جناب وزیر اعظم ، یہ ہیں کرنے کے کام
18 مارچ 2019 2019-03-18

عوامی حلقوں کی خواہش ہے کہ وفاقی حکومت انفراسٹرکچر ، توانائی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سمیت ملکی ترقی کے حوالے سے آئندہ 53 ماہ کے لیے پلان تشکیل دے۔ اس ضمن میں وزیراعظم کی صدارت میں اعلیٰ سطح کے طویل اجلاس بلائے جائیں اور میں اہم فیصلے کیے جائیں۔ اس اجلاس میں حکومت کی حالیہ کارکردگی ، انفراسٹرکچر، ڈویلپمنٹ، توانائی اور سماجی ترقی کے منصوبوں کاجائزہ لیا جائے۔ یہ بھی جائزہ لیا جائے کہ کون سے منصوبوں کی ترجیحی بنیادوں پر تکمیل عوامی مفاد میں ہوگی۔وزیراعظم تمام اہم منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے خود نگرانی کریں ۔ وزیراعظم بیورو کریسی کو ہدایت کریں کہ انتخابات 2023ء سے قبل بجلی کی کمی پوری کی جائے تا کہ لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے۔ اجلاس میں سی پیک منصوبوں کی رفتار اور معیار جانچنے کے لیے میکنزم تیار کیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک سٹیرنگ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے، جس کے سربراہ وزیر اعظم خود ہوں ۔ اجلاس میں گوادر ایئر پورٹ، اسلام آباد ایئر پورٹ، لاہور کراچی موٹر وے، ملتان سکھر موٹر وے کے جاری منصوبوں کا بھی جائزہ لیا جائے۔ وفاق کی طرف سے صوبوں میں جاری منصوبوں ، ترقیا تی سکیموں ، ہسپتالوں کی تعمیر کا بھی جائزہ لی جائے۔ وزیراعظم فرداً فرداً تمام وزراء کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیں۔ وزیراعظم ہدایت کریں کہ تمام منصوبوں میں شفافیت کو برقرار رکھا جائے۔ ان کی جانب سے انتباہ کیا جائے کہ کسی بھی منصوبے میں کرپشن ، بے ضابطگی پر سخت ایکشن ہو گا۔ وزیراعظم اگلے55ماہ میں ماہانہ بنیاد پر ہر محکمے، ڈویژن اور وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں ۔ منصوبوں کی بروقت اور شفاف تکمیل کے لیے وزیراعظم بیوروکریسی کے فرض شناس اور

دیانتدار افسروں کو ذمہ داری سونپیں۔ وزراء کو ٹاسک دیا جائے اور پورا نہ ہونے کی صورت میں جواب طلبی کی جائے ۔ وزیراعظم منصوبوں کاجائزہ لینے کے لیے متعلقہ مقامات کا دورہ کریں ۔ وزیراعظم بیورو کریسی کو ہدایت دیں کہ گڈ گورننس برقرار رکھیں۔ شکایت کی صورت میں نہ صرف ایکشن لیا جائے بلکہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی کی جائے۔ وزیراعظم ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ملک بھر کا دورہ کریں اور اس سلسلے میں عوامی اجتماعات اور جلسوں سے بھی خطاب کریں تا کہ وہ عوام سے براہ راست اپنی بات کہہ سکیں اور عوام کے جذبات اور مسائل سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ غیر جانبدار حلقے سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کو عوام سے براہ راست رابطہ مضبوط کرنا چاہیے۔ وزیراعظم کو پارٹی کی تنظیم کو بھی نئے سرے سے بہتر کرنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ وہ کئی بار اس بارے میں اعلانات کرتے رہے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ پارٹی کے عہدے داروں کو فعال اور تنظیمی ڈھانچے کو مضبو ط کیا جائے تا کہ عام آدمی کے ساتھ ان کا رابطہ بڑھے اور عوام کی مشکلات اورمسائل سامنے آ سکیں اور ان کے حل کا راستہ نکالا جا سکے۔

حکومت اور وزیراعظم کو اس امر کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ان کے عرصۂ اقتدار کے تقریباً 3ماہ گزر چکا ہے۔ اس دوران پارلیمان میں سیاسی افراتفری، دھرنوں کی دھمکیوں، امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے حکومت اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ حکومت کے پاس تقریباً 56ماہ کا عرصہ باقی ہے۔ اب حکومت اور وزیراعظم نے جن عزائم کا اظہار کیا ہے ان کو پورا کرنا اشد ضروری ہے۔ وزیراعظم خود ہر کام کی ذمہ داری لے رہے ہیں ۔ جبکہ حکومتی وزراء اور اعلیٰ حکام کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے وہ خود اپنے ہر کام کو مقررہ وقت میں مکمل کریں۔ اپنی کارکردگی کو بہترین بنائیں اور اپنے اپنے محکمے کے ذمہ دارو حکام کو ہر کام بروقت مکمل کرنے کے لیے متحرک اور کوشاں رکھیں۔ کیپٹن یا لیڈراپنی ٹیم کے بل بوتے پر تمام مشکلات و مسائل کا سامنا کرتا اور لڑتا ہے۔ جناب وزیراعظم کو اپنی ٹیم کو باقاعدہ ذمہ داریاں اور اختیارات سونپ کر اسے فعال بنانا ہو گا۔ واضح رہے کہ عوام حکمرانوں کی کارکردگی دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں ۔ مسلم لیگ ن اپنے گزشتہ پانچ سال کے اقتدار کے بعد وفاقی کے اقتدار سے باہر ہو چکی ہے۔ پنجاب، بلوچستان ، کے پی کے اور سندہ کے رائے دہندگان نے ن لیگ اور اس کی قیادت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اسے فارغ کر دیا ہے۔ اب موجودہ حکومت جن منصوبوں پر کام کر رہی ہے یہ منصوبے مکمل ہوں ، عوام کو تبدیلی نظر آئے ، کچھ کام بہتر ہوں تو لوگوں کو تسلی ہو گی۔ لوڈشیڈنگ بہت بڑا مسئلہ ہے حکومت کو اس کے حل کے لیے کئی منصوبوں پرکام کرنا ہوگا۔ وزیراعظم کے دل میں اس امر کا احساس موجود ہے کہ یہ اہم ترین مسئلہ ہے۔ وزیراعظم نے 2018ء کی انتخابی مہم میں اسے حل کرنے کے وعدے کیے تھے۔ آپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد طے کیا تھا کہ ہر وزارت اور وزیر کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا مگر آپ کما حقہ ایسا نہیں کر سکے لیکن کابینہ میں توسیع صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ جو ارکان کام کرنے والے ہیں ان کو آگے لایا جائے۔ ان کو کام کرنے کا موقع دیاجائے تا کہ حکومت کی کارکردگی میں مزید بہتری آ سکے۔ ایسے وزراء جن کی کارکردگی مؤثر نہیں انہیں تنبیہ کی جائے اور چند ماہ میں کارکردگی بہتر کرنے کا موقع دیاجائے۔ اگر وہ کام بہتر نہ کر سکیں تو ان کی جگہ اہل اور با صلاحیت افراد کو ذمہ داری سونپی جائے۔2023ء کے الیکشن میں لوگوں نے آپ کی 5 سالہ کارگزاری پر آپ کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے لہٰذا اب کسی کمزوری یا تاخیر کی گنجائش نہیں صرف کام کی ضرورت ہے تا کہ ملک آگے بڑھ سکے اور عوام کو بہتر حالات کار میسر ہوں۔


ای پیپر