بدمست ہاتھیوں کے دانت! 
18 مارچ 2021 2021-03-18

دوروز پہلے سولہ مارچ گھبراہٹ کا دِن تھا، اپوزیشن اِس بات پر گھبرائی ہوئی تھی اُن کے ایجنڈے کی تکمیل ہوسکے گی یانہیں؟، حکمران اِس پر گھبرائے ہوئے تھے وہ اپوزیشن کے لانگ مارچ کا مقابلہ کرسکیں گے یا نہیں؟، میں حیران ہوں اِس معاملے میں ہمارے محترم وزیراعظم خان صاحب کو وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے باقاعدہ میٹنگ کی ضرورت محسوس ہوئی، یہ گھبرائے ہوئے لوگوں کا عمل تھا، وزیراعظم کی اِس معاملے میں گھبراہٹ کسی حدتک جائز بھی تھی، وہ یقیناً سوچتے ہوں گے جو شخص بطور وزیر ریلوے کسی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکا، بلکہ ناکام ہوا، وہ وزیر داخلہ کے طورپر کسی کارکردگی کا مظاہرہ کیسے کرسکتا ہے؟، سو اُنہیں پاس بلاکر اپوزیشن کے لانگ مارچ کے حوالے سے وزارت داخلہ کی تیاری بارے معلومات حاصل کرنے کا عمل ایک حوالے سے درست ہی تھا، یہ الگ بات ہے لانگ مارچ کے ضمن میں جو ہدایات وزیراعظم نے اُنہیں دی ہوںگی، لانگ مارچ اگر ہوجاتا، اُس کا نتیجہ بھی کچھ اچھا شاید نہ نکلتا، سو بجائے اِس کے اپوزیشن کے آپس میں پُھوٹ پڑنے کے عمل کو تنقیدکا نشانہ بنایا جائے، شکر ادا کیا جائے اپوزیشن نے لانگ مارچ ملتوی کردیا، .... جہاں تک گھبراہٹ کا تعلق ہے صرف ایک عوام کی گھبراہٹ ہے جس کی کسی کو کوئی پروانہیں ہے، .... مہنگائی کا جن بے قابو ہوکر عوام پر اب باقاعدہ حملہ آور ہورہا ہے، عوام کو چیڑ پھاڑ رہا ہے، حالات اِس قدر بگڑ چکے ہیں لوگ اپنے گزربسر کے لیے اپنی عزتیں اور بچے تک فروخت کرنے پر مجبور ہوتے جارہے ہیں، لوگوں میں اتنی سکت بھی نہیں رہی خود پر ہونے والے ظلم پر ہلکا سا احتجاج ہی وہ کرسکیں، .... قتیل شفائی کا شعر ہے ، ”دنیا میں قتیل اُس سامنافق نہیں کوئی .... جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا .... شکر ہے قتیل شفائی انتقال فرماچکے ہیں، وہ زندہ ہوتے، اور یہ شعر اب کہتے اُنہیں بغاوت کیس میں پھانسی پر چڑھا دیا جاتا، ایک خاص پلاننگ کے تحت لوگوں کی غیرت کو اِس قدر مسخ کردیا گیا ہے، اُنہیں اتنا بزدل بنادیا گیا ہے اپنے خلاف ہونے والے کسی ظلم پر بغاوت کرنا تو دُور کی بات ہے بغاوت کا تصور بھی وہ نہیں کرسکتے، اپنے ساتھ یاکسی کے ساتھ ہونے والے ظلم پر نحیف سی آواز بلند کرنے کا سیدھا سیدھا مطلب موت کو گلے لگانا ہے، یہ وہ بدبخت معاشرہ ہے جہاں قتل کرنا نہیں قتل ہونا جرم ہے، یہ تو مہربانی ہے کسی مقتول کو سمن جاری نہیں کئے جاتے حضور آکر بتائیں آپ کو قتل ہونے کی جرا¿ت کیسے ہوئی ؟؟؟،حادثے سے بڑھ کر سانحہ یہ ہوا ہے لوگ اب اِس سوالیہ احساس بلکہ اس اذیت میں مبتلا ہوگئے ہیں ان کے ساتھ کوئی ظلم، زیادتی ہوگئی وہ کس کے پاس جاکر فریاد کریں گے؟، کون اُنہیں انصاف دے سکے گا ؟، انصاف فراہم کرنا تو دُور کی بات ہے کوئی اُن کی بات بھی سنے گا یا نہیں؟۔ اِس خوف نے لوگوں کو اتنا بزدل بنادیا ہے وہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم وزیادتی کا ذکر تک کسی سے کرنا پسند نہیں کرتے، ہم نے تھانہ کلچر درست کرنا تھا، تھانہ کلچر ہم نے یہ درست کیا عام لوگوں کے ساتھ کوئی ظلم یا زیادتی ہو جائے وہ یہ سوچ کر تھانوں کا رُخ ہی نہیں کرتے کہ ایک واردات اُن کے ساتھ تھانے سے باہر ہوئی ہے ایک کہیں تھانے کے اندر نہ ہوجائے، .... یہاں سب اپنے اپنے ذاتی مفادات کے دائروں میں رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں، سب موج مستی کررہے ہیں، اہل اقتدار یہ سوچ رہے ہیں اگلے پانچ برس بھی اُن کے ہوں گے، دوسری جانب پی ڈی ایم کے اکثر رہنما یہ سوچ رہے ہیں اُن کے تاحیات اقتدار میں رہنے کا جو خواب اُدھورا رہ گیا تھا وہ پورا کیسے ہوگا ؟، دوبارہ اقتدار میں آکر عوام کو مزید اذیتیں دینے کاموقع اُنہیں کیسے ملے گا؟، مال بنانے کے جو منصوبے اُدھورے رہ گئے تھے وہ پورے کیسے ہوں گے ؟، اُنہوں نے موجودہ حکمرانوں سے کیا لڑنا ہے؟ وہ تو آپس میں لڑلڑ کر مررہے ہیں، بلکہ یہ کہا جائے غلط نہ ہوگا منگل کو پی ڈی ایم باقاعدہ انتقال فرما گئی تھی، اب صرف اُن کی زندہ لاشیں ہیں جن سے عوام کو کوئی توقع نہیں رہی، یہ لاشیں آگے چل کر مزید تعفن ہی پھیلائیں گی، بے بس عوام پاگل تھے جو یہ سوچ رہے تھے وہ اُن کے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں، وہ یہ سوچ رہے تھے اپوزیشن ایسی قوت کے طورپر اُبھرے گی حکمران اُس سے خوفزدہ ہوکر فوری طورپر اپنی توجہ عوام کے مسائل کے حل پر دینے لگیں گے، افسوس جنم جنم کے میلے اپوزیشنی سیاستدانوں نے جس روایتی غلیظ رویے کا مظاہرہ کیا اُس کے نتیجے میں ہمارے موجودہ نااہل حکمران، مزید نااہلیاں دکھانے کے عمل کو اب باقاعدہ اپنا حق سمجھیں گے .... واحد خطرہ حکمرانوں کو پی ڈی ایم سے محسوس ہورہا تھا وہ بھی ختم ہوگیا، سو اب اپنی نااہلیاں دکھانے اور بے بس عوام پر ظلم ڈھانے کا عمل اُن کے لیے مزید آسان ہوگیا، .... حکمرانوں کے لیے پی ڈی ایم کی ناکامی کی خوشی کا بدلہ عوام سے لینے کا یہ سنہری موقع ہے، اِس سنہری موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سب سے پہلے تو فوری طورپر پیٹرول کی قیمتیں دگنا کردی جائیں، آگے گرمیاں آرہی ہیں، بلکہ آچکی ہیں، فوری طورپر بیس بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی منصوبہ بندی کرلی جائے، ساتھ ہی ساتھ بجلی کی قیمتیں اس قدر بڑھا دی جائیں لوگ لوڈشیڈنگ کو بھی حکومت کی طرف سے باقاعدہ ایک ”ریلیف“ ہی سمجھیں، رمضان کا مبارک مہینہ سرپر ہے، مہنگائی کے جن کو عوام پر حملہ آور ہونے کے لیے مزید کھلا چھوڑاجائے،.... میں یقین دلاتا ہوں اِن اقدامات پر کسی طرف سے کوئی احتجاج نہیں ہوگا، پی ڈی ایم کی ناکامی اصل میں حکمرانوں کی اِن مقاصد کے لیے زبردست کامیابی ہے کہ عوام پر مزید ظلم ڈھانے کے عمل کو اب وہ باقاعدہ اپنا ”دینی و قومی فرض“ سمجھیں گے، .... اپوزیشن کے استعفوں سے بھی مسئلہ حل نہیں ہونا تھا، نہ اُن کی اصل لڑائی اسمبلیوں کی رُکنیت سے مستعفی ہونے کی تھی، اُن کی اصل لڑائی کن معاملات پر تھی، آگے چل کر یہ راز بھی کُھل جائیں گے، جیسے آہستہ آہستہ یہ خود کُھل رہے ہیں، استعفے تو پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے بھی دیئے تھے ، اُس سے حکومت چلی گئی تھی؟، پی ٹی آئی کو اپنا تھوکا دوبارہ چاٹنا پڑ گیا تھا، پی ڈی ایم کے استعفوں سے بھی کیا ہونا تھا؟جوہوگا اپنے وقت پر ہوگا، ممکن ہے آگے چل کر زرداری استعفے دینے کے لیے پی ڈی ایم کے رہنماﺅں کو قائل کررہا ہو اور وہ زرداری کے اِس مو¿قف کو اُسی طرح ردکررہے ہوں جس طرح آج زرداری نے اُن کے کچھ مو¿قف رد کردیئے ہیں، یہاں ہرادارہ ہرشعبہ بشمول سیاست ایسا بدمست ہاتھی بن چکا ہے جس کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں !!


ای پیپر