امن و امان کا ایجنڈا اور پانی

18 مئی 2018

سہیل سانگی

سندھ کے اخبارات نے پانی کی شدید قلت اور امن و امان کو زیادہ موضوع بنایا ہے۔ صوبے میں امن و امان اور پولیس کارکردگی کے بارے میں سوالات اٹھائے جار ہے ہیں۔ اس موضوع پر روزنامہ سندھ ایکسپریس اور روزنامہ کاوش نے سخت الفاظ میں اداریے لکھے ہیں۔ روزنامہ ’’سندھ ایکسپریس‘‘ نے شکارپور ضلع کے گاؤں سلارو کے واقعہ کو موضوع بنایا ہے جہاں پولیس نے دو بھائیوں کو پکڑنے کے بعد قتل کردیا۔ ’’ امن و امان سندھ کے حکمرانوں کا انتظامی ایجنڈا نہیں‘‘ کے عنوان سے’’ روز نامہ کاوش ‘‘ لکھتا ہے کہ قانون کی گمشدگی کی بات حکمرانوں کے لئے برہمی کا باعث بن گئی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ۔ لوگ اپنے فیصلے خود کرنے لگے ہیں۔ ایک دوسرے ساتھ گولی کی بات کرنے لگے ہیں۔ گاؤں پر حملہ کر کے ایک د وسرے کے بندے مارے جارہے ہیں ۔ راکٹ لانچر اور دوسرے بھاری ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں۔ یہ جنگ و جدل کسی وحشی اور قدیم دور کا منظر پیش کر رہی ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب ریاست کا وجود نہ تھا، کوئی قانون نہ تھا، ایک قبیلہ
دوسرے پر حملہ آور ہو کر ان کے بندے مارتا تھا، لوٹ مار کرتا تھا۔ آج کی صورت حال کیا اس زمانے سے مختلف ہے؟ آج بھی نہ حکومت کی عملداری نظر آتی ہے، نہ کوئی قانون کا کوئی سراغ ملتا ہے۔ قانون کی حکمرانی ایک مفروضہ بنی ہوئی ہے۔ خون ریزی اتنی اور برادریوں کے جھگڑے اتنے ہیں کہ کسی غیر دشمن کی ضرورت نہیں۔ زمانوں سے سندھ کسی خیر کی خبر کے لئے ترس گیا ہے۔ گزشتہ دنوں تیغانی اور بجارانی برادریوں کے درمیان ہونے والی خونریزی سندھ میں امن و امان کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ تیغانی اور بجارانی برادریوں کے درمیان جاری تنازع پر تیغانی برادری کے پچیس تیس مسلح افراد نے گاؤں حاجی مہران خان بجارانی پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور راکٹ لانچرز بھی استعمال کئے۔ جس میں تین افراد مارے گئے جبکہ تیغانی برادری کے تین افراد کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
شمالی سندھ کے نصف درجن اضلاع میں برادری جھگڑوں کی آگ بھڑک رہی ہے۔ جیسے عرب کے دور جہالت میں قبائل کے جھگڑے نسل در نسل چلتے رہتے تھے، سندھ میں بھی آج صورت حال اس سے مختلف نہیں۔ یہاں نہ قانون نظر آتا ہے اور نہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار۔ سندھ کا امن و امان حکمرانوں کے انتظامی ایجنڈا کا حصہ نہیں لگتا۔ جب کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، حکمران اس کا نوٹس لے کر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کام صرف نوٹس ہی لینا ہے۔ اگر نوٹس لینے پر نوبل انعام ہوتا تو یقیناًسندھ کے حکمرانون کو ملتا۔ جہاں تک پولیس کے کردار کی بات ہے، قوم کے ٹیکس پر پلنے والی اس نااہل نفری سے عوام کو نجات دلانے کی ضرورت ہے۔ سندھ میں آج کل اچھی شہرت رکھنے والے افسر پولیس سربراہ ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ وہ بھی پولیس کے کردار میں رتی برابر بھی اصلاح نہیں لاسکے ہیں۔ حکمرانوں اور انتظامیہ کا نوٹس اور کمیٹی کی تشکیل پر زور ہے۔ سندھ میں پولیس کی احسن کارکردگی کی ایک بھی مثال موجود نہیں جس کا برسبیل تذکرہ کیا جاسکے۔ نوٹس لینا اور کمیٹیوں کی تشکیل نمائشی ہیں۔ ان کی کوئی عملی شکل سامنے نہیں آتی۔ جب امیشا خاصخیلی حیدرآباد سے بازیاب ہوئی، تو کئی سوالات اٹھے۔ اس لڑکی کو حیدر آباد کس نے پہنچایا؟ اور وہ اتنا عرصہ کہاں تھی؟ اس طرح کے سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لئے آئی جی سندھ پولیس نے آئی ایس پی میرپورخاص کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی، جس کو تین روز کے اندر اس معمے کو سلجھانا تھا۔ اس کمیٹی کا کیا ہوا؟ کچھ پتا نہیں۔ کیا یہ کمیٹی نمائشی تھی؟ کیا ماتحت پولیس افسران آئی جی سندھ کی ہدایات نہیں مانتی؟ یا کسی معاملے کی پردہ داری کی جارہی ہے؟
میڈیا مسلسل نشاندہی کرتا رہا ہے کہ برادریوں کے تنازعات اور تصادم پشت پناہی اور اسلحہ کی آکسیجن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، ان جھگڑوں کی آگ پر تیل ڈال کر بھڑکانے کا کام تب تک ہوتا رہے گا جب تک اس ’’اشرافیہ‘‘ اور مجرم سپاہ کو گرفت میں نہیں لایا جائے گا۔ تصادموں کی زد میں آئے ہوئے اضلاع میں لوگوں کو غیر مسلح نہیں کیا جائے گا۔ اسلحہ کی رسد کے راستے بند نہیں کئے جائیں گے۔ تب تک سندھ میں قیام امن ممکن نہیں۔
پانی کی قلت صوبے بھر میں شدت اختیار کر رہی ہے۔ میڈیا خواہ رائے عامہ کا خیال ہے کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر پانی کی قلت کا بدترین شکار سندھ ہو رہا ہے۔ اخبارات لکھتے ہیں کہ اعداد و شمار کی بازیگری میں سندھ کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ ملک میں 48 فیصد پانی کی قلت بتائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے زراعت کو ضرب کاری لگے گی۔ ارسا میں ایسے ماہرین بیٹھے ہیں جو پانی کی موجودگی کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ارسا کی مشاورتی کمیٹی نے قوم کو یہ نوید دی ہے کہ پانی کی صورت حال میں بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ پنجاب نے تونسہ سے لے کر کوٹری تک ایک ایم ایف پانی کے ضیاع کی شکایت کی جس پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ پانی کی کمی اپنی جگہ پر ہے لیکن اس کی چوری اور تقسیم کو ریگولیٹ صحیح طریقے سے نہ کرنے کی وجہ سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ سندھ میں صورت حال اس وجہ سے بھی خراب ہے کہ زرعی مقاصد دور کی بات پینے کے لئے بھی پانی دستیاب نہیں۔ سندھ کو صرف اعدادوشمار کی شعبدہ بازی سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ پانی کی تقسیم 1991ء کے معاہدے کے مطابق نہیں کی جارہی۔ ایک ناانصافی ہے جو گزشتہ چند عشروں سے جاری ہے۔ سندھ کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ اس کے حصے کا پانی گدو بیراج
تک پہنچایا جائے۔ یہ شکایات عام ہیں کہ سندھ کے حصے کا پانی گدو تک پہنچنے سے پہلے چوری کیا جاتا ہے۔ اب ارسا میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ تونسہ سے کوٹری تک ملین ایکڑ فٹ پانی ضایع ہو رہا ہے۔ اس شکایت کے بعد بیراجوں کے پاس پانی کا بہاؤ ناپنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ مشرف دور میں بیراجوں کے پاس پانی کی ناپ کے لئے مہنگے داموں ٹیلی میٹری سسٹم نصب کیا گیا تھا۔ واپڈاکو ذمہ داری دی گئی۔ لیکن یہ سسٹم خراب ہو گیا۔ جس کو نہ ٹھیک سے نصب کیا گیا اور نہ ہی اس کی دیکھ بھال کی گئی۔ دراصل نیت کی خرابی کی وجہ سے سسٹم خراب ہی رہا۔ سندھ کی حکمران جماعت نے حیدرآباد میں ہٹری بائی پاس پر پانی کی قلت کے خلاف دھرنا دیا۔ بلاشبہ سندھ میں پانی کی قلت اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے لئے بڑی حد تک وفاق ذمہ دار ہے۔ ان دو چیزوں کی وجہ سے سندھ کے کاروبار، زراعت اور معیشت کو دھچکا لگا ہے۔ لیکن سندھ کے حکمرانوں سے بھی یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے حصے کا کتنا کام کیا ہے؟ پانی کی چوری روکنے اور تقسیم موثر طور پر کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟

مزیدخبریں