رمضان کی برکتیں اور رفیق حجام
18 مئی 2018 2018-05-18

اگلے روز ہم کٹنگ کرانے گئے تو دیکھا ، رفیق حجام کی دکان پر بھی خاصا رش تھا ۔ رمضان آتے ہی نجانے ہر طرف ایک عجیب بھیڑ اور ہاہا کار سی کیوںمچی نظر آتی ہے ،ہم اخبار لے کر دوسر ے باری کا انتظار کرنے والے گاہکوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ رفیق اور اسکے شاگرد اپنے کام میں مصروف تھے ۔ دکان کی خاموشی میں صرف رفیق کی آواز گونج رہی تھی ۔ اپنا کام کرتے ہوئے قینچی کی طرح وہ اپنی زبان بھی چلا رہا تھا۔ بال تراشتے ہوئے بظاہروہ اپنے گاہک سے مخاطب تھا لیکن مجھ سمیت سبھی گاہک اس کی دلچسپ گفتگو سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔وہ کہہ رہا تھا ” دیکھیں جی ! رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے اس مہینے میں ہر بندہ اللہ کی برکتوں اور رحمتوں سے فیض یاب ہوتا ہے ۔اب دیکھیں ناں ! خراب ،باسی گلے سڑے آلو،پالک ،ٹماٹر ،پیاز،سب کچھ بک جاتا ہے۔کسی سبزی فروش کی گلی سڑی سبزی نہیں بچتی بلکہ سموسوں پکوڑوںمیں کھپ جاتی ہے۔یہ سب رمضان کی برکتوں کا فیض ہے کہ سبزی فروش سے لے کر پرچون اور پھل فروش تک سب کا دھندا چمک اٹھتا ہے۔ اور تو اور گدا گروں کی بھی چاندی ہو جاتی ہے۔اگلے روز میرا ایک پرانا پٹھان گاہک لالہ رﺅف ٹرک بھر کے دوسرے شہروں سے بندے (بھکاری ) لایا ہے۔لالہ رﺅف ہمارے پاس ہی ڈاڑھی بنواتا ہے۔ رمضان کے چاند کا سب سے زیادہ انتظار اسے ہوتا ہے۔ خود تو نہیں بتاتا مگر اردگرد کے لوگ کہتے ہیں وہ چاند سے ایک روز پہلے اپنے بھکاری لاہور میں ’ ’ وبا “ کی طرح پھیلا دیتا ہے۔اگر ایک دن بھی روزہ آگے ہو جائے تو پریشان ہو جاتا ہے۔وہ عید کے چاند سے زیادہ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کا شوق رکھتا ہے۔اگلے روز چاند کا اعلان ہونے پر اس نے مفتی منیب کو جھولیاں بھر کے دعائیں دیںکہ ا س نے سعودی عرب والوں کے ساتھ روزہ رکھنے کا اعلان کیا ہے ورنہ تو ہر برس مفتی منیب کی بجائے وہ مولوی پوپلزئی کو دعائیں دیتا تھاکیونکہ پشاو ر میں بھی اس کا یہی دھندا ہے۔ رفیق حجام بتا رہا تھا کہ لالہ رﺅف تعویذ گنڈے پر بھی یقین رکھتا ہے۔اس سلسلے میں اس نے کئی لاٹری کے ٹکٹ بھی خرید رکھے ہیں۔سیاست دانوں کی طرح وہ بھی اپنے مفاد کے لےے مختلف پیروں ،فقیروں کے ڈیرے پر جاتا رہتا ہے۔جس طرح صدر زرداری نے ایوانِ صدر میں ایک پیر صاحب کو رکھا ہوا تھا،اس نے بھی اپنے مکان پر ایک عامل کو رکھا ہوا ہے۔صدر زرداری ہر روز کالے بکروں کا صدقہ دیتے تھے اور پیر صاحب کی دعاﺅں اور چلوں سے پانچ برس ایوان صدر میں براجمان رہے۔ میں نے تو یہ بھی سنا ہے جی کہ زرداری کے پیر صاحب نے عمران خان سے بھی رجوع کیا تھا مگر عمران تو اُن دنوں کسی اور چکر میں تھے۔انہوں نے گھر میں پیر رکھنے کی بجائے مرید ہونا زیادہ بہتر سمجھا۔اب تو ان کے گھر میں بھی دعائیں اور وظیفے جاری ہےں۔بقول مجیب الرحمن شامی یہ جو میاں نواز شریف عجیب و غریب بیان بازی میں مصروف ہیں، اِس کے پیچھے بھی عمران خان کے گھر سے عرش تک جاتی ہوئی دعاﺅں اور وظیفوں کے اثرات ہیں۔ رمضان میںتو عبادات میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔روزے کے ساتھ وظیفہ جات اور دعائیں دُونا اثر کرتی ہیں۔اگر یہی سلسہ جاری رہا تو مسلم لیگ اگلے الیکشن سے پہلے ہی ٹھس ہوجائے گی“۔ یہ سن کر شاید سر جھکائے گاہک نے کوئی بات کی تو رفیق بولا: سرکار میرا سیاست سے کیا تعلق میں تورمضان کی برکتوں پر بات کر رہا تھا کہ رمضان میں وطنِ عزیز منافع خوروں کی جنت بن جاتا ہے۔ہر شے کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں۔اوپر سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے۔ایک جسٹس صاحب کیا کیا کریں؟کس کس غلط کام کا نوٹس لیں۔مہنگائی ،ملاوٹ،رشوت،کرپشن کی روک تھام کے لیے نوٹس لیں یا حکومت کے کرنے و الے کاموں کو دیکھیں ۔ اور نظام ہے کہ اس کی کوئی ”کل“ سیدھی نہیں ہے۔ رفیق حجام میاں نواز شریف کے بیان پر بھی نالاں تھا۔کہنے لگا : ممبئی حملوں کے حوالے سے میاں نواز شریف کا بیان دینے کا یہ کون سا وقت تھا۔لیکن سر جی! عوام اتنے بھی” جھلے“ نہیں کہ انہیں یہ معلوم نہ ہو سکے کہ میاں نواز شریف اس وقت باغی یا مظلوم بننے کی کیوں کوشش کررہے ہیں؟وجہ صرف یہ ہے کہ انہیں کرپشن کے الزامات میں سزائیں ہونے کے امکانات روشن دکھائی دیتے ہیں۔اب تو ان کی پارٹی کے لوگ بھی تِتر بترہو رہے ہیں۔میاں شہباز شریف الیکشن جیتنے کے لےے کچھ نہ کچھ جتن کرتے ہیں۔اگلے روزبھی انہوں نے اورینج ٹرین کا بھر پور شو کیا تاکہ عوام ان کی کارکردگی پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائیں اور آنے والے الیکشن میں ان کے ووٹ پکے ہو سکیں ۔مگر میاں نواز شریف ہیں کہ اپنے بیان پر ڈٹے ہوئے ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی اپنے اِس بیان کی وجہ سے شرمندہ کرایا ہے کہ ” میاں صاحب کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے“۔جبکہ میاں صاحب کا فرمان ہے کہ :” انہوں نے درست بیان دیا ہے، بھلے کمیشن بنا کر دیکھ لیں “۔ رفیق نے کرسی پر نیا گاہک بٹھاتے ہوئے اپنا رخ بھکاریوں کے موضوع کی طرف موڑ لیا۔بولا :” لاہور پرگداگروں کی یلغار ہونے کا حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔چیف جسٹس اس طرف بھی توجہ دیں اور سڑکوں چوراہوں اور ٹریفک اشاروں پر بھیک مانگنے والے ہجوم کو روکنے کا بندوبست کریں۔ رمضان میں ٹریفک کا پہلے سے بھی برا حال ہو جاتا ہے۔گداگروں کے سبب یہ مزید سست رو ہو جاتی ہے۔پولیس والے ان پر توجہ دینے کی بجائے، اپنی عیدی کے لےے اپنے ٹارگٹ پر نظریں رکھتے ہیں۔وہ اس تاک میں رہتے ہیں کب کوئی ذرا سی غلطی کرے تو اس کا چالان کر دیا جائے۔انہیں ہر اشارے پر ٹریفک کی یہ جونکیں(بھکاری) دکھائی نہیں دیتیں۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بھکاریوں سے بھی نذرانہ وصول کرتے ہوں۔سچی بات ہے جی رمضان رحمتوں کا مہینہ ہے مگر اپنے رویوں اور حرص و ہوس سے ہم نے اسے خود اپنے لےے زحمت بنا لیا ہے۔دو ہزار اٹھارہ تک لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کادعویٰ کرنے والے حکمران، عوام کو پہلے روزے سے قبل ہی طویل لوڈ شیڈنگ کا تحفہ دے چکے ہیں۔بات یہ ہے جی اے سی نہ چلے تو ہماری دکان پر کوئی نہیں آتا۔کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے۔سچی بات ہے میاں صاحب خود وزیر اعظم ہوتے تو شاید یہ لوڈ شیڈنگ ختم ہو چکی ہوتی اب عوام بھگتےں۔شاہد خاقان عباسی بھلے وزیر اعظم مسلم لیگ کے ہیں مگر وہ ابھی تک وزیر اعظم کا عہدہ انجوائے نہیں کر سکے کیونکہ انہیں اپنا وزیر اعظم ”میا ں نواز شریف “ کو کہنا پڑتا ہے۔لالہ رﺅف تو یہ بھی کہتا ہے کہ عمران خان کی اہلیہ کے وظیفہ جات اور دعائیں شاہد خاقان عباسی کو بھی اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ واللہ اعلم جی۔۔۔یہ باتیں جاری تھیں کہ لائٹ چلی گئی ۔ہم تو سچی بات ہے بغیر کٹنگ کے ہی اٹھ آئے۔اب اتوار کو جا کر رفیق سے پھر ملاقات ہوگی تب تک اجازت۔


ای پیپر