مسلمانوں کے صبر کا امتحان
18 مارچ 2019 2019-03-18

کئی دہائیوں سے جاری دہشت گر دی کی جنگ کا نقطہ عروج بنا تھا نائین الیون ،پھر اس جنگ کو لے کر دنیا بھر کے مسلمانوں بناتھا دنیا بھر کے مسلمان افغانستان سے عراق،پھر صدام سے قزافی اور اب شام آگے کس کی باری ہے کچھ پتا نہیں ہے۔پاکستان کے عوام نے بھی اس کی خاصی قیمت ادا کی ہے۔ جنگیں کرنے کے باوجود عالمی مسائل جوں کے توں ہیں۔ نقصان کس کا ہوتاہے،خون کا رنگ توسرخ ہے۔یہ تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھاکہ نیوزی لینڈ جیسی امن کی جگہ سے ایک دن بے گناہوں کے خو ن سے فوارے پھوٹ پڑیں گے ۔ایک جنونی شخص اچانک اکیلا اتنی خوفناک واردات کرے گا کہ گا کہ پوری دنیا ہل کر رہ جائے گی اس واردات میں نوپاکستانیوں اورچھ بھارتی مسلمانوں سمیت پچاس مسلمانوں کو موت کی نیند سلا دے گا۔ پولیس کمشنر مائیک بش نے میڈیا کو بتایا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں 28سالہ حملہ آور نے خود کو سفید فام برتری کے نظریے کا حامی قرار دیاہے اور اس نے اپنی اس کارر وائی کو فیس بک پرلائیو اسڑیم بھی کیا تھا۔ تاریخ دیکھی جائے تو سفید فام برتری کے نظریے کی خود سفید فاموں نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ امریکہ نے خود اس اس نظریے کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا ہے۔ نفرت کے اس نظریے کے خلاف امریکہ خانہ جنگی کی کیفیت میں رہا۔سفید برتری کے نظریے کو رد کرتے ہوئے مارٹن لوتھر نے بتایا تھا کہ میرے بھی کچھ خواب ہیں مگر سفید ان خوابوں کو نہیں مانتے تھے پھر کیا ہوا اپنے خوابوں پر مارٹن لوتھر قربان ہو گیا۔جب اس کا خون گرا تو اس کا رنگ کالا نہیں تھا ،بلکہ سفید فاموں کی طرح سرخ تھا۔1960کی دھائی کے آخری دو سالوں میں امریکہ میں ایسی بے چینی برپا ہوئی کہ رہے خدا کی پنا۔ آخر کا رنفرت کا نظریہ امریکہ میں دفن ہوگیاپھر تاریخ یوں بھی رقم ہوئی کہ ایک دی امریکیوں نے سفید اور کالے کے نظریے سے بالاتر ہو کر اپنے لیے ایسے رہنما کے طور پر صدارتی ٹرم کے لیے اپنا صدر چن لیا جو ان کے مسائل حل کرنے کے لیے پورے امریکا میں بہترین تھا۔۔ مارٹن لوتھر کا خون رائیگاں نہیں گیا۔یہ آج جو نفرت کی دیواریں بنانے کا معاملہ امریکی صدر اور سینٹ کے درمیان ہے کافی نقصان دہ ہو سکتا ہے ،ساوتھ افریقہ میں نسل پرستی کو شکست تو کل کی بات

ہے یہ معاملہ ایک یا زیادہ لیڈروں کے خلاف کارروائیوں سے ختم نہیں ہوتا۔پھر کیا ہوا کئی دہائیاں جیل میں گزارنے کے بعد بھی شکست کس کی ہوئی ۔جیل سے ساوتھ افریقہ کی نسل پرستی کی کہائی کا سرا کہاں تک جاتا ہے۔ نیلسن منڈیلا نے یہ فاصلہ لمحوں میں طے کر لیا۔ایک این آرو نے سارا قصہ پاک کر دیا۔آج کے حکمرانوں کے لیے یہ سیکھنے کی بات ہے نفرت تو قوموں کو کھا جاتی ہے۔یورپ ایک صدی سے نسلی برتری میں بہت کچھ ہار گیا۔گزری صدی کی دو جنگوں میں نفرت جیتی یا ہاری اس کا فیصلہ تو اب تک نہیں ہوا اگر ہوا ہوتا تو کرائسٹ چرچ کا واقعہ نہ ہوتا۔ہٹلر کی قوم کو پہلی جنگ میں بڑی ہزیمت اٹھانا بڑی تھی اب جرمن قوم کی نسلی بالا دستی کا سوال تو تھاہی جس سے یورپ کی مختلف نسلوں کے دس کروڑ انسان تباہ و برباد ہو گئے۔ جب نسل پرستی کا ماضی اتنا گھناونا ہے تو مستقبل کیے تابناک ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں نسل پرستی کے خلاف قاتل کو ملامت کرے کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر اس بار نشانہ بنے ہیں نیوزی لینڈ میں بسنے والے مسلمان، دوسری طرف نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جو بے خوف و خطر عوام میں آگئیں۔ انہوں نے خود سارا وقو عہ بیان گیا اور میڈیا کو بتایاکہ ۔ ’’کرائسٹ چرچ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی اطلاع انہیں بہیمانہ واردات سے صرف نو منٹ قبل ملی تھی، جسے انہوں نے اگلے دو منٹوں میں سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچا دیا تھا۔یہ اطلاع کرائسٹ چرچ میں 50 افراد کی زندگیوں کے چراغ گل کرنے والے دہشت گرد کے ایک بیان پر مشتمل تھی، جسے اس نے انٹرنیٹ پر بھی جاری کیا۔ کیوی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے صحافیوں کو بتایا کہ میرے علاوہ دہشت گرد برینٹن نے اپنا بیان 30 دوسرے افراد کو بھی بھیجا جو 74 صفحات پر مشتمل تھا، بیان کا مطالعہ کیا ۔ جس میں مسلح دہشت گرد نے اپنی بزدلانہ کارروائی کے اسباب وعلل بیان کئے تھے۔’’ہمارے لئے اپنے ملک میں انتہا پسندی کے بیان کی موجودگی اور فروغ انتہائی پریشانی کی بات ہے۔‘‘ یہ تھے وہ حالات جب جنونی مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے،اس اطلاع کے اگلے دو منٹ کے بعد یہ اطلاع وزیر اعظم کی ایڈوائس سے متعلقہ ادارے تک جاتی ہے۔ چند منٹوں کی مہلت ناکافی تھی واردات کی جگہ کا بھی علم نہیں تھا ۔جب مدد کے لیے آنے والے پہنچے قاتل اپنا کام کر چکا تھا۔قاتل کوبھاگنے نہیں دیا گیا۔دبوچا گیا اور قانون کے کٹہرے میں لایا گیا فرد جرم تک عائد کردی گئی۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا کردار ایک مثالی حکمران کا تھا۔وہ ماتمی لباس پہن کر متاثرہ خاندان کو دلاسہ دے رہی تھیں۔ ساہیوال سانحہ کی طرح نہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے دن نہیں مہینے گزر گئے نہ قاتل کا پتہ اور نہ انصاف کا ۔ قا تل نے جو ویڈیو اپ لوڈ کی تھی اس میں دیکھا جا سکتا ہے ایک پاکستانی ہیرو سب کو بچانے کے لیے اپنی زند گی کی بازی لگاتا ہے۔ جس نے قاتل کو کرائسٹ چرچ کی النور مسجد میں ہوئے حملے کی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب حملہ آور مسجد کے مرکزی حصے کی طرف جانے کی کوشش میں تھا، تو ایک شخص نے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔اس دوران بہت سے نمازی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے تھے جس شخص نے حملہ آور کو کچھ دیر کے لیے روکا تھا، وہ یہی پاکستانی شہری نعیم رشید تھا۔۔ اس بہادر نوجوان کا نام تھا نعیم رشیدجس کو حکومت پاکستان نے قومی ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کیاہے ۔ ۔ وہاں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی انسان دوستی اور مسلمانوں سے محبت مسلمان کبھی نہیں بھولیں گے۔


ای پیپر