خارش زدہ نوجوان
18 مارچ 2019 2019-03-18

دل تو چاہتا ہے ’’حکمراں بن گئے کمینے لوگ‘‘ کے حوالے سے کچھ لکھوں پھر سوچتاہوں جب بندہ خود ہی یہ سچ بیان کرتا ہے تو اُسے پھر یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ ’’کمینے سے کمینہ مل کر لمبا ہاتھ‘‘ ۔۔۔؟!! یہ محاورہ بھی تو کسی ایسے ہی فنکار نے ہی ایجاد کیا ہوگا ۔۔۔؟!!کیا تاریخ نہیں لکھی جا رہی ۔۔۔؟؟ کل جب حکومت بدلے گی تو لوگ نئی ’’جلد‘‘ میں پرانا مواد لگا کے کتابیں چھاپیں گے ۔۔۔ ؟!! پھر بھی تو کتیا کتیا ہوگی ۔۔۔؟!

کتے سے یاد آیا ۔۔۔لاہور میں سنا ہے 700 کے قریب لوگوں کو کتوں نے کاٹ لیا ہے ۔۔۔؟!!! ہے ناں پریشانی کی بات ۔۔۔ ؟! کارپوریشن والے سو رہے ہیں کتے جاگ بھی رہے ہیں اور بھونکتے بھی ہیں ۔۔۔ ؟! جبھی تو وہ انسانوں کو کاٹنے کی کوشش میں ہیں یا کہہ لیں کہ انسانوں کو کاٹنے کو دوڑتے ہیں ۔۔۔ ؟!!آج دل تو چاہتا ہے کچھ نہ ہی لکھوں تو بہتر ہے کیونکہ غصے میں لکھی تحریر میں مزاج گم ہو جاتا ہے ۔طنز نما کہا آ جاتا ہے ۔۔۔ اور جہاں طنز غالب آ جائے وہاں اپنے گریبان میں جھانکنے کو دل کرنا چاہتا ہے اور جب بندہ اپنے گریبان میں جھانکتا ہے تو سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں ملتا۔۔۔ اس حوالے سے استاد محترم جناب عطاء الحق قاسمی کا کالم جو کل نیٹ پر پڑھا آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے ۔۔۔ میں نے محسوس کیا کہ استاد محترم کبھی کالم لکھتے ہوئے غصہ طاری نہیں کرتے ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کالم پڑھتے ہوئے ۔۔۔ بندہ غصے میں نہیں آتا ۔۔۔ گدگدی سی محسوس کرتا ہے ۔۔۔؟!گدگدی اور خارش میں تھاڑا سا ہی فرق محسوس ہوتا ہے ۔۔۔ انسان کو مرض پر شروع میں ہی قابو پا لینا چاہیے ورنہ گدگدی ۔۔۔ بڑھتے ہوئے خارش کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پچھلے دنوں ہمیں اُس وقت اِک دوست کی ملازمہ گھر سے چپکے سے رُخصت ہو گئی ۔۔۔ دن کے اُجالے میں ۔۔۔ سراسیمگی پھیل گئی ۔۔۔ ماحول سنجیدہ ہو گیا ۔۔۔ جب اس کی عمر صرف اُنیس سال تھی ۔۔۔؟!!جدید دور ہے ۔۔۔ سب معاملات چلتے چلتے جب بات تھانے تک پہنچے بیچ میں سے ’’نکاح نامہ‘‘ نکل آتا ہے ۔۔۔ ؟!! حالانکہ اس وقت معززین ’’نکاح نامے‘‘ کی اہمیت پر زور دے رہے ہوتے ہیں اور اس کے فوائد بھی بیان کر رہے ہوتے ہیں لیکن یہ نو عمر جوڑے اس بات پر توجہ نہیں دیتے یا کہہ لیں کہ جلد بازی کر لیتے ہیں اور جلد بازی میں کئے جانے والے فیصلے یا کام اکثر اوقات پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں ۔۔۔؟!بات شروع ہوئی تھی ’’خواتین کے حقوق‘‘ والے دن ہونے گھریلوں ملازمہ کی ’’رخصتی سے‘‘؟!!ماحول سنجیدہ تھا ۔۔۔ بلکہ رنجیدہ تھا ۔۔۔ سب کے منہ پر بارہ بجے ہوئے تھے لڑکی کے باپ کو جب موبائل فون نمبر کی Location نکلوانے سے پتہ چلا کہ وہ تو مری کی حدود میں ہے ۔۔۔ دیپالپور سے مری کا سنو اِک افسانہ بنتا ہے ۔۔۔؟!! تو لڑکی کے باپ کو جب پولیس والوں نے لڑکے کا نام بتایا تو وہ سٹھیا گیا ۔۔۔ بات ہمارے کنٹرول سے باہر ہوتی چلی جا رہی تھی (بندہ پوچھے جوڑا مری کی حسین وادیوں میں کھویا ہوا ہے تب کوئی بات ہمارے ہاتھ کیسے آتی ۔۔۔؟!!)

ہم نے وضاحت طلب کی تو لڑکی کے باپ نے بتایا کہ یہ وہی اُنیس سال کا لڑکا ہے جو مجھے مسجد کے باہر ملا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے؟؟ میں بھوکا ہوں ۔۔۔ میں پیاسا ہوں ۔۔۔ میں بے روزگار ہوں ۔۔۔؟!! میں غیر شادی شدہ ہوں ۔۔۔ میری ابھی منگنی بھی نہیں ہوئی ۔۔۔ میرے ابھی مجھ سے بڑے پانچ بھائی بھی کنوارے ہیں ۔۔۔؟!! وغیرہ ۔۔۔ وغیرہ ۔۔۔ ؟؟!!!!اس نہایت سنجیدہ ماحول میں بھی میری ہنسی نکل گئی ۔۔۔؟!! اور میں محفل سے اٹھ کر باہر چلا گیا ۔۔۔ لڑکی کا بائیس سالہ بھائی بھی میرے ساتھ اُٹھ کر باہر آ گیا ۔۔۔؟!!’’ یہ اباّ جی کمال کے جاہل آدمی ہیں ۔۔۔ سیدھا کہتا وہ بے روزگار تھا میں نے رحم کمایا اور ظلم کمایا ۔۔۔ یہ لڑکے کے پانچ کنوارے بڑے بھائیوں کو ذکر کرنے کی بھلا کیا ضرورت تھی ۔۔۔؟!!یہی وجہ ۔۔۔ جب میں اور لڑکی کا بھائی دوبارہ پنچائت میں جا کر بیٹھے ہنسی کا فوارا پھر سے میرے منہ سے نکلا اور عین اسی وقت میں نے دیکھا کہ لڑکی کا بائیس سالہ بھائی بھی بے چارہ اپنی ہنسی کنٹرول نہ کر سکا ۔۔۔ ویسا ہی یہ منظر تھا جیسا ہمارا رات گئے ٹیلے ویژن چینلز پر چلنے والے پروگراموں میں اینکر ۔۔۔ نہایت سنجیدہ گفتگو کرنا چاہتے ہیں لیکن عمران خان کی کوئی پرانی Clips عین اسی وقت چلا دی جاتی ہے اور عوام نہیں نہیں کے ادھء مواء ہو جاتے ہیں ۔۔۔؟!

لڑکی کا باپ کہ رہا تھا ۔۔۔ ’’میں نے اس حرام زادے کی غیرت پر اس کی بھوک پر ترس کھا یا اور اُسے منت سماجت کر کے خان صاحب کے ہاں یہ ’’جھوٹ‘‘ بول کر کہ اس کے پاس پانچ سالہ ڈرائیونگ کا تجربہ بھی ہے۔ نوکری پر لگوا دیا مگر ’’ظالم‘‘ نے ایسا ڈنگ مارا کہ مجھے اٹھنے کے قابل نہ چھوڑا ۔۔۔؟ اب میں یہ حقیقت بھی سب کو بتاؤں گا کہ اُس لڑکے کو ’’ خارش ‘‘ کامرض بھی لاحق تھا ۔۔۔‘‘؟؟!میں سمجھ گیا کہ یہ ایسا نقطہ ہے جس پر لوگ لڑکی کے والد سے اظہار ہمدردی کریں گے اور اِس Point کو کافی اُچھالا جائے گا اور لوگ پریشان ہو ں گے کہ اچھی خاصی ’’معصوم‘‘ سادہ سی خوبصورت سی پھول جیسی لڑکی کو اِک خارش زدہ لے گیا ۔۔۔ یہاں ہمدردی پیدا ہوگی لڑکی سے لوگوں کو ۔۔۔ بعد میں میں نے محسوس کیا کہ لڑکی کے والد کی یہ بات اُس کے حق میں گئی۔ یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ لڑکی کو بھگا کے لے جانے والا ’’ خارش ‘‘ جیسے مرض میں مبتلا ہے لیکن افسوس اِس بار بھی ’’عشق‘‘ اندھا ہی ثابت ہوا اور طویل پنچا ئت کے بعد اور ’’حسب دستور‘‘ پیسے ختم ہو جانے پر جب یہ جوڑا واپس آیا ۔۔۔ اور لڑکی کے باپ نے یہ ’’تڑپ کا پتہ‘‘ پھینکا تو لڑکی نے ۔۔۔ یہ آخری بیان جاری کر کے ۔۔۔ ماحول کو مزید افسردہ اور معاملے کو دفن کر دیا کہ ۔۔۔’’میں باقی کی زندگی اِسی خارش کے مریض کے ساتھ گزارنا پسند کروں گی ۔۔۔؟؟‘‘کیونکہ ۔۔۔ ’’میری زندگی میری مرضی ۔۔۔میں چاہے خارش زدہ کے ساتھ گزاروں چاہے کسی اندھے کانے کے ساتھ ۔۔۔؟؟‘‘فلم سینما ہال میں چل رہی ہو تو یہاں یا تو گانا ڈالا جاتا ہے یا عوامی تالیاں ۔۔۔؟؟!!! کیونکہ جاتے جاتے وہ بولے ’’ابے کو بھی تو دس سال سے خارش کا مرض لاحق ہے‘‘ ۔۔۔؟!!


ای پیپر