” پھنے خان“
18 مئی 2018 2018-05-18

لو بھئی میں بھی قائل ہوگیا، کہ نہ تو انسان اپنی مرضی سے ایک لقمہ یا نوالہ لے سکتا ہے، نہ کچھ اور کر سکتا ہے۔ میں کاغذ اور پین پکڑنے تک تو یہی ” موڈ“ بنا کے بیٹھا تھا، کہ ابھی ” تبدیل آئی رے“ یہ لکھوں گا، مگر یکدم ایک خبر نظر سے گزری، تو میں نے بھی یو ٹرن لے کر خلائی مخلوق پہ لکھنے کی ٹھان لی، حالانکہ اِس بارے میں ، میری معلومات آپ سے شاید کچھ زیادہ نہ ہوں، مگر بعض اوقات ” سطحی مُطالعہ “ بھی طلبا کو پاس تو کرا ہی دیتا ہے۔
میں نے 4 مئی کو جو کالم لکھا تھا، اُس کا مضمون تھا، ”امریکی ہُوں گے اپنے مُلک میں “ امریکیوں کے بارے میں یہ رائے ، ہمارے مُلک کی ایک اعلیٰ عدالت جِسے ” فوجی زبان میں تھری سٹار جنرل “ کہتے ہیں یعنی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی ہے جنہوں نے امریکی ملٹری اتاشی کرنل جوزف ایمانویئل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے والی کمیٹی کو پانچ روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جبکہ میں نے عرض یہ کی تھی، کہ میری عقل و شعور اور ناقص علم کے مطابق امریکی اپنے مُلک میں بھی امریکی ہوتے ہیں۔ اور ملک سے باہر دوسرے ملک میں بھی امریکی ، امریکی ہی ہوتا ہے۔ اور یہ کہ سفارتکار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پاکستانیوں کو مارتا پھرے۔
میں نے لکھا تھا کہ اب چھوٹا منہ بڑی بات، میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ دیانا کنونشن کے مُطابق ہر سفارتکار کو یہ اِستثنیٰ حاصل ہے، لہٰذا اُنہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ ٹرمپ سے متھا نہ لگائیں، اور یہ بھی کہا تھا، کہ قانون اندھا ہو سکتا ہے مگر جج اندھا نہیں ہوتا صرف انجان بن جاتا ہے، مگر اس عمل پر بھی میں اُنہیں دُوش نہیں دیتا، کہ یہ تو رائج الوقت ” ریت “ ہے ، مگر اُسے حقوق انسان سے ” پریت “ سمجھا جائے.... اِسی لیے میرا نقطہ نظر تھوڑا سا مختلف اس لئے ہوتا ہے، کہ میں سمجھتا ہوں دورانِ سماعت جج صاحبان کو ممکن حد تک ریمارکس دینے سے اجتناب کرنا چاہئے، مثلاً جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے سابق چیف جسٹس افتخار احمد کے ساتھ بد سلوکی میں ریمارکس دیے ، کہ ایسی نظیر دینگے کہ مستقبل میں کبھی ایسا نہ ہو، اور فیصلہ محفوظ کر دیا.... حالانکہ فیصلہ تو سُنا دیا گیا ہے۔ کیونکہ فیصلہ اگر ان ریمارکس کے برعکس آجائے، تو وقتی طور پر جج کے نمبر تو بڑھ جاتے ہیں، صحافتی زبان میں اُن کی RATING تو بے شک بڑھ جاتی ہے، مگر شہرت فیصلہ آنے پر خراب ہو جاتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ منصف اپنے مو¿قف کے برعکس فیصلہ دے رہے ہیں۔
بہر حال کروڑوں عوام، آج کل ہر لحظہ ، ہر لمحے، اپنی نئی شان اور نئی آن، منفی معنوں میں اور کرب آمیز ملاوٹوں کے ساتھ صبح اٹھنے سے رات گئے تھے، سننے اور دیکھنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ خلا میں کوئی مخلوق ہے یا نہیں، یہ تو اللہ تبارک ہی جانتا ہے۔ مگر اللہ نے انسان کو اشرف المخلوق ضرور کہا بھی ہے، اور بنایا بھی بڑی چاہتوں سے ہے، وہ کیوں چاہے گا کہ کوئی اور مخلوق اُس سے سبقت لے جائے، گو مخلوقات کا خالق و مالک تو وہی مالک عرشِ عظیم ہے۔
قارئین میں اپنی بات سمجھانے کے لئے تھوڑی سی وضاحت کرنے کے لئے اپنے ماموں کے بیٹے جو پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں، اور اُن کا نام ہے ، محمد یوسف زمان، میں انہیں جب بھی فون کرتا ہوں، تو کہتا ہوں کہ ” جوزف“ بول رہے ہیں، اُنہوں نے کبھی بُرا نہیں منایا، اور کبھی نہیں کہا، وہ اِس لئے کہ انگریزی میں یوسف کو ” جوزف “ کہا جاتا ہے۔ شاید اِس لئے ” خلائی مخلوق“ نے دُوسری خلائی مخلوق کو جانے دیا،
میں اپنی بات پر قائم ہوں، کہ اُس نے جانا ہی جانا تھا، اِس سے قبل بیس کروڑ عوام ریمنڈ ڈیوس کو مِل کر رُوک سکے تھے؟ مگر میں یہ سُوچ رہا ہوں، کہ ایسے ملزم امریکہ جانے کی بجائے افغانستان کیوں چلے جاتے ہیں۔ اور دُوسرا سوال میرے ذہن میں یہ آتا ہے، کہ اِن کو رات کے اندھیرے میں کیوں چھوڑا جاتا ہے، پاکستان بھی اُن کی اپنی ” کالونی“ ہے، میرا مطلب ہے ، اپنا گھر ہے ، جب دل کرے ، دن میں آئیں، یا رات کو جائیں۔
خصوصی طیارے میں جائیں، یا پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز میں ، وفاقی پولیس نے کیس کا ریکارڈ وزارت داخلہ کو اور وزارتِ خارجہ کو دے دیا.... اب شیریں مزاری کہتی ہیں، ملزم کیسے آزاد ہو گیا؟ حالانکہ تحریک انصاف والوں کا دعویٰ ہے، کہ شیریں مزاری بہت پڑھی لکھی ہیں، اور اُنہوں نے بین الاقوامی امور میں ڈاکٹریٹ کی ہوئی ہے۔ سیاست کرنے کے لئے یہ بیان بازی بہت اچھی ہے، مگر اِس حقیقت کا اُنہیں بھی علم ہے، اور معاف کیجیے گا، جسٹس عامر فاروق صاحب بھی با علم شخص ہیں، مگر اگر نہیں پتا تو صرف ہماری وزارت خارجہ کو نہیں پتا، کیونکہ وزارتِ خارجہ والوں نے بیان دیا ہے، کہ ہمیں یہ علم نہیں ہے، کہ ملزم کرنل جوزف نے مقتول کو ”دیت“ دی ہے یا نہیں؟
اَصل میں ہمارے مُلک کو بیان بازیوں نے اِس ” مقام افسوس“ پہ پہنچا دیا ہے کہ جنہیں سن کر اور پڑھ کر بہت افسوس ہوتا ہے، اسی لئے تو میں بر ملا کہتا ہوں ، کہ ہمارے وطن میں ہر قسم کی ” بازی “ چلتی ہے۔ جس میں ” اُلٹ بازی“ بھی شامل ہے۔
کسی کو گالی دے کر ، کسی کی تضحیک کر کے ، کسی کی پگڑی اُچھال کے ، کسی کی تذلیل کر کے ، کسی کو بھی بے عزت کر کے یہ بیان دے دیا جاتا ہے، کہ میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے، اور اس کا مطلب غلط نکالا گیا ہے،
بلکہ سپریم کورٹ میں تو بظاہر ” پھنے خان“ معاف کیجئے گا، یہ میرے یعنی نواز خان کے کسی چھوٹے بھائی کا نام نہیں، بلکہ یہ ہمارے اور آپ کے بھائی ہیں، جوجناب جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب کی عدالت ”عدل بالا حسن“ جس کا مطلب ، وکیل نے یہ نکالاکہ میرے موکل پر احسان کیا جائے، مگر کھوسہ صاحب نے کہا کہ یہ عربی کا لفظ ہے، اور اس کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ خوبصورتی سے انصاف و عدل کرنا ، تو ناک سے لکیریں نکالنے، ہاتھ کے بَل چلنے ، حتیٰ کہ وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا، رانجھا راضی کرنے کی باتیں کرنے لگے، کیونکہ اُنہیں اپنے مُوکل کا مستقبل زحل ، مُشتری، اور عطارد، بلکہ اپنی پجارو کی بجائے کسی جیل میں جاتا صاف نظر آرہا ہے حالانکہ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں، جن سے اُن کے اعمال کی بنا پر حُسنِ سلوک اور حُسنِ خلق کیا جار ہا ہے،
حُسن سلوک کی بات ہوئی ، تو یاد آیا کہ قطر نے ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بھائی چارے کے تحت ،جسے ” بغض معاویہ “ کہنا اپنے پاﺅں پہ کلہاڑی مارنے والی بات ہوگی، اسے دس ارب ڈالر ” بخشش “ دے دی ہے، مگر میرا خیال ہے ، کہ قطر سے تو ہمارے حکمرانوں اور ہمارے ایوانوں کے زیادہ اچھے تعلقات ہیں، مگر نجانے کیوں ہماری عدالتیں نہیں مانتیں؟ اور بال کی کھال نکالنا شروع کر دیتی ہیں۔ چلیں چھوڑیں ہمیں اِن باریکیوں میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے،
قارئین، اس بات پر غور کریں، کہ ٹرمپ نے بھی ” خلائی مخلوق “ سے مقابلے کیلئے تیاری شروع کر دی ہے، اور دُوسری یہ کہ سائنسدان واقعی خلائی مخلوق کی تلاش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ، یہ ڈھونڈیں گے کہ معلومات کا جواب خلائی مخلوق کی جانب سے بھیجا گیا ہے ، یا نہیں
قارئین، ہمارے مُلک کے پاس نہ تو اتنے وسائل ہیں، اور نہ ہی ہماری قوم میں اتنے خصائل ہیں، کہ ہم نت نئے تجربے کرتے رہیں۔ مجھے یاد آیا، کہ غالباً بدھ والے دن ، پنجاب ، خیبر پختونخوا میں ملکی تاریخ کا بد ترین بجلی کا بڑا بریک ڈاﺅن ہوا تھا، جسے مجھ جیسا ” ناہنر“ شخص ” کریک ڈاﺅن “ تو نہیں کہہ سکتا، تاہم میں اِس بات پہ ضرور بضد ہوں، کہ پورے ملک کو تاریکی میں کوئی ” مسلمان “ روزہ رکھتے ہوئے، روزہ کھولتے ہوئے، وضو کرتے ہوئے، تراویحاں پڑھتے ہوئے، امتحان کی تیاری کرتے ہوئے، دفتروں اور سکولوں میں جاتے ہوئے، مریضوں کی تشخیص مرض کے دوران حتیٰ کہ آپریشن کے دُوران بجلی بند کرنے کا ” مذاق“ نہیں کر سکتا، یہ ضرور خلائی مخلوق کا مذاق ہے، مگر میری طرح آپ کا بھی ایمان یہی ہوگا، کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر نہ سمندروں میں نہ پہاڑوں پہ ، اور نہ خلاﺅں میں اور نہ ہی درختوں سے کوئی پتہ گرتا ہے، اللہ کروڑوں مسلمانوں کو آزمائش سے بچائے، اور ہمیں مشرف کی طرح یہ کہنے کی توفیق نہ دے کہ ہم آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کریںگے۔


ای پیپر