نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے آپشن : احتجاج یا تحریک؟
18 مارچ 2019 2019-03-18

نواز شریف کی بیماری اور آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں سندھ اور پنجاب میں تحریک چل سکتی ہے؟پیپلز پارٹی کی سندھ کونسل نے پارٹی کی مرکزی قیادت گرفتار ہوئی تو تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس سے قبل پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر بڑا جلسہ کر کے سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرے گی ۔ یہ فیصلے پارٹی کی مرکزی قیادت کی گرفتاریوں اور مقدمات کی بینکنگ کورٹ کراچی سے راولپنڈی منتقلی پر تفصیلی غور کے بعد کئے گئے۔پارٹی کونیب کی کارروائیوں پر سخت تشویش ہے۔ جنہیں سندھ کونسل کے اجلاس میں غیر قانونی، غیر انسانی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب حکام کے اختیارات کے ناجائز استعمال اور ان کے اثاثوں کی تحقیقات کی جائے۔ اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ کا مطالبہ دہرایا گیا۔ لیکن اٹھارویں ترمیم پر ڈٹے رہنے کے بجائے نیشنل ایکش پلان پر بھرپور عمل کرنے پر زور دیا گیا۔

گزشتہ دو ماہ سے آنکھ مچولی چل رہی ہے۔ حکومت یہ تاثر دیتی ہے کہ بس پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری اگلے ہفتے گرفتار ہو جائیں گے۔ چند ہفتے پہلے آصف علی زرداری نے بھی یہ تیاری کر لی تھی۔ انہوں نے سندھ کا خاص طور پر ان اضلاع کا جہاں ان کی جائدادیں ہیں، کا دورہ کیا۔ جلسے کئے جہاں پر اس طرح کی زبان استعمال کی جو انہوں نے 2016 میں کی تھی اور بعد میں انہیں پندرہ ماہ تک بیرون ملک جانا پڑا تھا۔ مطلب کہ اب پیپلزپارٹی اور زرادری صاحب خود گرفتاری کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔پارٹی کو دو ہفتے قبل یہ پتہ لگا کہ قیادت کے خلاف کچھ ہونے والا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی لگا کہ نواز شریف ڈٹے ہوئے ہیں۔ جو ڈیل کی باتیں تھی، وہ نواز لیگ کو بس اینگینج رکھنے اور لوگوں کے دکھاوے کے لئے تھیں۔ بلاول بھٹو نے کوٹ لکھپت میں نواز شریف سے ملاقات کی ۔ حالات نے دونوں جماعتوں کو ایک صفحے پر کھڑا کردیا ہے۔ ان کے لئے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ کوئی مشترکہ حکمت عملی بنائیں۔ بلاول بھٹو نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مختصرا حکمت عملی کے خدوخال بیان کئے کہ نیا میثاق جمہوریت کیا جائیگا جس میں تحریک انصاف کے علاوہ باقی تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کرلیا جائے گا۔ پہلے چارٹر آف ڈیموکریسی پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے درمیان 14 مئی 2006 کو لندن ہوا تھا جس پر بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے دستخط کئے تھے۔ اس میثاق جمہوریت کا مقصد جمہوریت کی بحالی اور مشرف کی آمریت کے خاتمہ تھا۔ مجوزہ حکمت عملی یہ ہے کہ حکمران جماعت تحریک انصاف کو چھوڑ کر باقی سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملایا جائے۔اس کے توڑ کے طور پر حکومت نے شدت پسند تنظیموں کو مرکزی سیاست میں شامل کرنے کی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ جس کے پاس اسٹریٹ پاور بھی ہے وہ بھی ڈنڈے والی۔ پیپلزپارٹی ان تنظیموں کو مرکزی سیاسی میدان میں اتارنے کی مخالفت کر رہی ہے۔

پارٹی قیادت کی گرفتاری سے متعلق پیپلز پارٹی کا اندیشہ اس وقت یقین میں تبدیل ہو گیا جب کراچی کی بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کا کیس نیب کی درخواست پر راولپنڈی منتقل کر دیا۔ اس تحقیقات میں آصف علی زرادری، فریال تالپور اور بلاول بھٹو زرادری کو نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔ دریں اثناء تحقیقات میں شامل افراد نے مقدمے کی راولپنڈی منتقلی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

آج پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے درجن بھر وزراء یا سابق وزراء زیر تفتیش ہیں یا ان پر مقدمات ہیں۔ جبکہ دو درجن افسران بھی اس لسٹ میں شامل ہیں۔ یوں سندھ سے تعلق رکھنے و الے تین درجن کے قریب

سیاستدان اور افراد کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے جس میں پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی شامل ہیں۔ اس صورتحال نے یہ موقعہ فراہم کیا کہ پیپلزپارٹی یہ کہے کہ کیا کرپشن صرف سندھ میں ہی ہو رہی ہے؟ یہ بھی کہ سندھ کے مقدمات باہر بھیجنا امتیازی سلوک ہے۔ اس پس منظر میں پیپلزپارٹی سندھ کونسل کے اجلاس میں پارٹی کی مرکزی قیادت یعنی آصف علی زرادری اور فریال تالپور کی گرفتاری کی صورت میں تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کیا یہ تحریک صرف سندھ میں ہی چلائی جائے گی؟ پارٹی کی تنظیم باقی صبوں خاص طور پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی ہے۔ تحریک کا بوجھ سندھ پر اس لئے ڈالا جا رہا ہے کہ یہاں پر پارٹی کی حکومت ہے؟ لیکن تحریک تو پارٹی چلارہی ہے، صوبائی حکومت نہیں۔ سندھ پر تحریک کا وزن اس لئے بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ تین چار وز پہلے بلاول بھٹو سندھ اسمبلی بھی گئے تھے۔ اور اب پارٹی کی صوبائی تنظیم کے اجلاس کی صدارت بھی کی ہے جس کی وجہ سے اس اجلاس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ دو سوال اہم ہیں۔ ایک یہ کہ کیا واقعی پیپلزپارٹی تحریک چلانے کی پوزیشن میں ہے؟ دوسرا یہ کہ پارٹی قیادت کی گرفتاری کے فورا بعد تحریک شروع کردی جائے گی؟ ماضی کی مثالیں موجود ہیں کہ فوری طور پر ایسا نہیں ہوسکتا۔ ذاولفقار علی بھٹو کی گرفتاری، قتل کیس کے مقدمے کے فیصلے اور ان کی سزائے موت پر عمل کرنے کے موقعوں پر احتجاج ضرور ہوا تھا، لیکن فوری طور پر تحریک نہیں چلی تھی۔تب لیڈ ربھٹو تھا اور وہ ستر کا عشرہ تھا۔ آج آصف علی زرداری ہیں اور یہ اکیسویں صدی کا دوسرا عشرہ ہے۔ تب ضیاء کی آمریت تھی، آج عمران خان کی حکومت ہے جسے بہر حال ووٹ ملے ہیں۔ اور ایک حد تک عوام میں حمایت بھی رکھتا ہے۔ بہت دیر سے تحریک چلی۔ وہ بھی ضیاء الحق کے خلاف۔ یہ ضرور تھا اس تحریک میں شدت کی وجہ بھٹو کو پھانسی دینے کی وجہ سے آئی۔لہٰذااس تحریک میں سندھ نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ دوسری مثال نواز شریف کی ہے۔ جب نواز شریف کو سزا ہوئی یا وطن واپسی پر گرفتاری کی صورت میں احتجاج یقیناًہوا، لیکن تحریک نہیں چل سکی۔ اس وقت تو صرف آصف علی زرداری یا فریال تالپور کی گرفتاری ہے۔ اس پر احتجاج تو ہو سکتا ہے لیکن تحریک نہیں چل سکتی۔تحریک کے لئے سازگار یا مطلوبہ حالات اور اس کے حق میں سیاسی صف بندی ہونا ضروری ہے۔ ایم آرڈی اتحادکی تشکیل میں پیچھے جماعت اسلامی اور سردار قیوم کو چھوڑ کر باقی تمام سیاسی جماعتیں تھی۔ بلکہ جب ایم آرڈی کا اتحاد تشکیل دیا جا رہا تھا تب ایک مرحلے پر یہ دو جماعتیں بھی اس اتحاد میں شمولیت کی خواہاں تھیں ۔ کامیاب تحریک کے لئے حکومت مخالفین کو متاثر کرنا ضروری ہے۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ جس تحریک کے واضح مقاصد ہوں وہی کامیاب ہوتی ہے۔ صرف بہت سارے مقاصد اور نعرے سامنے رکھنے سے تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ ایسے مطالبات یا مقاصد جس میں بہت سارے لوگ اپنی امنگوں کا عکس دیکھیں۔

ایک بات ضرور ہے کہ نوز شریف کی بیماری نے حکومت کو سخت پریشان کیا ہوا ہے۔ یہ ایک انسانی مسئلہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔جس پر عالمی رائے عامہ کو بھی متحرک کیا جاسکتا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پلی بارگین کی کی بات کی اور ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات ان کے دور میں نہیں بنے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے من پسند جگہ پر علاج کی پیشکش کی ہے۔ بعد از خرابی بسیار دونوں پارٹیوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ اکیلے اکیلے نہ سیاسی لڑائی لڑی جاسکتی ہے اور نہ کوئی دیرپاسیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکتا۔ نواز شریف کی بیماری اور آصف علی زرداری کی گرفتاری دونوں کو یکجا کیا جائے تو ملک کے دو بڑے صوبوں میں آواز کی گونج ضرور سنائی دے گی۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ بلاول نواز ملاقات میں اس ترکیب پر بات چیت ہوئی اور فیصلہ بھی ہوا۔ اس پر بات چیت یقیناًہوئی ہوگی ۔ کیونکہ اس کے بعد وزیراعظم عمران خان سے لیکر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید تک سب بلاول بھٹو کو ٹارگیٹ کئے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ بلاول کا بڑھتا ہوا رول ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کریہ بات بھی ہے یہ تنقید اصل میں اس حکمت عملی پر ہے جس کی بلاول قیادت کرنے جارہے ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ میں سندھ اور پنجاب خود کو موجود نہیں سمجھتے۔ یہ دونوں صوبے خود کو سیٹ اپ سے باہر سمجھتے ہیں۔ لہٰذا دو بڑے صوبوں کا آپس میں اتحاد اہم صورتحال پیدا کرسکتا ہے۔یہاں ایک اور مسئلہ ہے۔ پیپلزپارٹی اپنی سندھ میں حکومت گنوانا نہیں چاہے گی۔ جب کہ نواز لیگ کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ نواز شریف کا معاملہ سزا کے بعد نمٹ چکا ہے۔ ان کی پیرول وغیرہ پر رہائی اور علاج کا مسئلہ ہے۔جو نسبتاً آسان ہے۔ آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف ابھی کارروائی ہونا باقی ہے۔ اس لئے دونوں جماعتوں کے مفادات یکساں نہیں۔ پیپلزپارٹی صرف سندھ میں ہے، جس کو عمران خان اپنا پاور بیس نہیں مانتے۔لہٰذا آصف علی زرداری ان کا حریف نمبر ون نہیں۔ پنجاب ہر حال میں پاور بیس ہے، لہذا نواز شریف عمران خان کا حریف نمبر ون ہے۔ وقت کم ہے ۔ کیونکہ رواں سال نومبر میں کچھ اور بھی تبدیل ہونے والا ہے۔ آخری بات یہ بھی ہے کہ میدان میں صرف پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ہی نہیں ، مقتدرہ حلقے اور حکومت بھی ہے۔ دیکھیں گلے چند ہفتوں میں صورت حال کیا کروٹ لیتی ہے۔


ای پیپر