مودی کے ارادے
18 مارچ 2018 2018-03-18

بھارت دشمن ملک ہے۔جو پلٹ کر بھیس بدل کر وار کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔تاکہ پاکستان اتنا کمزور ہو جائے کہ وہ گھٹنو ں پر کھڑاہو کر دست نگر ہو کر رہ جائے۔وہ کبھی ایل اوسی پر وار کرتا ہے کبھی وارکنگ باؤنڈری کو نشانہ بناتا ہے۔کبھی وہ بین الاقوامی سرحدوں پرا فواج کا بلڈ اپ کرتا ہے تاکہ پاکستان کی افواج کو بھی الرٹ حالت میں رہنا پڑے۔کبھی وہ مغربی بارڈر کے اس پار افغانستان میں اپنی پراکسیز کو استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کراتا ہے۔تا کہ عوام میں خوف و ہراس رہے۔بھارت اسی پر اکتفانہیں کرتا بلکہ وہ ہر بین الا قوامی فورم کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے۔تا کہ خارجہ محاذ ہو یا داخلی صورتحال پاکستان کو الرٹ حالت میں رہنا پڑے۔ایسی صورتحال کا شکار کر دیا جائے کہ فیصلہ سازوں کی توجہ بٹ جائے۔اور معیشت کی بہتری عوامی فلاح و بہبود کا معاملہ پس پشت چلا جائے۔بھارت کے مقاصد ہمہ جحت ہیں۔بھارت کسی صورت کشمیر سے دست بردار نہیں ہونا چاہتا۔کیونکہ ایک ریاست سے دست برداری کا مطلب ہے کہ متحدہ بھارت کا شیرازہ بکھرتے اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔اگر مقبوضہ کشمیر نے آزادی حاصل کر لی تو دیگر دو درجن ریاستیں بھی بھارتی غلامی کی زنجیریں اتار پھینکیں گی۔لہٰذا بھارت پاکستان کو تحریک آزادی کشمیر کی حمایت سے باز رکھنا چاہتا ہے۔دوسرے بھا رت پاکستان کو ایک ایسی کمزور طفیلی ریاست بنانا چاہتا ہے۔تاکہ وہ اپنے بوجھ تلے سسکتی رہے۔لیکن ان سب مقاصد کے علاوہ ایک تیسرا مقصد بھی ہے۔فوری اور ہنگامی بھارت کی اندرونی سیاست مودی کی مستقبل کی سیاست مودی کے اگلے الیکشن کی حکمت عملی میں دیگر پہلوؤں کے علاوہ ایک اہم نکتہ پاکستان اور ہندو اشرفیہ کا کردار بھی ہے۔انتہا پسندی کے عنصر کو مزیدہوا دیکر ہی مودی جی کے اگلے اقتدار کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔اگلے ٹرم کیلئے حصول اقتدار مودی جی کا خواب ہے۔اپنے اس خواب کی تعبیر کیلئے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔اس مقصد کیلئے پاکستان اور مسلمان کے خلاف نفرت کی فضا قائم کر نا ضروری ہے۔لہٰذا نفرت اور جنون کی آنچ کو دھیرے دھیرے تیز کیا جا رہا ہے۔شائد کوئی با خبر سوال کر دے کہ بھارت میں عام انتخابات کو پاکستان سے ایک سال بعد ہونے ہیں۔یعنی 2019 کے وسط میں موسم گرما میں۔تو ابھی سے تیاریاں کیوں۔اس کا جواب ہے کہ ضروری تو نہیں کہ عام انتخابات پانچ سالہ مدت مکمل ہونے پر ہی ہو ں۔قبل از وقت چناؤ بھی تو ہو سکتا ہے۔کیسے اس سوال کا جواب تلا ش کرتے ہیں۔
مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف کئی سمتوں سے یلغار کر رکھی ہے۔گزشتہ سال اس نے برکس نامی تنظیم کے سربراہی اجلاس میں پاکستان کو دہشت گرد قرار دلوانے کی بھر پور کوشش کی۔تاہم اس کوشش میں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔چونکہ چین اس کوشش میں مزاحم ہوا۔ حالانکہ اس تنظیم کے چھ میں سے چار سربراہ ممالک کے وزرائے اعظم اس بات پر متفق تھے۔اور جو مشترکہ اعلانیہ جاری ہو نا تھا۔اس میں خطے میں جاری دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کے باب پاکستان کی بعض نان اسٹیٹ تنظیموں کی جانب بھی اشارہ تھا۔لیکن چین نے اس حوالے سے ایک حقیقی دوست کا کردار اد ا کیا بھارت نے اس پر اکتفانہ کیا۔ہارٹ آف ایشیا کو سبو ٹاج کرنے کی کوشش کی۔ اس کانفرنس میں پاکستانی نمائندوں کے ساتھ بد سلوکی کی گئی۔اس سے پہلے اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس میں بھارتی وزیر نے تکبر کا مظاہرہ کیا اور کانفرنس کا ماحول خراب کر کے چلے گئے۔گزشتہ برس سارک سربراہی کانفرنس کی میز بانی اسلام آبا دنے کرنا تھی۔بھارت نے عین موقع پر شرکت سے انکار کر دیا۔یہ سربراہی اجلاس منعقد نہ ہو سکا۔گزشتہ چند سالوں سے بھارت کی کوشش ہے کہ وہ کسی طریقے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کر لے۔ اس حوالے سے بھارت کو سلامتی کونسل کے تین مستقل ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ایک مرتبہ پھر چین آگے بڑھا اور بھارت کی انٹری کا راستہ روکا۔کیونکہ چین کو معلوم ہے کہ ایک مرتبہ بھارت سلامتی کونسل میں داخل ہو گیا تو پھر اس کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا۔بھارت نے چور دروازے سے داخلے کی کوشش کی اور تجویز پیش کی کہ فی الحال اس کو ویٹو پاور کا درجہ نہ دیا جائے۔اوراس معاملہ کو مستقبل پر چھوڑ دیا جائے۔یہ ان ڈائریکٹ کی کوشش تھی۔ چین، پاکستان دونوں جانتے ہیں کہ بھارت کوویٹو پاور دینے کا کیا مطلب ہے۔گزشتہ سال ہی بھارت نے نیوکلیئر سپلائز گروپ کی رکنیت کی کوشش کی۔امریکی وزیر خارجہ نے کئی ممالک کا دورہ کر کے بھارت کیلئے لابنگ کی۔49 رکن ممالک میں سے اکثریت بھارت کے حامی تھے۔قریب تھا کہ وہ رکنیت حاصل کر لیتا۔یہاں ایک مرتبہ چین اور ترکی آگے آئے۔ چین کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر پاکستان کو رکنیت نہیں دی جاتی تو پھر بھارت کا بھی راستہ روکا جائے۔یہ کوشش بھی ناکام ہوئی۔ بھارت شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کا راستہ نہ روک سکا۔لہٰذا بھارت نے پاکستان کو فنانشل ٹاسک فورس کے جال میں پھنسانے کی کوشش کی۔جس میں بھارت کو جزوی کامیابی حاصل ہوئی۔ اور وہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈلوانے میں کامیاب ہو گیا۔اگلے چند ماہ میں پاکستان کو اس حوالے سے مزید سختیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان ساری کاروائیوں کے بعد بھارت نے سال نو کے آغاز سے ایل او سی پر بد ترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔اب تک پہلے تین ماہ میں ڈیڑھ ہزار سے زائد مرتبہ ایل او سی کی خلاف ورزیاں کی جا چکیں ہیں۔یہ والیم اس قدرزیادہ ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی چیخ اٹھا ہے۔کیونکہ بعض واقعات میں یواین مبصرین کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اب تک 85 پاکستانی شہری جاں بحق ہو چکے۔گزشتہ دو ہفتوں سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے ایک سو چے سمجھے منصوبے کے تحت نئی دہلی میں پاکستانی سفارتی عملہ پر یلغار کر رکھی ہے۔ایسی یلغار کہ نئی دہلی کی زمین ان پر تنگ کر دی گئی ہے۔سفارتی عملہ ان کے اہل خانہ بازار بھی نہیں جا سکتے۔خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار شکاری کتوں کی طرح ان کا تعاقب کر رہے ہیں۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے جائیں۔وہ اس کیلئے بہانے کی تلاش میں ہے۔
مودی جی نے جنونیت اور مذہبی انتہا پسندی کی آگ جلا کر سیاسی کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔اگر چہ بعض ریاستوں میں ناکامی ہوئی لیکن مجموعی طور پر 36 میں سے 19 ریاستوں میں بی جے پی اپنی حکومت بنا چکی کیونکہ اپوزیشن منتشر ہیں۔کانگریس ابھی فیصلہ سازی کے عمل سے گزر رہی ہے۔6 اہم ریاستوں میں سال رواں کے دسمبر میں ریاستی انتخابات منعقد ہونے ہیں۔ لہٰذا مودی کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دسمبر میں مڈ ٹرم الیکشن کر ادیں۔اپنی مقبولیت سے فائدہ اٹھائیں وہ مقبولیت جن کی بنیاد پاکستان دشمنی اور مسلمان سے نفرت ہے۔ مودی نفرت کی فضا سے فائدہ اٹھا کر لوک سبھاکی 307 نشستیں ہرحال میں جیتنا چاہتا ہے۔


ای پیپر