نواز شریف اور ن لیگ وقت کی قدر نہ کر سکے
18 مئی 2018 2018-05-18

وقت بہت ظالم ہے۔ ایک بار گزر جائے تو پھر اس کا پلٹنا محال ہے۔ 1985 ء میں جناب نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے اور ڈکٹیٹر ضیاء الحق ملک کے صدر تھے۔ ضیاء الحق صرف نوے دن کی مدت کے لیے الیکشن کروانے آئے اور تقریباً 11 برس بعد ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ وہ ڈکٹیٹر تھے جنہوں نے صرف اس خوف سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دلائی تھی کہ وہ ضیاء الحق کو تو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیتے۔ تو بات ہو رہی تھی وقت کی ۔۔۔ نواز شریف کو اس ملک کی حکمرانی اور سیاست کرتے پینتیس سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ اب تو خیر سے پچھلے بیس سالوں سے انکا پورا خاندان سیاست میں ہے۔ پینتیس سال ایک طویل مدت ہے۔ ایک بچہ پل بڑھ کر جوان ہو بچوں کا باپ بھی بن جاتا ہے۔ مگر ان پینتیس برسوں میں نواز شریف صاحب اور ان کی حکومت نہ ملک کو سنبھال سکی اور نہ ہی خود
survive کر سکی۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نواز حکومت میں مفادات حاصل کرتے رہے۔ اب جو لوگ بھی ن لیگ کو چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعتوں کا رخ کر گئے ہیں۔ انہیں نواز شریف یا نون لیگ سے کوئی گلہ نہیں۔ انہیں صرف مستقبل میں ن لیگ سے اپنے مقاصد پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے ۔ کیوں؟ اس لیے کہ ن لیگ اب دباؤ اور غیر مقبولیت کا شکار ہے۔ نواز شریف کو نہ تو ملک سنوارنا آیا اور مہ ہی ملک کی تقدیر بدلی۔ نواز شریف کو نہ ہی مخالفوں کا منہ بند کرنا آیا اور نہ ہی ڈھنگ کے ثبوت پیش کرنے آئے۔ کیا نواز شریف کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ وقت سدا ایک سا نہیں رہتا؟ قارئین آپ کو علم ہو گا کہ۔۔۔ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکنن میکننزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا،یہ جہاز 17 اکتوبر ، 1857 ء کو رنگون پہنچا،شاہی خاندان کے 35 مرد و خواتین بھی تاج دار ہند کے ہمراہ تھے۔۔۔کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارچ تھا،بندرگاہ پہنچا،بادشاہ اور اس کے حواریوں کو وصول کیا،رسید لکھ کر دی اور دنیا کی تیسری بڑی سلطنت کے آخری فرمانروا کو لے کر رہائش گاہ پر آگیا۔نیلسن پریشان تھا،بہادر شاہ ظفر قیدی سہی ،تھا تو بادشاہ۔ اس کا ضمیر گوارا نہیں کر رہا تھا ،بیمار اور بوڑھے بادشاہ کو جیل میں پھینک دے، اس نے اپنے گھر کا گیراج خالی کرایا اور تیموری لہو کے آخری چشم وچراغ جلاوطن تاج دار ہند، 83 سالہ، بہادر شاہ ظفر کو وہاں قید کر دیا۔بادشاہ 17 اکتوبر، 1858ء سے 7 نومبر، 1862ء چار سال وہاں پڑا رہا۔مشہور زمانہ غزل
لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
اور
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں
قید خانے میں لکھیں.یہ 7 نومبر ،1862ء خنک دن تھا، بد نصیب بادشاہ کی خادمہ نے شدید پریشانی میں نیلسن کے دروازے پر دستک دی،اردلی نے برمی زبان میں اس بدتمیزی کی وجہ پوچھی خادمہ نے ٹوٹی پھوٹی برمی میں جواب دیا،ظل سبحانی کا سانس اکھڑ رہا ہے۔ صاحب کتے کو کنگھی کر رہے ہیں ،میں ان کو ڈسٹرب نہیں کر سکتا،خادمہ نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا،آواز نیلسن تک پہنچی،غصے میں باہر نکلا،خادمہ نیلسن کے پاؤں میں گر گئی ،وہ مرتے ہوئے بادشاہ کے لیے کھڑکی کھلوانا چاہتی تھی، بادشاہ موت سے پہلے بس ایک سانس آزاد ہوا میں لینا چاہتا تھا۔نیلسن نے اپنا پسٹل اٹھایا ،گارڈز کو لیا ،گیراج میں داخل ہو گیا۔
عجب بدبو ،موت کا سکوت اور اندھیرا تھا اندر، اردلی لیمپ لے کر سرہانے کھڑا ہو گیا،شاہ کا آدھا کمبل بستر پر اور آدھا فرش پر پڑا تھا،گردن ڈھلکی ہوئی اور خشک اور زرد ہونٹوں پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں، چہرے پر بے چارگی اور غریب الوطنی کی دردناک داستان رقم تھی، یہ کسی بادشاہ کا چہرہ نہیں تھا،دنیا کے سب سے بڑے سوالی کا چہرہ تھاجس پر بس ایک آزاد سانس کی اپیل تحریر تھی،بادشاہ مر چکا تھا۔لواحقین بلائے گئے، شہزادہ جواں بخت اور اس کا استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی،،، جس وقت شاہ کو سرکاری رہائش گاہ کے احاطے میں دفن کیا جارہا تھا، حافظ ابراہیم دہلوی کا ضبط جواب دے گیا،اس کے سامنے 30 ستمبر 1837 ء کے مناظر آگئے،جب دہلی کے لال قلعے میں بہادر شاہ ظفر کو
تاج بادشاہت پہنایا گیا تھا ،جشن سات دن جاری رہا تھا۔۔۔ اس نے جوتے اتارے اور قبر کے سرہانے سورہ توبہ کی تلاوت شروع کر دی۔۔۔ وہ رو رہا تھا زار وقطار اور قرآن پڑھتا جاتا تھا۔۔۔ نیلسن برداشت نہیں کر پایا اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے،اسنے غریب الوطن قبر کو سلیوٹ کیا اور اس آخری سلیوٹ کے ساتھ ہی مغلیہ سلطنت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔۔۔اگر آپ کبھی رنگون جائیں،تو آپ کو ڈیگن ٹاؤن شپ کی کچی گلیوں کی بدبو دار جھگیوں میں آج بھی بہادر شاہ ظفر کی نسل کے کچھ لوگ ملیں گے جو سرکار کے وظیفے پر پل رہے ہیں۔۔۔ اس کسمپرسی کے باوجود خود کو شہزادے اور شہزادیاں کہتے ہیں۔۔۔ لوگوں کو عہد رفتہ کی داستانیں سناتے ہیں اور لوگ قہقہے لگا کر رنگون کی گلیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔۔۔یہ شاہ ہند کی سیاسی غلطیاں تھیں،اپنے گرد نااہل اور خوشامدی لوگوں کا لشکر جمع کر لیا
تھا،شاہ کے 2 بیٹوں نے سلطنت کو تقسیم کر ڈالا تھا، مہنگائی نے عوام کی حالت خستہ کر ڈالی تھی ،ٹیکسوں میں اضافہ، حتی کہ شہزادوں نے کبوتر کے دانے پر بھی ٹیکس لگا رکھا تھا، طوائفوں کی کمائی کا ایک حصہ شہزادوں کی جیب میں جاتا تھا۔۔۔شاہی گھرانے کے افراد برملا قتل کر ڈالتے تھے ،شاہ سے لوگ بے زار ہو گئے تھے، سر عام گالیاں دیتے اور کوتوال چپ چاپ پاس سے گزر جاتے، انگریز مضبوط ہوتے جا رہے تھے۔فوج قیادت سے محروم تھی۔۔۔ ہتھیار ناکارہ ہو چکے تھے۔۔۔ انگریز سے جنگ کے ہارے جانے میں سب سے بڑی وجہ یہی سیاسی بے تدبیری تھی، اور انگریز سے تھکی ہاری جنگ کا نتیجہ،شاہ کے سامنے سارا خاندان ذبح کر دیا گیا، شہزادوں کے کٹے ہوئے سر قیمتی ریشمی کپڑے میں ڈھانپ کر تحفے میں پیش کیے ، اس انگریز نے، جس کے جھانسوں میں آکر مقامی باشندوں کے ساتھ زیادتیاں ہوتیں رہیں ۔۔۔ بادشاہ خود جلاوطن ہو گیا۔۔۔ اور آج بادشاہ ہندوستان ، ظل سبحانی ، بہادر شاہ ظفر کی نسل عبرت کا کشکول بن کر تاریخ کے چوک میں بھیک مانگتی ہے، جب یہ لوگ شہر میں نکلتے ہیں تو ان کے چہروں پر صاف لکھا ہوتا ہے ’’جو بادشاہ اپنی سلطنت، اپنے مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کرتے، وہ عوام کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں، ان کی اولادیں اس طرح گلیوں میں خوار ہوتیں ہیں۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کویہ حقیقت سمجھ نہیں آتی ، یہ خود کوبہادر شاہ ظفر سے بڑا بادشاہ سمجھتے ہیں۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
قارئین میں جو کہنا چاہتا ہوں میرے بات بخوبی سمجھ گئے ہوں گے۔


ای پیپر