ابھی خزاں باقی ہے۔۔۔؟
18 مارچ 2019 2019-03-18

حاکم وقت نے قومی خزانہ بھرنے کے لیے عوام سے رجوع کیا ہے کہ ان پر مہنگائی مسلط کر دی ہے اور ٹیکس نافذ کر دیئے گئے ہیں!

ان کی آمدنی وہی پہلے والی ہے بلکہ اس میں کمی واقع ہوئی ہے لہٰذا غالب اکثریت کے منہ سے آہیں نکل رہی ہیں۔۔۔جان کی امان پاؤں تو ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا آپ کو علم تھا کہ حالات کو کیسے قابو کیا جاتا ہے اور معیشت کو مضبوط بنایا جاتا ہے اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ افراتفری اور نا انصافی کیوں ہے اگر نفی میں ہے تو پھر حکمرانی کا اختیار حاصل کیوں کیا گیا۔۔۔؟

پورے ملک میں سینہ زوری سے لے کر حرام خوروں تک کی من مانیاں جاری ہیں ۔ بیواؤں اور کمزوروں کی جائیدادیں قبضہ گروپوں نے ہتھیانا شروع کر رکھا ہے ملاوٹ کرنے والے پورے دھڑلے سے اپنا دھندہ کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ بازاروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں وہ ناجائز تجاوزات کی نذر ہو چکے ہیں۔ بھتہ وصولنے کا رجحان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ۔۔۔ صوبہ پنجاب میں تو ہر نوع کی خرابی اپنے عروج پر ہے حکومتی و سرکاری عہدیداران اپنی ’’کارکردگی‘‘ ظاہر اً تو دکھا رہے ہیں مگر عملاً پرنالہ وہیں کا وہیں ہے ۔

کوئی ایک ایسا سویلین ادارہ ایسا نہیں جہاں رشوت نہ لی جاتی ہو؟ تھانے اب بھی بکتے ہیں، پٹواری اب بھی منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں۔ علاقے سرکاری و غیر سرکاری طور پر تقسیم کیے جاتے ہیں ان میں جتنے بھی ذرائع پیداوار و آمدن ہوتے ہیں چند طاقتور ان سے مستفید ہوتے ہیں۔ میرا دوست جاوید خیالوی اور بھی بہت کچھ کہتا ہے جو پھر کسی کالم میں رقم کیا جائے گا۔۔۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کہاں ہے اس کے وزیر مشیر کیا موج میلہ کرنے آئے ہیں۔۔۔ دعوے تو وہ بڑے کر رہے تھے کہ جب وہ آئیں گے تو لوگوں کو ایک نیا خوشگوار احساس ہو گا وہ واضح تبدیلی کو محسوس کریں گے مگر ان کا تو برا حال کر دیا گیا ہے ۔۔۔ آئے روز ان کے عام استعمال کی اشیاء کو مہنگا کیا جا رہا ہے ۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا یہ جرم ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار کے قابل بنا دیا۔۔۔ اُدھر اس کے

کارکنان میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے وہ کہتے ہیں کہ انہیں پوچھا تک نہیں جا رہا جو اِدھر اُدھر سے آئے وہ قبضہ کر بیٹھے ہیں۔ ان کی جماعت اور ان کے نظریات پر لہٰذا وہ بے یار و مددگار کبھی عمران خان کو اور کبھی ان کی وزارت عظمیٰ کو دیکھتے ہیں مگر کوئی بھی ان کو دلاسہ نہیں دے رہا۔۔۔ لہٰذا یہ حالت تو ان کی ہے عوام کے مصائب و الم کو کون سمجھے کون ان کے خاتمے کے لیے آگے آئے۔۔۔؟

بس احتساب احتساب کی گردان الاپی جا رہی ہے جو کدھر ہو رہا ہے اور کس کا ہو رہا ہے یہ سب کے سامنے ہے ۔۔۔ چند اہم شخصیات کے گرد ہی شکنجہ کسا گیا ہے جو آہستہ آہستہ نرم پڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔۔۔ خبریں مگر چلوائی جاتی ہیں کہ کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں پھر ڈیل کی افواہیں بھی اڑان بھرتی ہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا ہونے جا رہا ہے اگر کچھ آ رہا ہے تو یہ کہ عوام کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کا اژدھا زور سے پھنکارے گا۔۔۔ ٹیکسوں کا طوفان برپا ہو گا۔۔۔ یہ درست ہے کہ عمران خان کی نیت صاف ہے مگر جن کی نیت میں فتور ہے وہ کیسے عوام کا بھلا چاہیں گے کیونکہ ان کا تعلق اشرافیہ سے ہے اور اشرافیہ کب نچلے طبقے کو پھلتا پھولتا دیکھ سکتی ہے لہٰذا جب دانشور حلقے انہیں عمران خان کو اپنے تجزیوں میں بتا رہے تھے کہ یہ ساتھ رہتے ہیں تو ان کے لیے مسائل میں اضافہ کریں گے اب جب اقتدار میں ہیں تو وہ کچھ ڈلیور نہیں کر پا رہے جس کی توقع کی جا رہی تھی یا انہوں نے جو عوام سے وعدے کیے تھے وجہ اس کی یہی ہے کہ کہیں نہ کہیں یہ ’’کاریگر‘‘ اپنے اختیارات کا استعمال کر رہے ہیں اور معاملات کو پٹڑی پر نہیں آنے دینا چاہتے؟ بہرحال عمران خان وزیراعظم پاکستان اپنے تئیں کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کی حالت زار کو ٹھیک کیا جائے مگر صورت حال کچھ ایسی ہے کہ انہیں مجبور کر رہی ہے کہ وہ سخت اقدامات کریں جو یقینی طور سے غریب و کمزور عوام کو ازیت میں مبتلا کر رہے ہیں لہٰذا ایسا لگتا ہے کہ عوام کو فقط نعرے لگانا ہے اپنے نمائندوں کو کندھوں پر اٹھانا ہے اور ووٹ ڈال کر انہیں کامیاب کروانا ہے وہ ان کے لیے خوشحالیاں لاتے ہیں کہ نہیں اس سے انہیں کوئی غرض نہیں؟

آنے والے دنوں میں بھی جب عام انتخابات ہوں گے تو وہ ایک بار پھر نئے نمائندوں کو منتخب کر کے ایوانوں میں پہنچا دیں گے جو وہاں آپس میں لڑنے جھگڑنے کی اداکاری کریں گے۔۔۔ واک آؤٹ کریں گے منہ سے جھاگ بھی اڑائیں گے ایک دوسرے پر کیچڑ بھی اچھالیں گے مگر جو کام کرنے کا ہے وہ نہیں کریں گے کیونکہ انہیں عوام سے کوئی دلچسپی نہیں ان کے مسائل کا بھی انہیں کوئی خیال نہیں وہ تڑپیں اپنی عزتیں لٹوائیں اپنی جمع پونجیوں سے ہاتھ دھوئیں اور انصاف کے حصول کے لیے پوری عمر گزار دیں!

کیا اس کے لیے لوگوں نے تبدیلی سرکار کا انتظار کیا اور اس کو با اختیار بنایا کہ وہ آ کر انہیں رُلا دے۔ اب کوئی حکومتی عہدیدار کہہ سکتا ہے کہ ابھی تو حکومت کو آئے سات ماہ ہوئے ہیں لہٰذا اسے دیکھنا ہو گا مگر عرض ہے کہ یہی ماہ ہوتے ہیں جن میں حکومتی پروگرام سامنے آتا ہے اور وہ آ چکا ہے ؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ موجود ہ نظام کو تبدیل کیا جاتا کیونکہ ہر حکمران نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا حصہ بن جاتا ہے اور ان ہی خطوط پر چلتا ہے جو یہ اسے دکھاتا ہے لہٰذا عمران خان لاکھ کوشش کریں انہیں مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے ہاں اگر وہ اپنے ہمراہ نظام مخالف لوگوں کو لے کر چلتے ہیں تو وہ خوابوں کی تعبیر دیکھ سکتے ہیں مگر اب شاید ان کے لیے ممکن نہ ہو کیونکہ انہوں نے گاڑی چھوڑ دی ہے لوگوں کے دلوں میں جو ولولہ اور عزم تھا اسے کافی مایوسی ہوئی ہے لہٰذا وہ بددل ہیں یہی خاص لوگ چاہتے تھے۔۔۔ لہٰذا وہ ایک بار پھر اقتدار کے ایوانوں میں خود کو منظم کرنے جا رہے ہیں اگرچہ کہا جا رہا ہے کہ وہ حکومت کے لیے بے ضرر ہیں مگر قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہ اتحادی جماعتیں سیاسی منظرنامے کو تبدیل کرنے کی پوزیشن میں آ گئی ہیں انہیں احتساب کے ادارے اور عدالتیں بھی اپنے مقاصد سے نہیں روک سکیں گے کیونکہ مروجہ طریق کار میں ایسی جماعتیں کو کافی سہولتیں حاصل ہیں جن سے وہ بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے ۔ لہٰذا عوام کوچاہیے کہ وہ آپس میں الجھیں نہیں ، فاصلے پیدا نہ کریں اور ایک دوسرے کی دل آزاری نہ کریں۔


ای پیپر