حق دوستی !
18 May 2019 2019-05-18

اپنے گزشتہ کالم میں، میں اپنے محبوب وزیراعظم عمران خان کے کچھ انتہائی عوام دُشمن حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے اُن کی خدمت میں عرض کررہا تھا آپ جس مقام یا منصب پر پہنچے ہیں اُس میں سارا کردار صرف اُن کا نہیں جِن کا آپ سمجھتے ہیں اور صرف اُنہی کی خدمت پر مامور ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا سارے حکومتی امور ہی اُن کے سپرد کردیئے گئے ہیں، یہ درست ہے کہ آپ نے چوبیس سالہ طویل سیاسی جدوجہد کی، مگر یہ جدوجہد آپ نے اکیلے نہیں کی، اِس میں اندرون و بیرون ملک کے کروڑوں لوگوں نے ہر لحاظ سے خصوصاًمالی لحاظ سے آپ کا بھرپور ساتھ دیا، اِن میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جنہیں آپ کی ذات یا آپ کے کسی عہدے کوئی لالچ یا مفاد نہیں تھا، اُن کا واحد مفاد یا واحد لالچ یہ تھی آپ جب اقتدار کی مسند پر سوار ہوں گے یہ ملک ترقی کرے گا، آپ پاک صاف لوگوں پر مشتمل ایک بہترین اور تجربہ کار ٹیم تشکیل دیں گے جو آپ ہی کے دعوے کے مطابق اِس ملک کو سودِنوں میں تبدیلی کے ایسے مقام پر پہنچا دے گی لوگ دنیا آپ کو پاکستان کا مہاتیر محمد قرار دینے لگے گی، اس جدوجہد میں حسبِ توفیق ہم نے بھی پورا حصہ ڈالا اور کئی طرح کی اذیتیں برداشت کیں۔ آپ کو یاد ہوگا جب نوائے وقت میں آپ کے حق میں لکھنے کے ”جرم“ میں شریف برادران کی خواہش یا حکم پر مجید نظامی مرحوم نے تین ماہ تک میرا کالم بند رکھا، وہ محض اِس وجہ سے مجھ سے خفا تھے کہ آپ میرے گھر آکر سینئر صحافیوں، ایڈیٹروں اور کالم نگاروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، نظامی صاحب کی طرف سے مجھے حکم ملا آپ شہباز شریف سے ملاقات کرلیں، آپ کا کالم دوبارہ چھپنا شروع ہو جائے گا، میں نے اُن کی بات تسلیم کرنے سے انکار کردیا، میں نے چوبیس صفحے کا ایک استعفیٰ لکھ کر اُنہیں بھجوایا ، جس کے بعد آپ کے گھر واقع زمان پارک لاہور میں آپ کے برادر نسبتی جناب حفیظ اللہ نیازی نے میرے اعزاز میں ایک شاندار عشائیے کا اہتمام کیا جس میں ملک بھر کے ممتاز ترین قلم کاروں نے شرکت فرمائی، آپ نے اس موقع پر فرمایا ” بٹ صاحب آپ نے بڑا زبردست کام کیا ہے “،.... مجھ سے زیادہ زبردست کام جناب حفیظ اللہ نیازی کررہے تھے، وہ ملک بھر کے ممتاز ترین قلم کاروں کو آپ کے قریب رکھتے تھے، ابتدائی دنوں میں آپ کی سیاسی ساکھ قائم کرنے کے سب سے زیادہ ”گناہ گار“ جناب حفیظ اللہ نیازی ہی ہیں، پی ٹی آئی اور خود آپ کی ذات کے لیے اُن کی خدمات سوائے آپ کے کوئی فراموش کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا، میں آج ایک بات آپ کو بتارہا ہوں، میرے والد صاحب نے اک روز مجھے خاص طورپر اپنے پاس بلوایا ، وہ فرمانے لگے ”عمران خان یقیناً ایک اچھا انسان ہوگا، اِس میں کوئی شک نہیں وہ ایماندار ہے، یہ بھی یقیناً درست ہی ہوگا وہ پاکستان سے بے پناہ محبت کرتا ہے ، آپ کے اِس دعوے کو تسلیم کرنے میں بھی میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا وہ ایک سادہ انسان ہے اور بڑا بہادر یا دلیر ہے، مگر جواُس کے ”گھریلو معاملات“ ہیں، یا یوں کہہ لیں جو اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ اُس کا رویہ ہے، یا ہماری کچھ اخلاقی قدروں کے حوالے سے جو اُس کا کردار ہے، میں جب اُن کے بارے میں سوچتا ہوں مجھے یہ بات بڑی کھٹکتی ہے کہ جو شخص اپنے خونی رشتہ داروں، اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتا وہ عوام کے ساتھ کیسے ہوسکتا ہے ؟ ، میں نے اُس وقت اپنے ابوجان کوکئی جھوٹی سچی دلیلیں دے کر اُن کو تسلی کروائی، آج عوام کے ساتھ آپ کا جورویہ ہے، گو کہ اُس کا تعلق آپ کی بدنیتی سے زیادہ آپ کی نااہلی اور ناتجربہ کاری سے ہے مگر مجھے اپنے والد محترم کی یہ بات رہ رہ کر یاد آتی ہے کہ جو شخص اپنے رشتہ داروں حتیٰ کہ خونی رشتہ داروں سے مخلص نہیں ہوسکتا وہ کسی سے بھی نہیں ہوسکتا، اور اگر کوئی شخص اپنے خونی رشتہ داروں کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتا اُسے اُن لاکھوں مخلص کارکنوں کی کیا قدر ہوگی جنہوں نے اس مقام وزارت عظمیٰ تک اُنہیں لے جانے میں کئی طرح کی تکلیفیں اور اذیتیں برداشت کیں، ان میں اکثریت اُن کارکنوں یا عوام کی ہے جو خان صاحب کا ساتھ صرف اس لیے دے رہے تھے وہ یہ سمجھ رہے تھے یا وہ بے وقوف بُری طرح اِس یقین میں مبتلا ہو چکے تھے کہ خان صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں، جو وعدے وہ کررہے ہیں، ملکی ترقی کے

حوالے سے جو دعوے بار بار فرما رہے ہیں وہ سب درست ثابت ہوں گے۔ اُن میں چند افراد ہی ایسے ہوں گے جو کسی نہ کسی ذاتی مفاد کے حصول کے لیے، یا اس نوعیت کی کسی اور مجبوری کی وجہ سے خان صاحب کے ساتھ جُڑے ہوئے تھے، خصوصاً اوورسیز پاکستانیز نے تو صرف اور صرف اِس ملک کی بھلائی اور بہتری کے لیے اُن کا ساتھ دیا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت یہ سمجھتی تھی خان صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی جس کے بعد وہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھی اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یا سب کچھ ساتھ لے کر وطن واپس آجائیں گے، ممکن ہے اگلے ایک دوبرسوں میں واقعی یہ ”معجزہ“ ہوجائے، مگر جو کچھ گزشتہ آٹھ نو ماہ میں ہوا، جس جس طرح کی نااہلیوں اور نکمے پنوں کے مظاہرے کئے گئے، جِس جِس قسم کے جھوٹ بولے گئے، خصوصاً جس قسم کی مختلف شعبوں میں ٹیم متعارف کروائی گئی اُس سے مایوسی میں دِن بدن اضافہ ہی ہوا ہے، یوں محسوس ہورہا ہے پاکستان میں حکومت نام کی کوئی شہ موجود ہی نہیں ہے، ایک ”روبوٹ“ سا ہے جس کی چابی کسی اور کے ہاتھ میں ہے اور جس طرح اُسے کوئی چلاتا ہے وہ چلتا جاتا ہے، یہ درست ہے ستربرسوں کی گندگی سات برسوں میں بھی صاف نہیں ہوسکتی تھی، خان صاحب نے بالکل جھوٹ بولا تھا سو دِنوں میں وہ تبدیلی لے آئیں گے، اور اُن کے اس جھوٹ بولنے سے زیادہ بڑا جرم ہم نے اُن پر اعتماد کرکے کیا تھا، البتہ اِس میں ”سچ“ صرف یہ ہے سو دِنوں میں ”تبدیلی“ یہ آئی کہ بے شمار اداروں یا شعبوں میں خرابیاں مزید بڑھ گئی ہیں، اب اگلے تین برس تو خان صاحب کو اپنے گزشتہ آٹھ نوماہ کی خرابیاں یا گندگی دور کرنے میں ہی لگ جائیں گے۔ پچھلے حکمرانوں کا ڈالا ہوا گند صاف کرنے کا تو اُنہیں شاید وقت ہی نہیں ملے گا، ....جہاں تک ہمارا معاملہ ہے ہم تو اب بھی ” حق دوستی “ ہی ادا کررہے ہیں کہ اصل دوستی کسی دوست کو سیدھی راہ دکھانے ہی کا نام ہے، ملک کو ”مدینہ کی ریاست“ بنانے کے لیے سب سے پہلے آپ کو اپنی کابینہ ”پاک“ کرنی پڑے گی جس میں کچھ ایسے ارکان بھی شامل ہیں جس روز اس ملک میں اسلامی سزائیں نافذ ہو گئیں کسی کو کوڑے پڑیں گے تو کوئی ویسے ہی سنگسار کردیا جائے گا۔ ان سے چھٹکارا حاصل کریں پھر دیکھیں اللہ آپ کے ہرکام میں کیسے برکت ڈالتا ہے !!


ای پیپر