رحمان کا رمضان
18 مئی 2018 2018-05-18

ایک دوست کی دعوت پر اِفطارپارٹی میں شرکت کی،یہ اِفطارپارٹی مع میزبان بارہ سے پندرہ روزے داروں پرمشتمل تھی،اِفطارپارٹی کاانتظام تیس بائی پچیس مربع فٹ کی کشادہ بیٹھک میں کیا گیا تھا، شاندار افطاری تھی ،وِنڈواے سی کی ٹھنڈک نے سردی کا احساس دلائے رکھا،میزبان دوست کا تعلق سیاسی اور تاجربرادری سے تھا۔ اِفطاری کے بعد حالاتِ حاضرہ اورذخیرہ اندوزی پر ہلکی پھلکی گفتگو ہوئی،حکومت بجلی کا بحران حل نہیں کرسکتی،موجودہ مہنگائی بھی حکومت سے کنٹرول نہیں ہوسکی، پہلی سحری اوراِفطاری ہی لوڈشیڈنگ کی نذر ہوگئی، گفتگو تھوڑی سی طویل ہو گئی میرے ساتھ بیٹھے دوست نے گفتگومیں خلل ڈالتے ہوئے کہا جناب بجلی کا بحران بھی حل ہوسکتا ہے اور خودساختہ موجودہ مہنگائی پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے اگرہم خودٹھیک ہوجائیں توسارے بحران پل بھر میں ختم ہوسکتے ہیں ،بس پہلے اپنی ذات میں تبدیلی لائی جائے توان بحرانوں کی ایسی کی تیسی، بس پہلے خود انقلاب
کی پہلی اینٹ بننا پڑے گا، جب تک ہم خود عملی طور پر اپنی حالت بدلنے کا اِرادہ نہیں کریں گے ہم بدل نہیں سکتے۔اس بارے میں اِرشادِرَبّ ذوالجلال ہے،ہم اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک وہ خودبدلنے کا اِرادہ نہیں کرلیتی۔ اعلیٰ ظرف میزبان دوست نے بھی تجسس اورسوالیہ نظروں سے دوست کی طرف آنکھیں سکیڑ تے ہوئے پوچھا ۔۔۔ بھئی وہ کیسے؟دوست نے میزبان کے وِنڈواے سی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ ایسے کہ میں اورآپ بجلی چوری کرنا چھوڑدیں ،اگر بجلی چوری کرنا نہیں چھوڑسکتے توکم ازکم رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ہی تھوڑی سی شرم کرلیں،مہنگائی کے طوفان کوروکنے کے لئے بھی بہت خوب صورت جواب دیتے ہوئے یوں گویا ہوئے ہم لوگ سال کے بارہ مہینے جھوٹ بولتے ہیں،ایک دوسرے کودھوکہ دیتے ہیں،صرف ایک ماہ ان لغوکاموں سے پرہیزکرکے رحمان کے رمضان میں پرہیزگار بن سکتے ہیں ،دکاندار کم مارجن پر نفع لے کر بھی روزہ دار کوریلیف دے سکتے ہیں، لیکن ہم روزہ داروں کو ریلیف دینے کے بجائے تکلیف دینے پرخوش ہیں کیا ہم اپنے رو زے داربھائیوں کو رحمان کے مہینے میں بھی ریلیف نہیں دے سکتے،ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ، یہ غیرمسلم رحمان کے رمضان میں 80روپے والی بوتل65روپے میں فروخت کرتے ہیں اوراِدھر ہم ہیں کہ 120روپے کلو والی کھجور ماہ رمضان میں بھی 300 روپے بیچتے ہیں،روزے دار ،روزے دار کولوٹ رہا ہے۔ رحمان کے رمضان سے پہلے کیلے ساٹھ روپے فی درجن ہوتے ہیں لیکن رحمان کے رمضان کے پہلے ہی روزیہی کیلے ایک سوبیس روپے فی درجن ہو گئے ہوتے ہیں یہ رحمان کا رمضان مہمان مہینہ ہے اوراس میں بھی ہم ذخیرہ اندوزی اوربجلی چوری کرنے سے بھی بازنہیں آتے۔ ان باتوں کو سن کر میزبان دوست معنی خیز انداز میں مسکراتا رہااورپھریوں گویا ہوا۔’’ویسے مولوی کہتا توسچ ہی ہے۔لیکن اگر تم مولوی حضرات مساجد میں جتنی توانائی چندہ مانگنے پرلگاتے ہواگراتنی توانائی ماہِ رمضان میں ذخیرہ اندوزی اورمہنگائی کے خلاف خرچ کرنے پرلگا دو تویقین کرویہ آپ کا بہت بڑاجہاد ہوگا اور عوام پراحسانِ عظیم بھی ہوگا، یہ بات کہہ کرمیزبان دوست کھل کے مسکرایااورہم نے بھی اس کی مسکراہٹ کا جواب اثباتی مسکراہٹ کے ساتھ دیا،میں اپنے میزبان دوست کی بات سے سوفیصد اتفاق کرتا ہوں اور میں اپنے دوست حافظ صاحب کو بھی اچھی طرح سے جانتا ہوں ،حافظ صاحب حق گوئی کی باتوں کے سبب پانچ چھ مساجد سے ہجرت کر چکے ہیں یہ بھی حقیقت کی ایک مختصر سی تفسیر ہے کہ ہمارے تاجر نمازی مساجد میں ایسے ناصح حافظوں اور مولویوں کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرتے۔ دوسرے روزاِفطاری سے ایک گھنٹہ قبل بازار کے آخری چوک پر فروٹ چاٹ خریدنے والوں کا رش لگا ہواتھا کہ دونوجوان روزے دارآپس میں ایک دوسرے کو بے نقط اور برہنہ گالیاں دے رہے تھے، بس دونوں ایک دوسرے کو افطاری کے بعدتم سے نمٹ لوں گاالٹی میٹم دے کرچلے گئے، قارئین!یقین فرمائیں اس طرح کے واقعات رِحمان کے رَمضان میں اکثردیکھنے کو ملتے ہیں۔ کبھی سموسوں اورپکوڑوں کی دکانوں پر اورکبھی پھلوں کی ریڑھیوں اورکبھی دودھ دہی کی دکانوں پرہرطرف اسی طرح کی بدنظمیاں دیکھنے کوملتی ہیں، رحمان کا رمضان انسان کے لئے ایک ماہ کا بہترین ٹانک کورس ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کو پوری دیانتداری اور پرہیزگاری کے ساتھ مکمل کیا جائے رحمان کافرمان بھی پرہیزگاری کاہے کہ روزے تم پراس لئے فرض کئے گئے ہیں تاکہ تم متقی اورپرہیزگاربن سکو۔‘‘ مگر کتنے مسلمان ہیں جوپچاس اور ساٹھ سال سے رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں لیکن ان کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی نظرنہیں آتی،جوگناہ ان کی زندگی میں تھے وہ سالوں سال روزے رکھنے کے باوجود بھی جوں کے توں ہیں۔ اس کی وجہ سوائے اس کے اورکچھ نہیں کہ آج کل کے مسلمان روزے میں گناہ چھوڑنے کا قصدونیت ہی نہیں کرتے اورگناہوں سے اجتناب کے اہتمام کے ساتھ روزہ رکھتے ہی نہیں جوباطنی امراض سے
حصولِ شفاء کے لئے شرط لازم ہے،حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ تم ماہِ رمضان کے معاملے میں ڈرو کیونکہ جس طرح اس ماہ میں دیگرمہینوں کے مقابلے میں نیکیوں کاثواب بڑھا دیا جاتا ہے اسی طرح گناہوں کاحساب بھی کڑاہوتاہے۔ایسے لوگوں کا روزہ گوجمہور علماء کی رائے کے مطابق ذِمّہ سے سقوطِ فرض کا ذریعہ بن جائے گا مگر اس سے کوئی فضیلت اورثواب حاصل نہیں ہوگا،اس ضمن میں احادیث مبارکہ ہیں کہ جوشخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹے کردار وگفتار سے باز نہ آیا تواللہ تعالیٰ کواس کے بھوکا پیاسا رہنے سے کوئی غرض نہیں،جب کہ دوسری حدیث میں آپ ؐ کا فرمان ہے کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جن کے روزہ کا ثمرہ بھوکا رہنے کے سوا اورکچھ نہیں اوربہت سے شب بیدارایسے ہیں جن کے لئے شب بیداری کا بدلہ سوائے جاگنے کے اورکچھ نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں شانِ رمضان کی روح کوسمجھنے اورپرہیزگاری پرسچے دل سے عمل پیراہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


ای پیپر