فرقہ واریت کا جن
18 مئی 2018 2018-05-18

وہ سفر جو کہ عدم برداشت سے شروع ہوا، ممبر رسولﷺ پر بیٹھ کے گالم گلوچ اور مسلمانی و سنیت کے سرٹیفکٹ بانٹنے سے ہوتا ہوا سیاحی و جوتے پھینکنے ، اور اب گولی تک پہنچ گیا ۔ وہ سادہ لوح مسلمان جو کہ اولیاء اللہ کے ماننے والے اور عدم تشدد پر یقین رکھتے تھے ان میں نفرت اور تشدد کا بیج چند نام نہاد مولویوں نے بو ہی دیا.

ابھی پاکستان امپورٹڈ مسلکوں کی جنگ سے نکلا نہیں تھا کہ اسلام کے دشمنوں نے ایک اور فتنے لاکھڑا کیا۔

اس تمام صورتحال کا قصوروار ریاستی ادارے اور حکومتیں بھی ہیں جنکی کاہلی، عدم قابلیت اور ناکامی نے معاشرے میں عدم برداشت پیدا کیا جسے شیعہ و سنی اور کبھی مسلکی جنگ کے نام پر ہوا دی گئی. دوسروں کی لڑائی پاکستان میں لڑی جانے لگی. پیسہ و کفر کے فتوے باہر سے امپورٹ ہوئے اور ہمارا ملک ومعاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا.

حکومتوں نے سیاسی فوائد اور اداروں نے وقتی مفادات کی خاطر اس فتنہ کو ناسور بننے دیا اور پھر ہاتھوں کا باندھا منہ سے کھولنا پڑا.

اب بھی ہماری فوج بے شمار قربانیاں دے کر دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار ہے لیکن حکومتی عدم دلچسپی یا پھر کسی اور ایجنڈے کی وجہ سے فرقہ واریت کا جن مکمل طور پر بوتل میں بند نہیں کیا جاسکا. اور نہ ہی ان اسباب اور فرقہ پرستی کی جڑوں کا خاتمہ کیا گیا ، مدارس اب بھی غیر ملکی امداد اور ایجنڈے پر چل رہے ہیں، غیر ملکی براہ راست امداد کی بندش کے لیے اقدامات نہیں کئے گئے، مدارس کی رجسٹریشن اور نصاب کی ترتیب کا عمل مکمل نہیں ہوا، اور نہ ہی مسلکی مسائل اور دہشتگردی پر حکومتی سطح پر متبادل بیانیہ دیا اور پروموٹ کیا گیا.

ایسے میں حکومت نے ایک طے شدہ معاملے کو چھیڑ کر عوام کے مذہبی جذبات کا خون کیا۔ اور درپردہ متشدد عناصر کو استعمال کرکے سب سے پرامن فرقے میں سپاہ صحابہ کی طرح کی جماعت بنانے کی کوشش کی، عوام کے جذبات کو بھڑکا کر ایسے مولویوں کو ایندھن فراہم کیا جو کہ عوام میں کبھی کوئی قابل ذکر مقام نہ رکھتے تھے اور نہ ہی انکی مذہبی حوالے سے کوئی مسلمہ حیثیت تھی اب دوسروں کو گالی اور مسلمان و بریلویت کے سرٹیفکیٹ دے کر آج مولانا خادم حسین رضوی اور انکے ساتھیوں نے چند ہزار بھولے بھالے افراد کو اپنے گرد اکٹھا کرلیا ہے جو بات گورنر سلمان تاثیر سے شروع ہوئی تھی وہاں سے ہر طبقائے زندگی سے تعلق رکھنے والے قابل ذکر افراد کی بے عزتی اور گالم گلوچ سے ہوتے ہوئے، پرتشدد دھرنوں اور اس میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت تک پہنچ گئی۔ اب تو معاشرے میں یہ ماحول ہے کہ سیاست دان جلسوں میں اور صحافی ٹی وی و اخبارات میں ڈر کے مارے حقیقت بیان کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

کیونکہ ان افراد کا کوئی ایسا بیک گراؤنڈ نہیں تھا اور نہ اس قابل تھے اس لیے کچھ شہرت اور آپس میں ہی دست و گریباں ہوگئے ہیں اور سنگین قسم کے الزامات ایک دوسرے پر لگائے گئے ہیں جن کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ اور ایک قتل سے شروع ہونے والا سلسلہ اب تین پارٹیوں تک چلاگیا ہے اور سیاسی قوت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ جذبات کے ماحول کو ووٹ میں تبدیل کرکے بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابل بارگینگ پوزیشن حاصل کی جائے جیسا کہ ماضی میں بہت سی فرقہ وارانہ جماعتوں نے کیا اور وقتی طور پر فوائد بھی حاصل کیے۔

فرقہ پرستی کا جن جو کہ ماضی میں قابو سے باہر ہوگیا تھا اور اس میں دہشتگردی کے خلاف ایکشن کی وجہ سے کچھ کمی آئی تھی ایک بار پھر سراٹھاتا نظر آرہا ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے ورنہ ملک کے سب سے بڑے مسلک کے ماننے والے بھی اس کا شکار ہوجائیں گے اور اسکی مثال حالیہ چند واقعات دے بھی رہے ہیں چاہے یونیورسٹی کے پروفیسر کا قتل ہو یا جوتا و سیاہی پھینکنے کے واقعات ان کے پیچھے اسی آئیڈیالوجی کا ہاتھ ہے وزیر داخلہ پر ہونے والا حملہ اور مجرم کا بیان اور سامنے آنے والی ویڈیو ارباب اختیار کے جاگنے کے لیے کافی نہیں ؟ اپنے نظریہ کو نہ ماننے والے پر فتوے لگانے کا عمل اب رکنا چاہئے ورنہ یہ آگ ہمارے معاشرے کو جلادے گی۔

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)


عتیق الرحمن

منفرد نقطہ نظر رکھنے والے عتیق الرحمن روزنامہ نئی بات کے مستقل بلاگر ہیں 

ای پیپر