شریف فیملی کی سیاست دو را ہے پر
18 مارچ 2018

یہ بات کچھ زیادہ پرانی نہیں جب آپ مسلم لیگ (ن) کے بانی شریف فیملی کی سیاست اور پالیسیوں پہ تو اعتراض کرسکتے تھے مگر ان کے خاندان کی یک جہتی اور یک مشت ہونے پہ سوال اٹھانے کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ یک جہتی برقرار رکھنے اور یک مشت رہنے کی خاصیت ہی وہ قوت تھی جس کی بناء پر شریف خاندان نے پاکستان پر سب سے زیادہ حکومت کی ۔ سب جانتے ہیں کہ میاں شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی میا ں نواز شریف کی اپنے والد بزرگوار کی طرح عزت اور احترام کیا۔ تاہم اب کچھ عرصے میں ان میں دراڑوں کی خبریں کبھی افواہوں اور کبھی اخباروں کی سرخیوں کے طور پر سامنے آنے لگی ہیں۔ گویا اب حالات میں تبدیلی محسوس ہونے لگی۔ بے شک شہباز شریف کا ایک اور طرۂ امتیاز اپنی خاندانی روایات سے جڑا ہونا بھی ہے ۔ تاہم فطرت کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ انسان اپنی اولاد سے محبت بھی فطرت کے اصول کے تحت کرتا ہے ۔ مگر یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان مقصود ہوتا ہے ۔ یہ امتحان ہوتا ہے کہ انسان اپنی اولاد سے محبت کے مقابلے میں انسانیت کے زریں اصولوں کے سامنے کس حد تک ٹھہرتا ہے ۔ اب اگر غور کریں تو میاں نواز شریف اور میاں شہباز اسی امتحان سے دوچار ہیں۔ سیاست کے میدان میں میاں نواز شریف کی دخترِ نیک اختر مریم نواز نہ صرف اپنے والد سے قدم ملا کر چل رہی ہیں، بلکہ گاہے بگاہے وہ اپنے والد سے آگے نکلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پارٹی سیاست کے بہت سے سینئر رہنماؤں کے سمجھانے کے باوجود وہ اداروں سے ٹکر لیتی نظر آتی ہیں۔ مریم نواز کی اداروں پہ مسلسل تنقید کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے سیاسی مخالفین ڈان لیکس کی پیدا کردہ مشکلات کا ذمہ دار انہیں ٹھہراتے ہیں۔ گو وہ یہ بات بغیر ثبوت کے ایک سنی سنائی بات کو آگے سنانے کے انداز میں کرتے ہیں، لیکن اس کا نقصان مریم نواز کی ساکھ کو پہنچ کے رہتا ہے ۔ دوسری طرف شہباز شریف اپنی پالیسی کے تحت اداروں سے ٹکر لینے کے سخت خلاف ہیں۔ میاں شہباز شریف کی سوچ کا یہ اثر ان کے بیٹے حمزہ شریف میں بھی واضح نظر آتا ہے ۔ لیکن حمزہ شہباز کا بڑا مسئلہ ان کی اصل ترجیح اپنے ذاتی کاروبار کو فروغ دینے سے جڑی ہوئی ہے ۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ شہباز شریف اپنے دل میں میاں نواز شریف کے احترام کے باوجود انہیں اداروں سے بنا کر رکھنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔ مگر میاں نواز شریف کا خوشامدی ٹولہ انہیں شہباز شریف کی دکھائی ہوئی راہ پہ چلنے سے روکتا ہے ۔ یہی ٹولہ مریم نواز کو بھی اداروں سے دور رکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔ مقامِ افسوس یہ ہے کہ خوشامدی ٹولے کی کوششیں رائیگاں نہیں جارہیں۔ سیاست کے میدان میں تجربے سے محروم مریم نواز اداروں کے خلاف بیان جاری کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتیں۔ کوئی شک نہیں کہ حمزہ شہباز اپنے تایا میاں نواز شریف کا دل سے احترام کرتے ہیں لیکن میاں نواز شریف کے وزارتِ عظمیٰ سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد اس منصب کا اہل اپنے والد میاں شہباز شریف کو سمجھتے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ میاں نواز شریف نے خود بھی اپنا جانشین میاں شہباز شریف کو مقرر کردیا ہے ۔ لیکن کیا کہیے کہ میاں نواز شریف کا یہ واضح اعلان بھی ان کے خلاف اڑنے والی افواہوں کا راستہ نہ روک سکا۔ یہ افواہیں مسلسل باور کرانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ میاں نواز شریف کے بعد وزارتِ عظمیٰ کا تاج مریم نواز کے سر پر رکھا جائے گا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ مریم نواز اور حمزہ شہباز کی بنیادی سوچ کے فرق نے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کردیا ہے ۔
یہ بات طے ہے کہ موروثی سیاست جمہوریت کی راہ میں ہمیشہ روڑے اٹکاتی ہے ۔ مگر وطنِ عزیز میں موروثی سیاست کی روش قابلِ قبول حد تک عام ہوچکی ہے ۔ اس کی ایک بڑی مثال پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کی ہے ۔ پیپلز پارٹی میں اس پہ کوئی دو رائے نہیں ہے کہ آصف علی زرداری کے بعد پا ر ٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہوں گے۔ لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پارٹی کے اہم فیصلوں میں بلاول بھٹو کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ یہ آصف زرداری کی تنہا پالیسیوں اور فیصلوں کا نتیجہ تھا کہ سینیٹ کا چیئرمین ان کا امیدوار صادق سنجرانی منتخب ہوا۔ جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) میں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کی دونوں بھائیوں کے درمیان بنائی ہوئی خلیج تھی کہ مسلم لیگ (ن) پاکستان کی اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں ناکام ہوئی۔ پیپلز پارٹی جو اپنی مقبولیت برے سے کھوچکی تھی، اسے جہاں عمران خان کی غلط پالیسیوں سے ابھرنے کا موقع ملا، وہیں اسے نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد سے فائدہ پہنچا۔ پھر لکھتا ہوں کہ میاں برادران میں احترام اور محبت کا رشتہ جوں کا توں موجود ہے لیکن اب دونوں برادران کو پارٹی کے اہم فیصلے اور پالیسیاں اپنی اپنی اولاد کے ہاتھ میں دینے کی بجائے اپنے ہاتھ میں لینا ہوں گی۔ ورنہ سیاست بہت بے رحم چیز ہے ۔ سیاست کا منظر ایک دن میں یکسر تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ تسلیم کرنا پڑے گا کہ سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی شکست اس کے لیے بہت بڑا سیٹ بیک ہے تاہم ایسا بھی نہیں کہ اب پارٹی کے لیے سنبھلنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اس کے لیے سب سے پہلے پارٹی کو اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی کو ردّ کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کو قومی مفادات کو ذاتی مفادات پہ ترجیح دینا ہوگی۔ میاں برادران کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مریم نواز اور حمزہ شہباز ابھی سیاست کے میدان میں ناتجربہ کار ہیں۔ لہٰذا ان کے چنے ہوئے راستے پر چلنے کی بجائے اپنا راستہ خود چننا ہوگا۔ سازشی اور مفاد پسند ٹولے سے جس میں اسحق ڈار اور پرویز رشید وغیرہ پیش پیش ہیں کنارہ کشی کرنا ہوگی۔ یہی نہیں بلکہ بیوروکریسی کو بھی ان کی حدود میں پابند کرنا ہوگا۔ اگر ہم وطنِ عزیز کی تاریخ کا بین السطور مطالعہ کریں تو جان جائیں گے کہ اس ملک کو کنگال کرنے سے لے کر دو لخت کرنے تک سیاست دانوں سے کہیں زیادہ سفید پوش بابو ملوث ہیں۔ دلخراش امر یہ رہا ہے کہ کرپٹ بابو احتساب کے عمل میں ہمیشہ اوجھل رہے۔ مگر اس مرتبہ جب ان پہ نیب کا کڑا ہاتھ پڑا ہے تو یہ سیااست دانوں کے پیچھے جائے پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ احد چیمہ سے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو ونس فار آل یعنی ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ کا لم کا ا ختتا م کر تے ہو ئے لکھنا چاہوں گا کہ مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ ایک انتہائی نازک موڑ ہے ۔ پارٹی کی اب پالیسیاں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو خود طے کرنا ہوں گی۔ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے جاری کردہ کسی بھی بیان کو پبلک ہونے سے پہلے میاں برادران کو اپنی نظروں سے گزارنا ہوگا۔


ای پیپر