’’گھر واپسی‘‘ تحریک اور ممبئی حملے آرایس ایس کے کارنامے
18 May 2018 2018-05-18

بھارت کی مسلم ،دلت اورسکھ اقلیت کے راہنما آر ایس ایس کی حکمت عملی پربرہم ہیں۔ آر ایس ایس جس کا مقصد’ ہندوتوا ‘ کے فروغ کے ذریعے بھارت میں ہندوؤں کا تسلط بڑھانا اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی نسل کشی ہے۔ اب توسکھ برادری بہ بانگ دہل احتجاج کر رہی ہے کہ نریندرا مودی کے دور میں انہیں کچلنے کے مذموم حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، آسٹریلیا اور کینیڈا میں مقیم سکھ برادری کے راہنما ؤں کا متفقہ مؤقف ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں آر ایس ایس کے نمائندہ اور ہندوتوا کے علم بردار نریندرا مودی اقلیتوں کی نسل کشی اور را کے ذریعے پاکستان میں دراندازی کی آگ بھڑکانے کے پلان کا آرکیٹیکٹ ہے جب کہ را کے بانیوں میں سے ایک اجیت ڈول اس کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ مودی حکومت ہمسایہ ممالک میں بالخصوص پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے را کے تخریب کار عناصر کو ہمہ جہتی اسلحی اور مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔نیویارک میں مقیم سکھ کمیونٹی کے رہنماؤں گْلدیپ سنگھ، چرن سنگھ م، بابا مکھن سنگھ ، ہرجیت سنگھ نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ ہندوستان ایک دہشت گرد ملک ہے اس ملک کی خفیہ ایجنسی راء اپنے ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہے ، بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم داعش کے خفیہ طور پر راء کے ساتھ تعلقات ہیں‘۔

12اپریل 2018ء کو امریکا میں مقیم ہزاروں سکھوں نے خالصتان کے قیام کے لیے نیو یارک شہر میں بھرپور احتجاجی مارچ کیا اور زوردار نعرے لگاتے ہوئے بھارت میں اپنے اکثریتی علاقے پنجاب کی علیحدگی اور سکھوں کے بطور قوم خود مختار علیحدہ ملک خالصتان قائم کئے جانے کا مطالبہ کیا۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میڈیسن سکوائر میں زرد، نارنجی اور پیلی روایتی پگڑیاں پہنے ہزاروں سکھوں نے اپنے ثقافتی رقص، موسیقی اور آرائشی فلوٹس کے ہمراہ مارچ کیا۔ سکھ رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’سکھوں کو بطور قوم تسلیم کرتے ہوئے ان کے اکثریتی علاقے پنجاب کو بھارت سے الگ کر کے خود مختار علیحدہ ملک خالصتان قائم کیا جائے‘۔امریکا میں مقیم سکھوں کے کوآرڈینیٹر گردیو سنگھ کانگ نے کہا کہ ’سکھ اب علیحدہ وطن کے قیام کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور بھارتی پنجاب کی آزادی کی یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ سکھوں کا علیحدہ ملک قائم نہیں ہو جاتا‘۔خالصتان بارے بین الاقوامی مہم چلانے والی سکھوں کی تنظیم ایس ایف جے کے لیگل ایڈوائزر گور پتوانت سنگھ نے کہا ہے کہ’ حق خود ارادیت کے حصول کے لیے سکھوں کی رائے لینے کے سلسلے میں 2020ء میں ریفرنڈم منعقد کروائیں گے، امید ہے کہ سکھ عالمی طاقتوں کی حمایت اور تعاون سے پرامن اور جمہوری طریقے سے بھارت سے آزادی حاصل کر کے خالصتان قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے‘۔اس موقع پر لندن میں سکھوں کے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے سی این آئی کی رپورٹر شہلا گل سے گفتگو کرتے ہوئے خالصتان میں سکھوں کے ساتھ اور کشمیر میں کشمیریوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے بارے میں بتایا کہ انڈین آرمی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آخری حدیں بھی کراس کر چکی ہے جس کی طرف دنیا کے منصفوں کی توجہ کے طلبگار ہیں‘۔

مودی حکومت کی سرپرستی میں’’ گھر واپسی‘‘ تحریک کے ذریعے سکھوں کو ہندوتوا کی جانب مائل کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف عیسائیوں اور مسلمانوں کو ان کے ’’اصل مذہب‘‘ پر لایا جا رہا ہے۔ مودی کے دور حکومت میں اس تحریک کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے ’’گروؤں‘‘ کو چاہئے کو وہ ’’بلند بانگ‘‘ اور’’ تابناک بھارت‘‘ میں اس قدر بڑے پیمانے پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کا جائزہ لیں اور ان تمام ’’سماجی فلاحی‘‘ تنظیموں پر پابندی عائد کریں جو آر ایس ایس کی پر تشدد سرگرمیوں کو پروان چڑھا رہی ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کی طرح بیرون ملک مقیم بھارت نژاد سکھ بھی بھارت کے یومِ آزادی کو یوم سیاہ

کی حیثیت سے مناتے ہیں۔یاد رہے کہ 15 اگست 2017ء کو بھی دنیا بھر کے سکھوں نے اس روز ہندوستان کے یوم آزادی کی تمام تقریبات کا بائیکاٹ کرنے کے علاوہ پنجاب کو خالصتان بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ’ 15 اگست ہندو انتہا پسند قوم کا آزادی کا دن تو ہو سکتا ہے لیکن سکھوں کا نہیں ، سکھ قوم ہندوستان سے اپنی آزادی حاصل کر کے دم لیں گے،سکھ ہندوستان سے اپنی آزادی چھین لیں گے اور خالصتان ضرور معرض وجود میں آ ئے گا، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی غنڈے کشمیریوں پر ناحق ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ، ہم کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں،۔۔۔سکھ کمیونٹی کے رہنما دلبیر سنگھ نے کہا کہ’ 15 اگست کو ہم ایک لاکھ سکھوں کے دستخطوں پر مشتمل ایک پٹیشن امریکی صد کو بھیج رہے ہیں جس میں ہم امریکی حکام سے درخواست کریں گے کہ وہ بھارت کے خلاف ہماری آزادی کی تحریک کی حمایت کریں،ہم دنیا پر واضح کر دیں گے کہ ہندوستان میں ہندو غنڈے اقلیتوں کے ساتھ ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، امریکہ سمیت خطے کے دیگر ممالک سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سکھوں کی آزادی کے لئے ہماری مدد کریں اور ہمارے اوپر ہونے والے ہندو راشٹریہ کی جانب سے مظالم کے خلاف آواز بلند کریں۔

نوبت بایں جا رسید کہ 10جنوری 2018ء کوسکھوں کے اعلیٰ ترین مذہبی ادارے اکال تخت نے امریکا ، برطانیہ اورکینیڈا میں گردوارو ں کی انتظامیہ کمیٹیوں کی طرف سے بھارت کے سرکاری حکام کے گردواروں میں داخلہ پر پابندی کو درست قرار دیا تھا۔سکھوں کے اس فیصلے سے بھارت کے حکومتی اہلکار سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ اکال تخت کے ایک اعلیٰ عہدیدار جھتے دارار گیانی گربچن سنگھ نے امریکا، برطانیہ اور کینیڈا میں واقع گردواروں کی منتظمہ کمیٹیوں کی طرف سے بھارتی حکام کے گردواروں میں داخلے پر پابندی کودرست قرار دیتے ہوئے کہا، ’’جہاں تک اس طرح کی پابندی کا سوال ہے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ گردوارہ منیجنگ کمیٹیوں کا اختیار ہے کہ وہ کسی کو گردواروں کے اندر بولنے کی اجازت دیں یا نہ دیں، گردوارہ کی انتظامیہ کو اس طرح کا فیصلہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے، کوئی بھی کسی مذہب کے معاملات میں مداخلت کو پسند نہیں کرتا‘‘۔سکھوں کے اعلیٰ ترین مذہبی ادارے اکال تخت کے رہنما نے بھارتی اہلکاروں کے گردواروں میں داخلے پر پابندی کے جواز کی تائید کرتے ہوئے کہا، ’’سکھ یہ محسوس کرتے ہیں کہ1984 کے سکھ مخالف فسادات، آپریشن بلیو سٹار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے دیگر معاملات میں بھارت میں سکھوں کو اب تک انصاف نہیں ملا ہے‘‘۔ خیال رہے کہ دہلی سے شائع ہونے والے ایک قومی روزنامے کے مطابق امریکا میں سکھوں کی نمائندہ تنظیم سکھ کوآرڈی نیشن کمیٹی آف ایسٹ کوسٹ اور امریکی گردوارہ پربندھک کمیٹی نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے امریکا میں96 گردواروں میں کسی بھی بھارتی حکومتی افسر کے داخل ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے ۔ امریکی گردوارہ پربندھک کمیٹی کی دلیل ہے کہ جون 1984میں امرت سر کے گولڈن ٹمپل سمیت دیگر گردواوں میں ہوئی فوجی کارروائی کے لیے بھارتی افسران بھی ذمہ دار تھے، ان افسران کی وجہ سے سکھوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ،جو بھی بھارتی افسر اس پابندی کی خلاف ورزی کرکے گردواروں میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی،۔ دیگر یورپی ملکوں میں بھی اسی طرح کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ زیر غور ہے،نیز انتہا پسند ہندوؤں کی مربی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ( آرایس ایس) اور شدت پسند ہندو تنظیم شیو سینا کے اراکین پر پابندی عائد کرنے پر بھی غور کیا جائے گا ‘‘۔واقفان حقائق جانتے ہیں کہ گردوارہ منتظمہ کمیٹیوں نے اس سے قبل کینیڈا اور برطانیہ میں بھی گردواروں میں بھارتی حکام کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ منتظمہ کمیٹیوں کا الزام ہے کہ بھارتی حکومتی اہلکار سکھوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایک طرف سکھ کمیونٹی کے عالمی رہنماء بر ملا بھارت کو ایک دہشت گرد ملک قرار دے رہے ہیں اور واشگاف الفاظ میں مغربی میڈیا کو بتا رہے ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی راء اپنے ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہے اور اس کے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم داعش سے تعلقات ہیں‘۔۔۔ اور ۔۔۔دوسری طرف نا اہل نواز شریف پاکستان پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزم دھر رہا ہے ۔ حالانکہ یہ سب بھارتی انتہاپسند تنظیم آرایس ایس اور را کا کیا دھرا ہے۔ اس کے انٹرویو سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بن چکا ہے۔ اس زعم میں وہ سمجھتا ہے کہ عوام نے اسے مسترد بھی کردیا تو بھارت اس کے انٹرویو سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر چاند ماری شروع کردے گا اور سی آئی اے، را، این ڈی ایس کے گماشتے اسے عوامی غیظ و غضب سے بچانے کے لیے بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کا طولانی سلسلہ شروع کردیں گے ۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت یہ ہے کہ بھارتی دفاعی تجزیہ کار بھی ٹی وی چینلز پر دہائی دے رہے ہیں کہ’ نواز شریف کی سیاست ختم نہیں ہونا چاہیے کہ نواز شریف پر بھارت کی بھاری انویسٹمنٹ ہوئی ہے‘۔3بار نا اہل ہونے کے باوجود نواز شریف نے پنجابی فلموں کے مشہور کردار مولا جٹ کی طرح عدلیہ اور پاک افواج سربراہوں کو تا دم تحریر للکارنے کو اپنا شیوہ و شعار بنا رکھا ہے۔ جوش خطابت میں وہ صبر اور توازن کا دامن ہاتھ سے کھو بیٹھتے ہیں۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ ایک پرانے سیاست کار کو ہمیشہ تہذیب اور شائستگی کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔بسا اوقات وہ غیر شائستہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اس ملک کے سب سے بڑے صوبے کے2بار وزیر اعلیٰ اور 3 بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔جمہوری ممالک میں بدترین سیاسی مخالف کے عزت و احترام کو بھی انتہائی اہمیت دی جاتی ہے، وہاں کسی راہ چلتے شخص سے بدتہذیبی اور بدکلامی بھی بہت بڑا جرم ہے کہاں یہ کہ سابق وزیر اعظم نام لے کر ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس اور قومی سلامتی کے محافظ ادارے کو مورد مطاعن بنا رہا ہے۔


ای پیپر