عمران قصوری اور عمران مجبوری
18 مئی 2019 2019-05-18

قارئین ، میری طرح آپ کو بھی زندگی میں سب سے زیادہ صدمہ اور دُکھ اِس خبر کو سُن کرہوا ہوگا، کہ قرآن مجید پڑھنے کے لیے معصوم بچی زینب، جن کے والدین عمرے کی سعادت حاصل کرنے حرمین شریفین میں سربسجود ہوکر دُعا دین ودنیا میں مصروف تھے، ان کی لخت جگر اپنی عزت وعصمت اور جان کی بازی ہار گئی۔ جبکہ ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا، کہ ان کی دنیا تو لُٹ چکی ہے، اگر اس سانحے پہ غور کریں ، تو یہ معلوم ہوتا ہے، کہ ان میں پہلا اور بنیادی قصور، تو قصور کے ان والدین کا اپنا ہے، کہ جو اپنی معصوم بچی کو کسی دوسرے کے رحم وکرم پہ چھوڑ کر چلے گئے تھے، خواہ وہ بچی کی خالہ ہی کیوں نہ ہو۔

کئی دنوں کی جاں گسل دشواریوں، اورمشقتوں کے بعد، سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس آفسران کی شب وروز کی سائنسی بنیادوں پہ تحقیق و تفتیش کے بعد ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ہوکر پاکستان کی تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا، کیونکہ خود اعتمادی ہی کامیابی کا بہت بڑا راز ہے۔ ان دنوں جو ڈرائیور میرے پاس تھا، اس کا نام بھی ” عمران “ تھا، جس کے بارے میں، میں نے تفصیل کے ساتھ اُس پر کالم بھی لکھ دیا تھا، اس کی بیوی بھی ہمارے گھر میں ملازمہ تھی، اور اکثر جب بھی میں گھر آتا، مجھ سے پوچھتی کہ زینب کے قاتل پکڑے گئے ہیں، کہ نہیں حتیٰ کہ دن میں کئی کئی دفعہ وہ پوچھتی جب ملزم عمران پکڑا گیا، تو میں نے گھر آتے ہی اُس ملازمہ کے کوارٹر کے پاس جاکر زور سے کہا، کہ نسرین ملزم پکڑا گیاہے ، اور تمہیں پتہ ہے، وہ کوئی اور نہیں ” عمران “ ہی تھا، عمران چونکہ اُس کے شوہر کا نام تھا، لہٰذا وہ سرپیٹ کر رہ گئی، اور بولی کہ میں اس شخص کے ساتھ ایک منٹ نہیں رہنا چاہتی، اس کے ساتھ ہی اُس نے اُسے بددعائیں دینا شروع کردیں۔ قارئین ، عمران کے پکڑنے میں اتنی مشکل کیوں پیش آئی، حالانکہ وہ بچی زینب کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا۔

اُس کی وجہ یہ تھی، کہ وہ محافل درود وسلام میں نعتیں پڑھتا، ہردینی اجتماع میں شریک ہوتا، بلکہ اُس نے اپنا حلیہ بھی ایک ”سچے مسلمان“ والا بنایا ہوا تھا، چہرے پہ داڑھی ، کندھے پہ لمبا رومال اب کون ایسا بداعتماد واعتقاد شخص ہوگا، کہ جس کا شک اور دھیان ریاست مدینہ کے بانی کے بارے میں نعت وثنا پڑھنے والے کی طرف جاتا، حتیٰ کہ زینب کے حق میں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے جو جلوس نکلتے وہ ہرجلوس میں شامل ہوتا، اور پُرزور نعرے بھی لگاتا رہا، شیطان کے بارے میں علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں :

کون کرسکتا ہے، اُس کی آتش سوزاں کو سرد

جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں!

اب قارئین میں کیا کروں، کہ معصوم زینب کا چہرہ اور اُس پہ پھیلی معصوم مسکراہٹ نظروں سے ہٹتی ہی نہیں۔ کل پرسوں ، ایک خبر پڑھی ، کہ جو حالیہ امریکی، اور ایرانی خودساختہ چپقلش کے بارے میں تھی، امریکہ کے فوجی حکام کے مطابق، دفاعی میزائل سسٹم پٹریاٹ کے ہمراہ اپنا ایک اور جنگی بیڑہ جو اسٹرائیک گروپ سے لیس ہے، اُسے مشرق وسطیٰ روانہ کردیا ہے، ایران کی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک سینئر ایرانی عالم یوسف ”تباتبائی“نژاد نے کہا، کہ بلین ڈالر مالیت کے امریکی بحری بیڑے کی ”تباہی“ صرف ہمارے ایک ہی میزائل سے ممکن ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور خبر بھی ایسی تھی، کہ جس کو پڑھ کر میرا ماتھا ٹھنکا کہ آبنائے ہرمز میں دوسعودی تیل بردار بحری جہازوں پر پراسرار حملہ، جس سے بحری جہازوں کو خاصا نقصان پہنچا، ایک جہاز سعودی عرب سے امریکہ کو تیل مہیا کرتا تھا اور ایسا ”یواے ای“ کے ساتھ بھی ہوا، جنہوں نے تحقیقات شروع کردی ہے بحرین ، مصر اور خلیج تعاون کونسل نے اس کی مذمت کی ہے، اور ایران نے ” عمران قصوری “ والا کام کیا، اور مطالبہ کیا ہے، کہ اس حملے کی تفتیش کی جائے۔

قارئین، سعودی عرب، اور ایران کی سردجنگ اور مخاصمت کسی بھی ڈھکی چھپی نہیں بلکہ دنیا کا ہرفرد، اورہرملک جانتا ہے، مگر صحیح خیالات کا اظہار تو علامہ اقبال کرتے ہیں کہ :

تیری دُعا نہ جنیوامیں ہے ، نہ لندن میں

فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے

ایران نے پاکستان کو تیل و گیس مہیا کرنے کی جو پیشکش کی تھی، امریکی دباﺅ پہ کیونکہ آئی ایم ایف بھی اسی کا ہے ، پاکستان نے مسترد کردی، اور کہا تھا ، کہ امریکہ نے ہمیں یہ ہدایات دی ہیں کہ اس پیشکش کو اس وقت تک قبول نہ کیا جائے، جب تک ایران اور امریکہ کی مفاہمت نہیں ہوجاتی دنیا بھر میں سعودی عرب، اور ایران کا تیل سپلائی کیا جاتا ہے ، جبکہ عراق اور مشرق وسطیٰ کی ریاستیں اس حوالے سے اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہیں اب یمن میں حوثی قبائل کے حوالے سے سعودی عرب سے ایران کا جو اختلاف ہے، کبھی وہ کھل کر کبھی دبے الفاظ کے ساتھ، احتیاط سے زبانوں پہ آہی جاتا ہے۔

اب ایران نے اگر تفتیش کا مطالبہ کیا ہے، تو وہ بالکل بے جا نہیں ہے، عمران قصوری بھی تو متعدد بار ملزم پکڑنے کا، اور انہیں کٹہرے میں لاکر قرارواقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتے کرتے نہایت خاموشی سے پھانسی چڑھ گیا تھا کہ قوم کو کانوں کان خبر ہی نہیں ہوئی نہ کسی کو عبرت ہوئی اور نہ مرحومہ کے والدین کو تسلی ملی۔ جیسے ناموس رسالت کی مرتکب آسیہ مسیح چپ چاپ سے ملک چھوڑ گئی ہے، شاید اسی طرح مستقبل قریب میں کسی اور کا بھی ملک چھوڑنے کا ارادہ ہو، کیونکہ یہ اس کی ” مجبوری “ تھی۔ ایک عمران نے، جوزینب کے ساتھ کیا، اس کے دوسرے ہم نام نے پوری قوم کے ساتھ ایسا کرکے ہزاروں غریبوں کو مرنے پہ مجبور کردیا، کئیوں نے خودکشی کرلی ، کچھ کو عید کے دن کا انتظار ہے، اور اپوزیشن اور عوام ویسے ہی تیار ہے، کیونکہ ان کے ذہنوں میں بھی ”تبدیلی“ رچ بس گئی ہے، لیکن اس دفعہ ”کوئی روک سکے تو روک لے تبدیلی آئی رے، عمران اسماعیل نہیں بلکہ کوئی اور گارہا ہوگا، ظاہر ہے نواز شریف، آصف زرداری، مولانا سراج الحق، فضل الرحمن ، اسفند یارولی، فاروق ستار تو نہیں، البتہ یہ بھی اپنے کسی ”گورنر“ سے بھی یہ ترانہ گنوائیں گے علامہ اقبالؒ کہتے ہیں کہ :

ناچیز جہان مہ وپروین ترے آگے

وہ عالمِ مجبور ہے تو عالمِ آزاد!


ای پیپر