The PDM meeting will take important decisions on the long march, rigging of the Senate elections and the political situation in the country
18 مارچ 2021 (11:13) 2021-03-18

الیکشن کمیشن گھر جائے؟ وفاقی وزیر

تاریخ گواہ ہے منگول قوم نے فتوحات پے فتوحات سمیٹیں، طویل مدت تک اپنی حکومت قائم رکھی، مگر جونہی ان کا وحشی پن حد سے گزرا، ان کے مظالم اور مفاد باہمی نفاق کا باعث بنے، تو تاریخ نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔ کیونکہ تاریخ آج ہمیں ان کے زوال کی الگ ہی داستان سناتی ہے۔ لیکن جس طرح نہ دن ہمیشہ رہتا ہے نہ رات۔ اسی طرح وقت کے بھی، عقلمندوں کے لئے کئی روپ ہیں؟ لہٰذا جوں جوں حماقتیں بڑھتی ہیں کہیں تنزلی کی آنکھ بھی کھلنے لگتی ہے۔ مگر سیکھنے والے اور دیکھنے والوں کے لئے اس میں بے تحاشا مختلف مناظر ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے دماغ اور آنکھ لازم ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آج بھی اگر کسی دیہات میں کوئی دوشیزہ شادی کے لئے نہ مانے تو اس کے چہرے پے تیزاب پھینک دیا جاتا جو انتہائی قابل نفرت جرم ہے۔ بہرحال میری تکلیف یہ نہیں کہ جناب شفقت محمود وفاقی وزیر تعلیم نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مستعفی ہونے کا کیوں کہا ہے؟ میرے شعور کا دکھ تو یہ ہے کہ جس طرح سینٹ کے انتخاب میں ہوا اس پے ہر باشعور پاکستانی دکھی ہے۔ ایسے ہی حکومت کے اہم ترین وفاقی وزیر جن کے علمی و سیاسی مرتبے کا میں دل و جان سے معترف ہوں۔ ان کی طرف سے ایسا غیرآئینی و قانونی بیان درست نہیں ہے۔ جبکہ حکومت تو قومی اداروں کی ’’ماں‘‘ ہوتی ہے اور ماں کبھی بھی اپنے کسی بچے کو کان سے پکڑ کر گھر سے نہیں نکالتی بلکہ اصلاح و احوال کرتی ہے اور اس کی تربیت کرتی ہے؟ کسی دل جلے شاعر نے حسب حال کیا خوب کہا ہے۔

کیسے سنبھال رکھی ہے تو نے یہ کائنات

ہم سے تو ایک دل بھی سنبھالا نہ جا سکا

لانگ مارچ ایک دن کا؟ فضل الرحمان

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اب آئندہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں لانگ مارچ، سینٹ انتخابات کی دھاندلی اور ملکی سیاسی صورت حال پے اہم فیصلے ہوں گے جبکہ ہمارا لانگ مارچ ایک دن کا نہیں ہو گا۔ بے حد عقیدت کے ساتھ کہتا ہوں کہ فضل بھائی اپنی سیاست کو "Re-think" کریں۔ آپ ایک مدت سے جو ایک ہی کام کئے جا رہے ہیں؟ اس میں نرمی لائیں، بردباری اور سنجیدگی لائیں، ورنہ تتلی کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم تو لیتی ہے مگر اپنے چھلنی پَروں کے باعث اپنی دوبارہ اڑان نہیں بھر سکتی ہے۔آپ جانتے ہیں کہ جس طرح 12 مارچ 2021 کے ایوان بالا کے انتخاب میں بیلٹ پیپر پے صرف دو خانے تھے، ایک میں جناب گیلانی دوسرے میں جناب سنجرانی کا نام تھا، پھر مہر خانے میں لگے یا امیدوار کے نام پر… کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن فرق پڑا ہے؟۔ اسی فرق کو میرے محترم فضل بھائی کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ورنہ ان کی احتجاجی سیاست پہلے ہی ’’کھوہ کھاتے‘‘ منہ کے بل پڑی ہے جبکہ اس میں نئی روح پھونکنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یاد رکھیں کہ جناب بلاول بھٹو جس طرح سے سیاست اپنے مطابق کر رہے ہیں امکان غالب ہے کہ وہ پی ڈی ایم کی پوری کی پوری سیاسی بس لاڑکانہ ہی نہ لے جائیں اور آپ کا سیاسی تجربہ ان کے لئے جنت کا باغ نہ بن جائے، اور آپ سیاست کے جھمیلوں میں گم سم راہ دیکھتے ہی رہ جائیں۔ ویسے سچی بات ہے کہ مجھے آپ سے اب دلی ہمدردی ہونے لگی ہے جبکہ آپ مجھ سے بے وجہ خفا ہیں؟ مگر پھر کہتا ہوں۔

اس کے پیچھے نہ چلو اس کی تمنا نہ کرو!

چاند ہرجائی ہے ہر گھر میں اُتر آتا ہے

بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کیلئے؟ آرمی چیف

بلاشبہ، ہمارے اردگرد راکھ میں دبی کئی چنگاریاں ہیں جن سے ہمہ تن، ہمہ وقت ہمیں باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے گزشتہ روز لاہور میں مصروف دن گزارا۔ اس دوران انہیں فارمیشنز تیاریوں کے متعلق بریفنگ دی گئی۔ میرے مصدقہ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ مشقوں کا بھی نہ صرف معائنہ کیا بلکہ کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل عبدالعزیز سے بھی باہمی مشاورت کی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ آج اگر ہمارے اردگرد خطرات ہیں تو ان خطرات میں یہ خوشخبری بھی ہے کہ آج ملک میں ایماندار قیادت کی حکمرانی ہے۔ عسکری اور سیاسی قیادت یک جان دو قالب ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہی کافی نہیں ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایماندار و شفاف ہیں بلکہ جس طرح سے ملک میں مہنگائی، گداگری، رشوت ستانی اور جھگڑالو سیاست جو کہ کورونا سے بھی زیادہ مہلک ہے اس پے پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ محض خوابوں سے ریاست مدینہ تعمیر نہیں ہوگی نہ ہی ایڈھاک ازم سے ہم اپنی منزل حاصل کر سکیں گے۔ جبکہ وزیراعظم پاکستان سے اب بھی قوم کو شفائے کاملہ کی امید ہے، مگر یاد رکھیں؟

کھڑکیاں بند دماغوں کی جہاں ہوتی ہیں

دیکھنے والی آنکھیں وہاں کہاں ہوتی ہیں


ای پیپر