وہ 10 سکینڈ ....
18 مارچ 2019 2019-03-18

بائیس سال کیسے گزرے ، لگ پتہ گیا۔جو چاہا ، نہیں کیا ، جو کیا ، وہ نہیں تھا چاہا۔ کثرت کی خواہش میں حاصل کو چھوڑ کر لاحاصل کی خواہش نے مارڈالا ۔روح اور جسم کی جنگ آج بھی جاری ہے اور یہی زندگی کا حاصل ہے۔ بچت یہ رہی ، خواب دیکھنا کبھی نہ چھوڑا ،برسوں پہلے کی وہ صبح یاد آگئی تو اب مرتے دم تک نہ بھولے گی۔

ا س رات ، شب بھر طبیعت اچاٹ رہی ،جیسے تیسے سورج طلوع ہوا تو دفتر کی راہ لی ، ہوا میں خنکی نے چہرے پہ اپنے ہونے کا احساس دلایا لیکن دل کا موسم بدل نہ پائی۔ لاہور کا کینال روڈ جہاں سے گزرنے کے ہمیشہ بہانے ڈھونڈے ،اس کادائیں پہلو میں ہونا بھی گداز پیدا نہ کرپایا، بائیں جانب پنجاب یونیورسٹی میں جرنلزم ڈیپارٹمنٹ گزرا تو یادوں کا ایک ریلا ساتھ چل پڑا۔ روز کی گزرگاہ ہونے کے باوجود کتنے ہی سال بیت گئے ، مادرعلمی میں حاضری لگوائے ہوئے۔ ایک ایک کرکے اساتذہ کے چہرے تصور میں ابھرنے لگے۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ، ڈاکٹر احسن اخترناز مرحوم ، ڈاکٹر اے آر خالد اور ڈاکٹر شفیق جالندھری کے مخصوص اندازیاد آئے تو کئی بار کی یقین دہانی ایک بارپھر دہرائی کہ جو حیات ہیں، جہاں بھی ہیں ، ایک بار قدم بوسی ضرور ہوگی۔ اپنے وعدے پر خودہی اداس دل ہنس دیا ، کمبخت جانتاتھا ، سب عیب ہمارے۔

کینال روڈ پر ایک کے بعد گزرتا دوسرا انڈرپاس خود سے کیے عہد یاددلاتا رہا۔ عمررفتہ میں کیے وعدے ایسے یاد آنے لگے جیسے آج فیصلہ ہوکر ہی رہنا ہے۔ماضی کی کوتاہیوں اور ناکامیوں کو بھول کر دل بہلانے کے لیے خوابوں کے نئے تاج محل تعمیر کرنے شروع کردیے۔ اپنی کامیابیوں کو یاد کرنے کی کوشش کی ، احباب کی جانب سے ملنے والے تعریفی جملوں کو حوصلہ بڑھانے کیلئے آزمایا۔ عہد کیا جرنلزم میں کالم لکھنے آیا تھا ،پھراخبار کی رپورٹنگ ، میگزین ، ایڈیٹرشپ اور ٹی وی کے نیوزروم میں زندگی کھپا دی۔ اب تو ضرور لکھوں گا۔ مال روڈ تک پہنچتے پہنچتے دل کو قرارآنے لگا۔ پھر سے امید کی کونپلیں پھوٹنے لگیں۔ کچھ کر دکھانے کی خواہش سراٹھانے لگی۔ دل ودماغ نئے خواب بننے لگے ۔ خیال بدلے تو چہرے کے تاثرات بھی بدلنے لگے۔ اسی ذہنی رو میں یاد ہی نہ رہا ، ایچی سن کالج اور میوگارڈن کے بیچوں بیچ گزرنے والی ٹھنڈی سڑک کے بجائے مال روڈ پر ٹرن لے لیا۔ صرف ٹرن ، یوٹرن نہیں۔

مال روڈ پر لگے درختوں کی چھاو¿ں نے رہی سہی کلفت دور کردی۔ دل شاد ہوگیا۔ دماغ نے طرز کہن پر اَڑنے کے بجائے آئین نو پر چلنے کا عہد کرلیا۔ خالم خالی سڑک پر آہستہ آہستہ چلتی ایلیٹ فورس کی گاڑی کو کراس کرتے ہوئے شرارتا ً ہاتھ ہلایا ، جواباً وہ بھی مسکرادیے۔ کچھ آگے 90 شاہراہ سے دائیں جانب سڑک پار کرکے ڈیوس روڈ کی جانب مڑنا تھا۔ خالی سڑک سمجھ کر جیسے ہی موٹرسائیکل موڑنے کی کوشش کی۔ اچانک لگا کوئی بالکل ساتھ میں جڑ گیا ہے۔ نگاہ ڈالی تو ایک پندرہ سولہ برس کا لڑکا جس کے پیچھے ایک بزرگ سوار تھے ، ان کی موٹرسائیکل کا پائیدان میرے پائیدان میں پھنس گیا ہے۔ دایاں ہاتھ ہینڈل سے اٹھا کر کوئی جلدبازی نہ دکھا نے کا اشارہ کیا لیکن تب تک دوسری موٹرسائیکل پر بیٹھے بزرگ نے گھبرا کر میری موٹرسائیکل کو ہاتھ سے دھکا دے دیا۔ بس اتنا یاد رہا ،موٹرسائیکل بائیں جانب کو جھکا ہے۔ جب ہوش آیا تو سڑک پہ منہ کے بل گھسٹتا ہوا جارہا تھا۔ درد کی ایک تیز لہر ٹانگ میں دوڑی ، دیکھا تو دائرہ بناتی بائیں ٹانگ نے اپنے ٹکڑے ہونے کا بتادیا۔ محض 10 سکینڈ میں دوبارہ سے باندھے سارے خواب ، وعدے اور عہد اردگرد بکھرے پڑے تھے۔

زندگی کے اس مشکل لمحے میں خیال گزرا۔ ہم زندگی بھر کتنے ہی عہد باندھتے ہیں ، توڑ دیتے ہیں۔ چھوٹے ہوتے کے خواب بڑے ہوتے ہوتے گم ہوجاتے ہیں ۔ زندگی کے ادھیڑ بن میں کولہو کا بیل بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس زلزلہ نما 10 سکینڈ نے سبق دیا۔ روزی روٹی کے گھن چکر میں اپنے خواب ٹوٹنے نہ دیں گے۔خود سے کیے اس عہد پر عمل ہونے میں بھی کئی برس لگ گئے لیکن آج کا یہ کالم بتاتا ہے ، خواب تعبیر پاتے ہیں۔ بس اتنا کہنا ہے آپ سے ،مجبوریوں ، رنجشوں کا رونا چھوڑیں۔ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلیں ، اس سے پہلے کہ کوئی حادثہ سب کچھ چھین لے ، مجھے تو زندگی نے ایک موقع دے دیا ، ضروری تو نہیں ،ایسا خوش قسمت ہرکوئی ٹھہرے۔

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا

جب لاد چلے گا بنجارہ


ای پیپر