Image Source : File Photo

فواد چوہدری نے نواز شریف کی خواہش سے پردہ اُٹھا دیا,بڑی پیشکش بھی کر دی
18 مارچ 2019 (17:26) 2019-03-18

اسلام آباد :وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نواز شریف کی بڑی خواہش منظر عام پر لے آئے ،ان کا کہنا تھا نواز شریف اور ان کی فیملی ملک سے باہر لندن میں اپنا علاج کروانا چاہتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق فواد چوہدری نے نواز شریف کو بڑی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ پلی بارگین کرنا چاہتے ہیں تو نیب کو باقاعدہ درخواست دیں ،انہوں نے کہا نواز شریف کو شوگر اور ہائیپر ٹینشن کا مسئلہ ہے ،جس کے علاج کیلئے انہیں سروسز ہسپتال بھی منتقل کیا گیا تھا ، 16 جنوری کو جیل اتھارٹیز نے پنجاب حکومت کو درخواست کی نواز شریف کی طبعیت ٹھیک نہیں ہم 17 جنوری سے سابق وزیراعظم کو انجیوگرافی کا کہہ رہے لیکن وہ پاکستان میں علاج نہیں کرانا چاہتے اور انجیوگرافی کرانے سے انکار کیا۔

22 جنوری کو نواز شریف کو پی آئی سی میں چیک کیا گیا اور ٹیسٹ کئے گئے، 25 جنوری کو محکمہ داخلہ کی سفارش پر چھ رکنی بورڈ بنایا گیا، 30 جنوری کو بورڈ نے نواز شریف سے جیل میں بات کی اور اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی۔ انہوں بتایا کہ میں پنجاب حکومت سے بھی نالاں ہوں کہ انہوں نے جیل قوانین سے ہٹ کر سہولیات دیں، نواز شریف اور شہباز شریف نے جتنے اسپتال بنائے انہیں وہ پسند نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی بیماریوں کی ہسٹری ہے ، 2001ءاور 2017ء میں ان کی اینجیو پلاسٹی ہوئی ،2016ء میں بائی پاس ہوا۔ یہاں کے ڈاکٹرز کی وجہ سے نواز شریف کے مرض میں کوئی پیچیدگی نہیں آئی بلکہ انہوں نے لندن میں جن ڈاکٹروں سے علاج کروایا ان کی وجہ سے پیچیدگی پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور نواز شریف کو بشمول اتفاق اور شریف میڈیکل سٹی کے کسی بھی اسپتال پر اعتبار نہیں جہاں سے وہ اپنا علاج کرائیں اور یہ ایک المیہ ہے۔

فواد چوہدری نے ایک دفعہ پھر نواز شریف اور اہلخانہ پر واضح کیا کہ عوام کا لوٹا ہوا پیسہ ہر حال میں واپس کرنا ہو گا ،اگر شریف خاندان یہ سمجھ رہا ہے کہ بیماری کا دیکھ کر ان کا احتساب رک جائے گا تو ایسا ہر گز ممکن نہیں ،احتساب ہر حال میں جاری رہے گا ،وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ پیسہ عدلیہ ،حکومت یا نیب کا نہیں ،بلکہ یہ غریب عوام کا پیسہ ہے جس کا حساب دینا ہوگا ، نواز شریف کے پاس پلی بارگین کی آپشن موجود ہے اگر وہ چاہیں تو اس آپشن سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اس کیلئے وہ نیب کو درخواست دیں تاکہ اس پر مزید کاروائی ہو سکے ۔


ای پیپر