کیا ارکان اسمبلی عوام سے بھی زیادہ غریب ہیں؟
18 مارچ 2019 2019-03-18

امید ایک ایسا سر سبز درخت ہے کہ اگر اس یاسیت اور یبوست کا سایہ جس قدر بھی گہرا ہو جائے مگر اس درخت کا آخری برگ سوکھنے یا جھڑنے تک بہتری کا پہلو اور کرن دکھائی دیتی رہتی ہے۔ آگے سے آگے بڑھنے اور فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا حوصلہ باقی رہتا ہے۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ملک عزیز کے ساتھ جو جو کھلواڑ ہوئے، ان کی باقیات آج تک بھی نظر آ رہی ہے بلکہ اپنے پورے جوبن کے ساتھ موجود ہیں۔ ہر دور کے حکمرانوں نے عوام کو سر سبز باغ دکھائے اور پھر بر سر اقتدار آ کر عوام کی امیدوں پر پانی پھیرا اور ان کی قسمت اور جذبات کو مجروح کیا ۔

کسی آمر نے اپنی آمریت کا سبزا سبز رکھنے کے لیے مذہب کا لبادہ اوڑھا اور کسی نے روٹی کپڑا مکان کا ایسا اشتراکی نعرہ لگایا کہ عوام کے ہاتھ تو کچھ نہ آ سکا مگر نعرے کی گونج ابھی بھی باقی ہے۔ کسی نے خود کو قائد عوام اور قائد جمہوریت کی مسند پر بٹھاتو لیا مگر جمہور کے لیے بے دری کے در واکر دیئے۔ کسی نے اپنے آپ کو خادم اعلیٰ ڈکلیئر کیا مگر خادم ہونے کا ثبوت نہ دیا۔ ایک من چلے نے تو یہاں تک مدح سرائی کو شرمندہ کیا کہ زرداری صاحب کو ’مردِ حر‘ قرار دے دیا۔ جس ملک میں کرسی بچانے کے لیے تمام حدیں عبور کر دی جائیں تو اس ملک کی عوام کا حوصلہ ہے کہ وہ ہر طرح کے ظلم و ستم سہہ کر بھی زندہ ہے اور اس لولی لنگڑی جمہوریت کا ساتھ دے رہی ہے اور وہ بھی ایسی جمہوریت جو جمہور اور جمہوریت کی روح سے نا آشنا ہے۔ 2018 ء ایسا سال تھا کہ عوام نے اپنے مجروح جذبات، ٹوٹی ہوئی امیدیں، متزلزل ارادوں، شکستہ خوابوں کو یکجا کر کے عمران خان کا ساتھ دیا تاکہ یہ دیا کوئی ایسی روشنی بکھیرے جو معاشی، سماجی اور معاشرتی گھٹا ٹوپ اندھیروں کو اڑا کر لے جائے۔ عوام کے نزدیک عمران خان کی حکومت امیدوں کا وہ سورج تھی جو بہت جلد عوام کی کالی قسمت میں سویرا کر دے گی۔ مگر یہاں پر کچھ نہیں بدلا۔ کچھ نہیں بدلا۔ بقول ’’خاموش صدائیں‘‘کے خالق مرزا سکندر بیگ

خالی ہاتھوں میں دعائیں رہ گئیں

ملبے کے نیچے صدائیں رہ گئیں

اس قدر تھا جان لیوا حادثہ

چیختی بن میں صدائیں رہ گئیں

مٹ گئے کتنے گھرانے شہر میں

آگ میں جلتی ردائیں رہ گئیں

زلزلے کی دھول اندھا کر گئی

کتنے ہی بیٹوں کی مائیں رہ گئیں

آخر کار موجودہ حکومت نے بھی وہی روش اختیار کی جو سابقہ حکومتیں اختیار کرتی رہیں۔ ڈالر کی قیمت گری، مہنگائی ہوئی ، گیس بڑھی، بجلی بڑھی کھادوں کی قیمت میں اضافہ ہوا، پٹرول بم گرے اور عوام کی جان شکنجے میں آ گئی۔ عوام کو کسی قسم کا کوئی ریلیف نہ ملا۔ رہی سہی کسر ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں 200 گنا اضافہ کر کے نکالی۔ ارکان اسمبلی میں کوئی ممبر ایسا نہیں ہے جو غریب ہو یا پھر اس کا گزارہ صرف تنخواہ پر ہو رہا ہے۔ کوئی ممبر ایسا نہیں ہے جس کی جائیداد نہ ہو ۔ کوئی اس بات سے مستثنیٰ نہیں ہے کہ اس کا بینک بیلنس نہ ہو۔

ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ کی سابق تنخواہ 59 ہزار سے بڑھا کر 3 لاکھ 75 ہزار ، مہمانداری الاؤنس 50 ہزار ،لاہور میں رہائش نہ ہونے پر تا حیات گھر، 5 سکیورٹی گارڈ، 25 سو سی سی گاڑی، ڈرائیور ، پرسنل سیکرٹری، 2 کلرک اور دس ہزار ٹیلی فون الاؤنس ہے۔ اسی طرح ایک وزیر کی تنخواہ 45 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ بچاسی ہزار اور مہمانداری الاؤنس 40 ہزار روپے کر دیا ہے۔ اسی طرح اسپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار کر دی ہے۔

ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ پینتالیس ہزار کے ساتھ مہمانداری الاؤنس 25 ہزار طے ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ارکان اسمبلی کی تنخواہ 83 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کر دی ہے۔ رکن اسمبلی کو تنخواہ کے علاوہ ڈیلی الاؤنس، ہاؤس رینٹ، یوٹیلٹی بل، مہمانداری الاؤنس اور ٹریولنگ الاؤنس بھی دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پارلیمانی سیکرٹری کی تنخواہ 56 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 47 ہزار کر دی ہے۔ سپیشل اسسٹنٹ کی تنخواہ کے ایسے پر لگے کہ وہ اڑتی چڑیا کے پر گننے لگے ہوں گے۔ موصوف کی تنخواہ انسٹھ ہزار سے اٹھا کر ایک لاکھ پچاسی ہزار کر دی گئی ہے۔ مشیر جسے ہم عرف عام میں مشورہ ’خانم‘ یا ’ماسی پھپھے کٹنی‘ کہتے ہیں ان کی تنخواہ 54 لاکھ سے ایک لاکھ 85ہزار کر دی ہے۔ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ جس تواتر اور لگن ان لوگوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے کیا یہ خزانہ ان کا ذاتی ہے؟ کیا وزیر خزانہ نے یہ تنخواہیں اپنی جیب سے دینی ہیں؟ پلے نہ ڈھیلا کر دی پھرے میلہ میلہ ( جیب میں روپیہ پیسہ نہیں اور میلے پر جانے کے لیے شورو غوغا کیا ہے) خزانے میں تو ایک پیسہ نہیں۔ بغیر شرائط کے قرضہ لینے کے لیے ہم دوسرے ممالک کی منت سماجت کر رہے ہیں۔ ڈیم بنانے کے لیے ہم عوام کی داڑھیوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں۔ ان کے سامنے ہاتھ جوڑ رہے ہیں۔ عوا م کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر خزانے کو پورا کر رہے ہیں۔ ارکان اسمبلی کی عیاشیوں کے لیے ہمارے پاس وافر رقم موجود ہے۔ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والے نے شاید بنی اکرم ؐ کی یہ حدیث نہیں پڑھی ہو گی نبی ؐ نے فرمایا:’ہم جس آدمی کو منصب یا عہدہ پر فائز کریں اور اسے باقاعدہ تنخواہ بھی دیں، اس کے بعد اگر وہ ( اپنی تنخواہ یا پیکج سے زائد) کچھ بھی وصول کرے گا تو یہ خیانت ہو گا‘۔

اب اگر وزیراعظم صاحب نے اپنی حکومت کے غلط اقدامات پر سخت مایوسی کا اظہار کرے اور اسمبلی میں اکثریت کے باوجود انہیں واپس لینے کا حکم نہ دیں تو جان لیں سب دھوکہ ہے، ملی بھگت ہے اور آپ تبدیلی کے نام پر پھر بے وقوف بن چکے ہیں۔

وزیر خزانہ صاحب اور وزیراعظم صاحب یہ غریب ملازم ( استاد، کلرک اور دیگر ملازم) بلک رہے ہیں۔ ضرورتیں بڑھ گئی ہیں، مہنگائی حدوں کو تجاوز کر گئی ہے، ان کی طرف بھی توجہ دیجئے۔ سب چیزیں اپنے اور اپنوں کے دامن میں نہ ڈالیے۔ ان کا بھی خیال کیجیے۔ یہ بھی پھولوں کے مستحق ہیں۔ انہوں نے خاروں پر چل کر آپ کو گلشن کا محافظ بنایا ہے۔ انہوں نے پتھروں پر چل کر آپ کے راستوں میں کہکشائیں جلائی ہیں۔ اگر آپ اور آپ کی حکومت اس غریب عوام کی حفاظت نہیں کرے گی تو آپ کی حکومت کا اور سابقہ حکومت کا کوئی موازنہ نہیں ہو گا۔ اگر اپنا توازن اور مورال قائم رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کی حکومت کو انصاف سے کام لینا ہو گا۔ نہیں تو آپ بھی غاصبوں، چوروں اور ڈاکوؤں کی صف میں شمار ہونے لگیں گے۔ بقول مرزا سکندر بیگ:

یہ پھل پھول جلتے شجر دیکھتے

یہ محنت کا میری ثمر دیکھتے

فقیروں سے ملنے کی تھی آرزو

تو رستے میں کچا سا گھر دیکھتے

مقید تھے سب ذات کے خول میں

سکندر کسی کو کدھر دیکھتے


ای پیپر