدار موجود ہیں لیکن فروخت کرنے والے ناپید ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں مزید 20%اضافے کی افواء بھی زور شور سے گردش کر رہی ہے۔

ملک کی اقتصادی صورت حال اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی یہ تفصیل یقینا خوش کن نہیںاس پر مستزاد کہ جناب وزیر اعظم نے اگلے دِن ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ہدایت جاری کی کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ کاروائی ہوئی یا نہ ہوئی لیکن یہ نتیجہ ضرور سامنے آگیا کہ وزیر اعظم کی ہدایت جاری کرنے کے اگلے ہی روز ڈالر کی قیمت میں 6روپے سے زائد اضافہ ہمارا مُنہ چڑھا رہا ہے۔ آخر ایساکیوں ہوا؟ جناب وزیر اعظم کو اس بارے میں ضرور سوچنا چاہیے۔


ای پیپر