Photo Credit INP

ڈیل یا کچھ اور ۔۔۔؟
18 مئی 2018 (22:13) 2018-05-18

لاہور :مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف مشروط طور پر اسٹیبلشمنٹ کے عناصر کیخلاف تحمل سے کام لینے پر رضامند ہیں اور شرط یہ ہے کہ وہ اپنی پراکسیز کو ماحول خراب کرنے سے باز رکھیں۔


میڈیا رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی دباﺅ میں آئیں گے اور نہ ہی جمہوریت کی بالادستی کے حوالے سے اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹنے کیلئے خوفزدہ ہوں گے۔

پنجاب ہاﺅس میں نواز شریف کی اپنے قریبی ساتھیوں بشمول وزیراعظم شاہد عباسی اور مسلم لیگ (ن) کے چیف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران آئندہ انتخابات اور چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی حکمت عملی تشکیل دی گئی۔ الیکشن کمیشن کو دو کی بجائے تین ماہ دینے کیلئے ایک دن قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ملک اور جمہوریت کے مفاد کیلئے جلد الیکشن ہونا چاہئیں۔


ای پیپر