انتخابی پرندوں کی اڑان کا موسم
18 مارچ 2018

2018ء کے انتخابات کے قریب آتے ہی مخصوص امیدواروں کے سیاسی جماعتوں کے تبدیل کرنے کا موسم بھی شروع ہو چکا ہے۔ جس طرح پرندے موسم کی سختیوں سے بچنے کے لئے اپنے ٹھکانے تبدیل کرتے ہیں اور سائیبیریا کے پرندے تو طویل سفر طے کر کے پاکستان تک پہنچتے ہیں، اسی طرح پاکستان میں انتخابات کے موسم کا آغاز ہوتے ہی مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے طاقتور اور بااثر امیدوار بھی اپنی سیاسی پروازوں کا آغازکر دیتے ہیں، جس طرح مچھلی پانی کے بغیرزندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح ہمارے کچھ سیاستدان بھی اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتے، ان کی سیاست اقتدار اور طاقت کے گرد گھومتی ہے۔ ایسے امیدواروں کا واحد سیاسی نظریہ اور اصول مستقل طور پر حکومت کا حصہ رہتا ہے۔ ان کی واحد سیاسی وفاداری اقتدر کے ساتھ ہوتی ہے۔
مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت ایسے بااثر، جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے طاقتور امیدواروں کو گلے لگانے کے لئے تیار رہتی ہے، اگر مخصوص امیدوار جوہر انتخاب سے پہلے اپنی جماعت تبدیل کرتے ہیں تو سیاسی جماعتیں بھی بغیر کسی سوال جواب کے ان امیدواروں کو خوش آمدید کہتی ہیں، دراصل سیاسی جماعتیں اور مسلسل وفاداریاں تبدیل کرنے والے یہ امیدواران نظریۂ ضرورت اور اقتدار کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں۔ اس لئے جیسے ہی حالات تبدیل ہوتے ہیں تو ان کی ضروریات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔ دراصل سیاسی وفاداریوں اور جماعتوں کی تبدیلی کے اس رجحان اور روایت کی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہئے کہ سیاسی جماعتیں اس رجحان اور روایت کی حوصلہ شکنی کریں۔ اس غیر سیاسی اور غیر اصولی رجحان کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ سیاسی کلچر اور جماعتوں کو مضبوط کریں۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو نچلی سطح اور حلقوں کی بنیاد پر منظم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ سیاسی قیادت نچلی سطح پر اپنی تنظیموں کو مضبوط اور متحرک کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ نچلی سطح پر پارٹی تنظیموں کے مضبوط ہونے سے سیاسی قیادت کو من مانی کے فیصلے کرنے میں دقت آتی ہے اور مقامی سطح پر سیاسی کارکنوں کا عمل دخل بڑھ جاتا ہے جبکہ ہماری سیاسی قیادت کو یہ پسند نہیں ہے۔ اس لئے سیاسی قیادت ایسے امیدواروں کے ذریعے حلقے جیتنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اس عمل کا سب سے نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ ان حلقوں میں نچلی سطح سے سیاسی کارکن اوپر نہیں آ سکتے، مثلاً اگر کسی حلقے میں تحریک انصاف یا مسلم لیگ ن کے سیاسی کارکن یا درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے امیدوار پانچ سال تک محنت کر کے اپنا ایک مقام اور سیاسی حیثیت بناتے ہیں اور پانچ سال کے بعد سیاسی قیادت اپنے امیدواروں کو نظرانداز کر کے کسی بااثر اور طاقتور کو ٹکٹ دے دیتی ہے تو ایسے سیاسی کارکنوں کی ساری محنت رائیگاں جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں ان کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں، وہ یا تواپنی جماعت میں رہیں اور اس امیدوار کی حمایت کریں یا پھر آزاد حیثیت میں انتخاب لڑیں۔ کچھ لوگ اسی وجہ سے سیاسی جماعتیں بھی تبدیل کرتے یں۔
بااثر اور طاقتور امیدواراپنے حلقوں میں اپنے مقامی گروپ بناتے ہیں۔ ان کی طاقت جہاں تعلقات، اثرورسوخ اور سرمائے میں ہے وہیں پر حلقوں کی سطح پر بااثر افراد اور خاندانوں کے گروپ بھی ان کی طاقت کی ایک وجہ ہیں۔ جب ایسے امیدوار پارٹی بدلتے ہیں تو ان کا پورا گروپ بھی پارٹی میں چلا جاتا ہے اور پھر اسی طرح یہ اس جماعت سے نکل جاتا ہے۔ ہمارے دیہی حلقوں میں انتخابی سیاست انہی مقامی گروپوں اور گروہوں کے گرد گھومتی ہے۔ ہر سیاسی جماعت ان گروپوں اور گروہوں کی بالادستی اور طاقت کو توڑنے کے بجائے ہر انتخاب کے بعد انہی کو مضبوط کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی تنظیمیں شہروں اور قصبوں تک محدود ہیں جبکہ ملک کے طول و عرض میں انہی مقامی گروپوں اور گروہوں کا راج ہے جو کہ برادریوں، قبیلوں، فرقوں اور گروہی مفادات کے گرد منظم ہیں۔
بظاہر تو انتخابات سیاسی اور جماعتی بنیادوں پر ہوتے ہیں اور سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی نشانوں سے ان میں حصہ لیتی ہیں مگر درحقیقت ہم ابھی تک 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم اگر دوقدم آگے بڑھتے ہیں تو چار قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے انتخابی نشانات پر دراصل یہی مقامی گروپ اور گروہ اپنے طاقتور اور بااثر امیدواروں کے ذریعے انتخابات لڑتے ہیں۔
یہاں پر صرف ایک حلقے کی صورت حال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری انتخابی سیاست کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اس حلقے کی مثال محض اپنی بات کوواضح کرنے کے لئے دے رہا ہوں نہ کہ کسی کو ہدف بنانے کے لئے۔ خانیوال کا انتخابی حلقہ این اے 156 (نئی حلقہ بندیوں کے مطابق (NA-150) جو کہ کبیر والہ شہر اور تحصیل کبیر والا کے دیہی علاقوں پر مشتمل ہے ایک بہت خاص حلقہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس حلقے کے تینوں نمایاں سب سے مضبوط امیدواروں نے 2002ء کے انتخابات سے لے کر 2013ء تک ہر انتخاب مختلف جماعتوں کے ٹکٹ پر لڑا ہے۔ اس حلقے سے لگاتار تین بار انتخابات جیتنے والے بیرسٹر رضا حیات ہراج اب تک چار جماعتیں بدل چکے ہیں وہ 2018ء کا انتخاب اب تحریک انصاف کے ٹکٹ پر لڑیں گے۔ 2002ء میں وہ پیپلزپارٹی کے امیدوار تھے۔ انتخاب جیتنے کے بعد وہ پیٹریاٹ میں چلے گئے، 2008ء میں مسلم لیگ ق کے امیدوار تھے جبکہ 2013ء کا انتخاب انہوں نے آزاد حیثیت میں لڑا اور بعد میں مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے۔ اب وہ ن لیگ کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں چلے گئے ہیں۔
اسی طرح اسی حلقے سے تعلق رکھنے والے ملک کے نامور اور صاف ستھری شہرت کے حامل سیاستدان سید فخر امام بھی اب تک تین جماعتیں بدل چکے ہیں۔ 2002ء میں مسلم لیگ ق میں تھے۔ 2008ء کا انتخاب انہوں نے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لڑا جبکہ 2013ء کے انتخابات میں ان کے پاس شیر کا انتخابی نشان تھا۔ اسی حلقے سے ایک اور امیدوار ڈاکٹر خاور علی شاہ پہلے مسلم لیگ (ن) میں تھے جبکہ 2013ء کا انتخاب انہوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر لڑا۔ اس حلقے کے تینوں امیدوار انتہائی تعلیم یافتہ ہیں۔ سید فخر امام سپیکر قومی اسمبلی رہے ہیں۔ رضا حیات وزیر مملکت رہے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود ان کے لئے مسلسل جماعتیں تبدیل کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس حلقے میں 1985ء سے سید خاندان اور ہراج خاندان ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے آ رہے ہیں۔
یہ صرف ایک حلقے کی کہانی نہیں ہے بلکہ ہمارے انتخابی نظام کی حقیقت ہے۔ یہ اب آپ کی مرضی ہے کہ اسے آپ اس نظام کی خوبی سمجھیں یاخرابی۔ خوبصورتی سمجھیں یا بدصورتی۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ جماعت چاہے تبدیلی کی دعویدار ہو یا سویلین بالادستی کے بخار میں مبتلا۔ سب اسی سیاست کوپروان چڑھا رہے ہیں۔ جمہوریت کی دعویدار بھی اسی سیاسی کلچر کوفروغ دے رہی ہے، ان حلقوں کے عوام کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس جماعت کی حکومت ہے، ان پر تو یہی مخصوص گروپ، افراد اور گروہ حکمرانی کر رہے ہیں۔


ای پیپر